Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2911

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، يُكَفِّرُ اللّٰهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» . فَلَمَّا أَدْبَرَ نَادَاهُ فَقَالَ: «نَعَمْ إِلَّا الدَّيْنَ كَذٰلِكَ قَالَ جِبْرِيلُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي قتادة قال: قال رجل: يا رسول الله أرأيت إن قتلت في سبيل الله صابرا محتسبا مقبلا غير مدبر، يكفر الله عني خطاياي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نعم» . فلما أدبر ناداه فقال: «نعم إلا الدين كذلك قال جبريل» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے فرماتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا رسولاللّٰهفرمایئے اگر میںاللّٰهکی راہ میں صبر کرتے اور طلب اجر کرتے پیچھے ہٹتے نہیں بلکہ آگے بڑھتا مارا جاؤں تو کیااللّٰهمیری خطائیں مٹادے گا ۱؎رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا ہاں۲؎جب وہ شخص چل دیا تو اسے پکارا اور فرمایا ہاں قرض کے سواء حضرت جبرائیل نے یوں ہی کہا ہے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں بحالت جہاد صابر بھی ہوں،بہادربھی،غازی بھی اور آخر میں شہید بھی کیا اتنی صفات جمع ہونے پر میرے گناہ معاف ہوں گے یا نہیں۔
۲
؎یعنی ہاں تیرے سارے اگلے پچھلے صغیرہ کیبرہ گناہ معاف ہوں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ غازی شہید تمام گناہوں سے پاک و صاف ہوجاتا ہے۔
۳
؎یعنی اے شخص میرے فرمان کا مطلب غلط نہ سمجھنا ان تمام صفات سے گناہ معاف ہوں گے نہ کہ حقوق خصوصًا حقوق العباد وہ تو ادا کرنے سے ہی معاف ہوں گے،مجھے جبریل امین نے ابھی توجہ دلائی کہ تجھے یہ سمجھا دوں کہ تو میرا کلام غلط نہ سمجھے۔فقیر کی اس شرح سے بہت سے سوالات اُٹھ گئے،نہ یہ اعتراض پڑسکتا ہے کہ قرض گناہوں میں داخل ہی نہ تھا قرض تو حضور نے بھی لیا ہے پھر اس کے استثناء فرمانے کی کیا ضرورت تھی،نہ یہ کہ حضور انور کو تبلیغ کرنا نہ آتا تھا اس لیے جبریل امین نے تبلیغ کرنا سکھایا،نہ یہ کہ حضور انور نے پہلے اسے مسئلہ غلط کیوں بتلایا،تبلیغ میں غلطی تو شانِ نبوت کے خلاف ہے وغیرہ وغیرہ۔خیال رہے کہ یہاں نفس قرض کی معافی کا ذکر ہے جو جہاد و شہادت سے بھی نہیں ہوتی اور حج کے بیان میں قرض میں ٹال مٹول،جھوٹے وعدے،وقت پر ادا نہ کرنا مراد ہے جیسے بخشش کا وعدہ فرمایا گیا کہ حاجی کے قرض بھی معاف ہوجاتے ہیں یعنی قرض کے یہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جبریل امین نے قرآن کے علاوہ اوربھی چیزیں نازل فرمائی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2911