Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2921

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَاتَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنَ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه والدَّارِمِيُّ

وعن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من مات وهو بريء من الكبر والغلول والدين دخل الجنة» . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ جو اس حال میں مرے کہ وہ غرور خیانت اور قرض سے پاک و صاف ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎کبریعنی غرور یہ ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے اور اپنے کو اونچا جانے یہ ممنوع ہے،کفار پر کبر خصوصًا جہاد میں ثواب ہے،انبیاء و اولیاء پر کبر کفر ہے۔غلول غلٌّسے بنا بمعنی بندھنا،چونکہ خیانت کی وجہ سے قیامت میں انسان کے ہاتھ بندھے ہوں گے، گرفتار ہوگا اس لیے اسے غلول کہتے ہیں۔غلّغکے کسرہ سے عداوت و کینہ اورغکے فتح سے قید و بند،اگرچہ غلول غنیمت میں خیانت کو کہتے ہیں مگر یہاں مطلقًا خیانت مراد ہے خواہ مال کی ہو یا عزت و آبرو کی یا دین و ایمان کی یا کسی کے اسرار وبھید کی۔(ازلمعات)دَین کے معنے ہم عرض کرچکے ہیں۔ممکن ہے کہ یہاں دین سے مراد بندوں کا قرض،شریعت کا اور رب کا سب ہی ہوں لہذا یہ حدیث بہت جامع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2921