Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2917

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَرُوِيَ أَنَّ مُعَاذًا كَانَ يَدَّانُ فَأَتٰى غُرَمَاؤُهٗ إِلٰى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالَهٗ كُلَّهٗ فِي دَيْنِهٖ حَتّٰى قَامَ مُعَاذٌ بِغَيْرِ شَيْءٍ. مُرْسَلٌ هٰذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الْأُصُولِ إِلَّا فِي الْمُنْتَقٰى

وروي أن معاذا كان يدان فأتى غرماؤه إلى النبي صلى الله عليه وسلم فباع النبي صلى الله عليه وسلم ماله كله في دينه حتى قام معاذ بغير شيء. مرسل هذا لفظ المصابيح. ولم أجده في الأصول إلا في المنتقى

حدیث ترجمہ

اور مروی ہے کہ حضرت معاذ مقروض ہو جاتے تھے ۱؎ان کے قرض خواہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۲؎تو نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کے قرض میں ان کا سارا مال بیچ دیا حتی کہ حضرت معاذ خالی ہاتھ اٹھ گئے ۳؎یہ مصابیح کے لفظ ہیں اسے میں نے منتقیٰ کے سوا کسی اصول کی کتاب میں نہ پایا ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎حضرت معاذ ابن جبل رضی اللّٰہ عنہ کے مقروض ہوتے رہنے کی وجہ آگے آرہی ہے کہ آپ سخی بہت تھے قرض لے کر بھی خیرات و صدقات دیتے رہتے تھے۔
۲
؎کہ ہمار ا قرض ادا کرایا جائے۔معلوم ہوا کہ قرض خواہوں کا کچہری میں مقروض پر دعویٰ کرنا حاکم سے فریاد کرنا درست ہے،اس کی اصل یہ ہی حدیث ہے۔
۳
؎یہ حدیث مختصر ہے،اولًا حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حضرت معاذ کو قرض ادا کرنے کا حکم دیا،انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس روپیہ بالکل نہیں،پھر انکی رضا سے حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے ان کا مال نیلام فرمادیا یا فروخت کردیا، اب بھی اس پر ہی عمل ہے،ہاں اگر مقروض نہ تو ادائے قرض کرے،نہ اپنا مال فروخت کرے تب حاکم اسے قید کر دے تاکہ وہ اپنا مال خود فروخت کرے قرض ادا کرے یا حاکم کو فروخت کی اجازت دے،جبرًا حاکم اس کا مال فروخت نہیں کرے گا۔(مرقات)بعض صورتوں میں قرض خواہوں کے مطالبہ پر حاکم خود بھی فروخت کرسکتا ہے اور دیوالیہ و محجور بھی کرسکتا ہے کہ اعلان کردے کوئی اس سے لین دین نہ کرے یہ دیوالیہ ہے۔(حاشیہ مشکوٰۃ)
۴
؎یعنی یہ حدیث صحاح ستہ وغیرہ کتب حدیث میں نہیں صرف ابن تیمی حنبلی کی کتاب منتقیٰ میں ہے۔صاحب مشکوۃ کا مقصد یہ ہے کہ میری تلاش میں کمی ہے کہ مجھے کتب اصول میں یہ حدیث نہ ملی ان میں ہے ضرور،اگر نہ ہوتی تو منتقیٰ میں نہ ہوتی لہذا یہ مصابیح پر اعتراض نہیں بلکہ دفع اعتراض ہے۔خیال رہے کہ ہم احناف کے ہاں مرسل حدیث قبول ہے،جیسا کہ کتب اصول میں مصرح ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2917