Main Icon

باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2901

تجارتوں کا بیان - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ: إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا تَجَاوَزْ عَنْهُلَعَلَّ اللهُ أَن يَتَجَاوَزُ عَنَّا قَالَ: فَلَقِيَ اللّٰهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ "(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " كان رجل يداين الناس، فكان يقول لفتاه: إذا أتيت معسرا تجاوز عنهلعل الله أن يتجاوز عنا قال: فلقي الله فتجاوز عنه "(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک شخص لوگو ں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوکر کو اسے اس نے کہہ رکھا تھا ۱؎کہ جب تو کسی تنگ دست کے پاس تقاضا کو جائے توا سے معاف کردے ۲؎ہوسکتا ہے کہاللّٰهہم کو معافی دے دے فرمایا کہ وہاللّٰهسے ملا تو رب نے اس سے در گزر فرمائی ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎نوکر سے وہ نوکر مراد ہے جو مقروضوں سے تقاضا کرنے کو مقرر تھا جیسا کہ عام تجار ساہوکار ایسے لوگ رکھتے ہیں۔فتیساتھی کو بھی کہتے ہیں نوکرو غلام کو بھی،اس کے لغوی معنی ہیں جوان۔
۲
؎یا سارا قرض معاف کردے یا کچھ قرض یا مہلت دے دے کہ جلدی تقاضا نہ کرے،معافی میں یہ سب کچھ داخل ہے۔
۳
؎کہ اس کے سارے گناہ بخش دے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ غلام یا نوکر کو قرض وصول کرنے کا وکیل کرسکتے ہیں۔دوسرے یہ کہ وکیل کو معافی یا نرمی کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔تیسرے یہ کہ دعا میں جمع کے صیغے استعمال کرنا بہتر ہے کہ اس نے کہا تھاعنَّاکہ اگر ایک کے حق میں دعا قبول ہوگئی توان شاءاللّٰهسب کے حق میں قبول ہوجائے گی،چوتھے یہ کہ گزشتہ دین کے احکام ہمارے لیے بھی قابل عمل ہیں جب کہ قرآن یا حدیث میں نقل ہوں۔(نووی،مرقات)پانچویں یہ کہ اپنے مقروض پر مہربانی کرنا اپنی بخشش کا ذریعہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2901