Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1852

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ فَأَنْزَلَهَا بِالنَّاسِ لَمْ تُسَدَّ فَاقَتُهُ، وَمَنْ أَنْزَلَهَا بِاللَّه أَوْشَكَ اللَّهُ لَهُ بِالْغِنَى، إِمَّا بِمَوْتٍ عَاجِلٍ أَوْ غِنًى آجِلٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من أصابته فاقة فأنزلها بالناس لم تسد فاقته، ومن أنزلها بالله أوشك الله له بالغنى، إما بموت عاجل أو غنى آجل". رواه أبو داود والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جسے فاقہ پہنچے وہ اسے لوگوں پر پیش کرے تو اس کا فاقہ بند نہ ہوگا ۱؎ اور جو اسے اللہ پر پیش کرے اسے بہت جلد غنی کر دے گا یا فوری موت سے یا آئندہ غنا سے۲؎ (ابوداؤد،ترمذی)

شرح حدیث

۱؎ یعنی اپنی غریبی کی شکایت لوگوں سے کرتا پھرے اور بے صبری ظاہر کرے اور لوگوں کو اپنا حاجت رواں جان کر ان سے مانگنا شروع کردے تو اس کا انجام یہ ہوگا کہ اسے مانگنے کی عادت پڑ جائے گی جس میں برکت نہ ہوگی اور ہمیشہ فقیر ہی رہے گا۔
۲؎ یعنی جو اپنا فاقہ لوگوں سے چھپائے،رب تعالٰی کی بارگاہ میں دعائیں مانگے اور حلال پیشہ میں کوشش کرے تو رب تعالٰی اسے مانگنے کی ضرورت ڈالے گا ہی نہیں،اگر اس کے نصیب میں دولت مندی نہیں ہے تو اسے ایمان پر موت نصیب کرکے جنت کی نعمتیں عطا فرمائے گا اور اگر دولتمندی نصیب میں ہے تو وہ جلدی نہ سہی دیر سے ہی عطا فرمادے گا کہ اس کی کمائی میں برکت دے گا۔ہماری اس تقریر سے یہ اعتراض اٹھ گیا کہ موت سے غنا کیسے حاصل ہوتی ہے کیونکہ پہلے غنا سے مراد مالداری نہیں بلکہ لوگوں سے بےنیازی ہے۔ خیال رہے کہ آدمی مرکر لوگوں کے مال سے بے نیاز ہوجاتا ہے اگرچہ ان کے ایصال ثواب کا منتظر رہتا ہے، یہاں مالی غنا مراد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1852