Main Icon

باب: مانگنا کسے حلال نہیں اور کسے حلال ہے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1850

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيِّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ، أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِهِ مَالَهُ كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ،فَمَنْ شَاءَ فَلْيُقِلَّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُكْثِرْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن حبشي بن جنادة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إن المسألة لا تحل لغني ولا لذي مرة سوي إلا لذي فقر مدقع، أو غرم مفظع ومن سأل الناس ليثري به ماله كان خموشا في وجهه يوم القيامة، ورضفا يأكله من جهنم،فمن شاء فليقل ومن شاء فليكثر". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حبشی ابن جنادہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ تو غنی کو سوال جائز ہے نہ درست اعضاء والے کو مگر زمین سے ملے ہوئے فقیر یا رسوائی والے مقروض کو ۲؎ اور جو لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگے تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے کے کھرونچے ہوں گے اور دوزخ کے انگارے جسے وہ کھائے گا اب جو چاہے وہ کم کرے جو چاہے بڑھائے ۳؎ (ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎ان کی کنیت ابو الجنوب ہے،قبیلہ بنی بکر ابن ہوازن سے ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع میں دیکھا،آپ کا شمار اہل کوفہ میں ہے۔
۲
؎یہ استفتاءصَحِیْحُ الْاَعْضَاءسے ہے یعنی تندرست آدمی ان دونوں صورتوں میں مانگ سکتا ہے،ایک سخت فقیر ی جو اسے خاک نشین بنادے جس سے نہ وہ کہیں کاروبار کر سکے نہ کمانے کے لیے سفر،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْ مِسْکِیۡنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ"۔یاایسا مقروض جس کے قرض خواہ اس کی آبرو کے درپے ہوگئے ہوں وہ اگرچہ تندرست ہے مگر ان مصیبتوں کے دفعیہ کے لیے مانگ سکتا ہے۔
۳
؎یہ آخری جملہ اختیار دینے کے لیے نہیں بلکہ اظہار غضب کے لیے ہے،جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنۡ شَآءَ فَلْیُؤْمِنۡ وَّمَنۡ شَآءَ فَلْیَکْفُرْرِضْفٌ رِضْفَۃٌکی جمع ہے،رضفہوہ تیز گرم پتھر ہے جس سے دودھ ابالا جاتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1850