Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1845

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي. فَقَالَ: "خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، ومَا لَا، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عمر بن الخطاب قال: كان النبي -صلی اللہ عليه وسلم- يعطيني العطاء فأقول: أعطه أفقر إليه مني. فقال: "خذه فتموله وتصدق به، فما جاءك من هذا المال وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه، وما لا، فلا تتبعه نفسك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دینا چاہتے تو میں عرض کرتا کہ یہ مجھ سے زیادہ حاجت مندکو عطا فرمائیے ۱؎ تو آپ فرماتے یہ لے لو اسے مال بنا لو اس کو صدقہ کرو تمہیں جو مال بغیر طمع اور بغیر مانگے ملے اسے لے لیا کرو اور جو نہ ملے اس کے پیچھے اپنے کو نہ لگاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱؎ صحبت پاک مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تاثیر تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صرف غنی نہیں بلکہ غنی تر وغنی گر ہوگئے،مانگنا تو کیا بغیر مانگے آتی ہوئی چیز میں بھی ایثار ہی کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنے پر ترجیح دیتے ہیں،اپنے دور خلافت میں جب فارس اور روم کے خزانے مدینہ میں لاتے ہیں تو اس وقت بھی خود ایک قمیض ہی دھو دھو کر پہنتے ہیں رضی اللہ تعالٰی عنہ۔
۲؎ سبحان الله ! کیا بے مثال تعلیم ہے۔مقصد یہ ہے کہ جو بغیر مانگے اور بغیر طمع کے ملے وہ رب تعالٰی کا عطیہ ہے اسے نہ لینا گویا اس عطیہ کی بے قدری ہے دنیا والوں سے استغناء اچھا اور اللہ و رسول کا ہمیشہ محتاج رہنا اچھا۔مشائخ کرام معمولی نذرانہ بھی قبول کرلیتے ہیں،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے پھر کیا خوب فرمایا کہ تم خود لے کر صدقہ کردو تاکہ تمہیں لینے کا بھی ثواب ملے اور دینے کا بھی۔
حکایت: حضرت بنان حمّالی کا پیشہ کرتے تھے ایک بار امام احمد بن حنبل کا کچھ سامان اجرت پر گھر پہنچایا وہاں تنور سے روٹیاں نکلتی دیکھیں،امام احمد نے اپنے بیٹے سے کہا کہ دو روٹیاں بنان کو بھی دے دو بنان نے انکار کردیا جب چلے گئے تو امام نے پھر دو روٹیاں ان کے پاس بھیجیں بنان نے قبول کرلیں،کسی نے امام احمد سے بنان کے اس رویّہ کی وجہ پوچھی کہ انہوں نے پہلے کیوں نہ لیں پھر کیوں لے لیں،امام نے فرمایا کہ وہ مرد متقی ہے پہلے ان کے نفس میں انتظار پیدا ہوچکا تھا نہ لیں،لوٹ جانے کے بعد مایوس ہوگئے تھے پھر لے لیں اور آپ نے یہی حدیث پڑھی۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1845