Main Icon

باب :نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 572

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مُرُوْا أَوْلَادَكمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِيْنَ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِيْنَ، وَفَرِّقُوْا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَكَذَا رَوَاهُ فِيْ "شَرْحِ السُّنَةِ" عَنْهُ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مروا أولادكم بالصلاة وهم أبناء سبع سنين، واضربوهم عليها وهم أبناء عشر سنين، وفرقوا بينهم في المضاجع". رواه أبو داود، وكذا رواه في "شرح السنة" عنه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوں اورانہیں نماز پر مارو جب وہ دس سال کے ہوں ۱؎اور علیحدگی کر دو ان کے درمیان خوابگاہ ہوں میں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ان عمروں میں اگرچہ ان پر نماز فرض نہیں کہ وہ نابالغ ہیں لیکن عادت ڈالنے کے لئے انہیں ابھی سے نمازی بناؤ،چونکہ دس سال کی عمر میں بچے کو سمجھ بوجھ کافی ہوجاتی ہے اس لئے مارنے کا بھی حکم دیا،چونکہ نماز زیادہ اہم ہے اس لیے اس ہی پر مارو وغیرہ کا حکم دیا گیا۔مُرُوْاسے معلوم ہوا کہ بچے کو سات سال سے پہلے بھی رغبت دی جائے مگر اس کا حکم سات سال کی عمر میں۔
۲
؎یعنی بہن بھائیوں کو علیحدہ بستروں پر سلاؤ کہ اب وہ مراہق یعنی قریب بلوغ ہوگئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 572