Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2907

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مطل الغني ظلم فإذا أتبع أحدكم على مليء فليتبع»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ رسو لاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا غنی کا ٹال مٹول ظلم ہے ۱؎اور جب تم میں سے کسی کا قرض غنی پر حوالہ کیا جائے تو حوالہ قبول کرلے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس مقروض کے پاس ادائے قرض کے لیے پیسہ ہو پھر ٹالے تو وہ ظالم ہے اسے قرض خواہ ذلیل بھی کرسکتا ہے اور جیل بھی بھجواسکتا ہے،یہ شخص مقروض گنہگار بھی ہوگا کیونکہ ظالم گنہگار ہوتا ہی ہے۔
۲
؎حوالہ کے معنی ہیںنقل ذمۃ الی ذمۃیعنی اپنا قرض دوسرے کے ذمہ ڈال دینا۔اتبعباب افعال کا ماضی مجہول ہے یعنی تابع بنایا جائے،ملئٌبمعنی غنی جس کی جیب مال سے بھری ہو،یہ امر استحبابی ہے یعنی اگر تمہارا مقروض تم سے کہے کہ میرا قرض فلاں سے وصول کرلینا اور وہ فلاں بھی قبول کرلے تو بہتر ہے کہ اس مقروض کا پیچھا چھوڑ دو اور اس غنی سے ہی وصول کرلو،تمہیں تو اپنے قرض سے غرض ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2907