Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2923

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا وَالْمُسْلِمُونَ عَلٰى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَانْتَهَتْ رِوَايَتُهٗ عِنْدَ قَوْلِهٖ: "شُرُوطِهِمْ".

وعن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما» . رواه الترمذي وابن ماجه وأبو داود وانتهت روايته عند قوله: "شروطهم".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن عوف مزنی سے ۱؎وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا مسلمانوں میں صلح جائز ہے ۲؎بجز اس صلح کے جو حلال کو حرام کردے یا حرام کو حلال ۳؎اور مسلمان اپنی شرطوں پر رہیں،بجز اس شرط کے جو حلال کو حرام کرے یا حرام کو حلال ۴؎(ترمذی،و ابن ماجہ،ابوداؤد)اور ابوداؤد کی روایتشروطھمپر ختم ہوگئی ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ قدیم الاسلام صحابی ہیں،آپ کے ہی متعلق یہ آیت کریمہ اتری"تَوَلَّوۡا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِمدینہ منورہ میں رہے،وہیں امیر معاویہ کے آخر زمانہ میں انتقال فرمایا۔
۲
؎چونکہ اکثر قرض کے موقعہ پر ہی صلح کرائی جاتی ہے کہ کچھ قرض خواہ کو دبایا جاتا ہے کچھ مقروض کو کہ قرض خواہ کچھ معاف کردے اور مقروض جلدی ادا کردے اس لیے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث دیوالیہ مقروض کے باب میں لائے۔
۳
؎مثلًا زوجین میں اس طرح صلح کرائی جائے کہ خاوند اس عورت کی سوکن(اپنی دوسری بیوی)کے پاس نہ جائے گا یا مسلمان مقروض اس قدر شراب و سود اپنے کافر قرض خواہ کو دے گا۔پہلی صورت میں حلال کو حرام کیا گیا، دوسری صورت میں حرام کو حلال،اس قسم کی صلحیں حرام ہیں جن کا توڑ دینا واجب ہے۔
۴
؎یعنی مسلمان نے جس سے جو شرط کی ہو اسے پورا کرے۔اس میں وعدے،کرائے،قیمتیں سب داخل ہیں۔ہاں حرام شرطوں کا توڑ دینا واجب ہے کیونکہ حقاللّٰهاور حق شریعت سب پر مقدم ہے۔
۵
؎یہ حدیث احمد،ابوداؤد،حاکم نے حضرت ابوہریرہ سے پہلا جملہ نقل فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2923