Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1840

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ، فوَاللّٰهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن معاوية قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "لا تلحفوا في المسألة، فوالله لا يسألني أحد منكم شيئا فتخرج له مسألته مني شيئا وأنا له كاره فيبارك له فيما أعطيته". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مانگنے میں زاری(ضد)نہ کرو ۱؎ اللہ کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا تم میں سے کوئی مجھ سے کچھ مانگے اسکا مانگنا مجھ سے کچھ نکلوائے حالانکہ میں ناخوش ہوں تو اسے میرے عطیہ میں برکت دی جائے ۲؎ (مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سوال پر اڑ نہ جائے کہ سامنے والا دینا نہ چاہے اور تم بغیر لئے ٹلنا نہ چاہو،مانگنا ایک عیب ہے اور اس پر اڑنا دس گناہ عیب، رب تعالٰی فرماتاہے:"لَا یَسْئَلُوۡنَ النَّاسَ اِلْحَافًا
۲
؎حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر تو اپنا فرمایا مگر قانون کلی فرمایا کہ جو بھکاری ضد یا اڑسے بھیک وصول کرے دینے والا دینا نہ چاہے تو اس بھیک میں سخت بے برکتی ہوگی۔امام غزالی فرماتے ہیں جو فقیر یہ جانتے ہوئے بھیک لے کر دینے والا محض شرم و ندامت کی وجہ سے دے رہا ہے اس کا دل دینے کو نہ چاہتا تھا تو یہ مال بھکاری کے لیے حرام ہے۔خیال رہے کہ بھکاری کی ضد اور ہے چندہ کرنے والوں کا لحاظ کچھ اور،ضد حرام ہے لحاظ کا یہ حکم نہیں۔آج مسجدوں،مدرسوں کے چندوں میں عمومًا دیکھا گیا ہے کہ شہر کا بڑا معزز مالدار آدمی زیادہ وصول کرسکتا ہے،پھر اپنے لیے مانگنے اور دینی کاموں کے لیے چندہ کرنے کے احکام میں بھی فرق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1840