Main Icon

باب :نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 571

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلُّوْا خَمْسَكُمْ، وَصُوْمُوْا شَهْرَكُمْ، وَأَدُّوْا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيْعُوا ذَا أَمْرِكُمْ، تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي أمامة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "صلوا خمسكم، وصوموا شهركم، وأدوا زكاة أموالكم، وأطيعوا ذا أمركم، تدخلوا جنة ربكم". رواه أحمد والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت ابو امامہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پانچ نمازیں پڑھو اوراپنے مہینہ کا روزہ رکھو اور اپنے مالوں کی زکوۃ دو اپنے حکم والے کی اطاعت کرو ۱؎اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ ۲؎(احمدوترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎حکم والوں سےخلیفۃ المسلمین،اسلامی حکام،علمائے دین سب ہی مرادہیں۔اطاعت سے مراد ان کے جائز احکام میں فرمانبرداری کرنا ہے،خلاف شرع حکم کی اطاعت لازم نہیں،چونکہ رمضان کے روزے صرف اسی امت پر فرض ہوئے اس لیئےشَہْرُکُمْفرمایا،زکوۃ روزے کے بعدفرض ہوئی اس لئے اس کا ذکربھی روزے کے بعدہوا۔
۲
؎اعمال کی نسبت بندوں کی طرف کی اور جنت کی رب کی طرف تاکہ خریدوفروخت کے معنی ظاہر ہوں،فرماتا ہے:"اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی"۔خیال رہے کہ مختلف احادیث مختلف اوقات کی ہیں جس زمانہ میں کوئی عبادت نہ آئی تھی تب فرمایا گیا جس نے کلمہ پڑھ لیاجنتی ہوگیا جب نمازآگئی تونمازہی پرجنت کا وعدہ فرمایا گیا اورجب زکوۃ روزے وغیرہ بھی آگئے تب جنتی ہونے کے لئے ان اعمال کی بھی قید لگی،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 571