Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1857

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ يَكْفُلُ لِي أَن لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا فَأَتَكَفَّلَ لَهُ بِالْجَنَّةِ؟ " فَقَالَ ثَوْبَانُ: أَنَا، فَكَانَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن ثوبان قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من يكفل لي أن لا يسأل الناس شيئا فأتكفل له بالجنة؟ " فقال ثوبان: أنا، فكان لا يسأل أحدا شيئا. رواه أبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو مجھے اس کی ضمانت دے کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے گا تو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۲؎ حضرت ثوبان نے کہا میں تو کسی سے کچھ نہ مانگتا تھا۳؎ (ابو داؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱؎ آپ ثوبان ابن وجد ہیں،آپ کی کنیت ابوعبد اللہ یا ابوعبدالرحمن ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں ،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکہ معظمہ اور یمن کے درمیان مقام سرات میں خریدا،آپ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک سفروحضر میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہے کبھی جدا نہ ہوئے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ میں دل نہ لگا توشام چلے گئے،مقام املہ میں کچھ دن رہے،پھر مقام حمص میں رہے،وہیں ۵۴ھ میں وفات پائی،بہت مخلوق نے آپ سے احادیث لی ہیں۔
۲؎ یعنی جو مجھ سے بھیک نہ مانگنے کا عہد کرے تو میں اس کی چار چیزوں کا ذمہ دار ہوتا ہوں،زندگی تقویٰ پر، موت ایمان پر ،کامیابی قبر میں،چھٹکارا حشر میں کیونکہ جنت ان چار چیزوں کے بعد نصیب ہوگی۔اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جنت کا مالک و مختار بنایا ہے کیونکہ بغیر اختیار ضمانت کیسی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ سوال سے بچنے والے کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امان میں لے لیتے ہیں،پھر اس پر نہ شیطان کا داؤ چلے نہ نفس امارہ قابو پائے،جسے وہ اپنے دامن میں چھپا لیں اس کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا تصرف اور حضور علیہ السلام کی امن و امان عالم میں قیامت تک جاری ہے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ضمانت صرف صحابہ کے لیے نہیں تا قیامت ہر سوال سے بچنے والے مومن کے لیے ہے۔شعر
ڈھونڈا ہی کریں صدر قیامت کے سپاہی
وہ کس کو ملے جو ترے دامن میں چھپا ہو
یہاں شیخ نے فرمایا کہ انبیاءکرام کی یہ ضمانتیں باذن الٰہی ہیں اور برحق ہیں حتی کہ ایک پیغمبر کا نام ہی ذی الکفل ہے کیونکہ وہ اپنی امت کے لیے جنت کے کفیل ہوگئے تھے۔
۳؎ یعنی سب سے پہلے اس حدیث پر خود حضرت ثوبان نے ایسا عمل کیا کہ وفات تک کسی سے کچھ نہ مانگا۔ معلوم ہوا کہ علم پر عالم پہلے خود عمل کرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1857