Main Icon

باب :نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 566

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَأَخْبَرَهُ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰى: وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِوَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ أَلِيْ هٰذَا؟ قَالَ: "لِجَمِيْعِ أُمَّتِيْ كُلِّهِمْ"وَفِيْ رِوَايَةٍ: "لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِيْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن مسعود قال: إن رجلا أصاب من امرأة قبلة، فأتى النبي -صلى الله عليه وسلم- فأخبره، فأنزل الله تعالى: وأقم الصلاة طرفي النهاروزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات فقال الرجل: يا رسول الله ألي هذا؟ قال: "لجميع أمتي كلهم"وفي رواية: "لمن عمل بها من أمتي". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ ایک مرد نے کسی عورت کا بوسہ لیا ۱؎پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا آپ کو یہ خبر دی ۲؎تب الله تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ دن کے کناروں اور رات کی ساعتوں میں نمازقائم کرو۳؎نیکیاں گناہ دورکرتی ہیں اس نے کہایارسول الله!کیایہ صرف میرے لیئے ہے فرمایامیری ساری امت کے لیئے اور ایک روایت میں ہے کہ میری امت سے جو یہ عمل کرے ۴؎(مسلم بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ان مرد کا نام ابوالیسر ہے،کھجوروں کی دکان کرتے تھے،ایک عورت خریدنے کے لئے آئی،ان کا دل اس کی طرف مائل ہوگیا،بولے اچھی کھجوریں گھر میں ہیں،اس بہانے سے اندر لے جاکربوسہ لے لیا،وہ بولی الله کے بندے خدا سے ڈر،یہ سخت نادم ہوئے اس لئے ثابت ہو اکہ اجنبی عورت سے تنہائی بڑی خطرناک ہے۔(اشعۃ،مرقاۃ)
۲
؎صحابہ کرام خطائیں معاف کرانے کے لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اس آیت پر یہ عمل کرتے ہوئے "وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ"الا یہ۔اب بھی ہم گنہگاروں کو معافی کے لیے اس آستانے پر حاضری ضروری ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ وہ صرف مدینہ میں رہتے ہیں بلکہ مؤمنوں کے سینے ان کا کاشانۂ رحمت ہیں۔
۳
؎مرقاۃ نے فرمایا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایامیں اپنے رب کے حکم کا انتظارکرتا ہوں عصر کے بعد یہ آیت اتری۔خیال رہے کہ نماز فجراورظہر دن کے اس کنارے کی نمازیں ہیں اورعصرومغرب دوسرے کنارے کی اورعشاءرات کی،لہذا یہ آیت پانچویں نمازوں کو شامل ہے،زلف زلفتسے بنا،بمعنی قرب یعنی رات کا وہ ٹکڑا جو دن سے قریب ہے۔رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ اِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ۴؎یعنی یہ آیت اگرچہ تیرے بارے میں اتری مگر اس کا حکم عام ہے۔کوئی مسلمان کوئی گناہ صغیرہ کرے اس کی نمازیں وغیرہ معافی کا ذریعہ ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اجنبیہ سے خلوت اور بوس وکنار گناہ صغیرہ ہے،ہاں یہ جرم بار بارکرنے سے کبیرہ بن جائے گا کیونکہ صغیرہ پر دوام کبیرہ ہے اوریہ جان کربوس وکنارکرنا کہ نماز سے معاف کرالیں گے کفر ہے،کہ یہ الله پر امن ہے۔یہ حدیث اس کے لئے ہے جو اتفاقًا ایسا معاملہ کر بیٹھے پھر شرمندہ ہوکر توبہ کرے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اس میں ان حرکتوں کی اجازت دے دی گئی۔یہاںمِنْ اُمَّتِیفرمانے سے معلوم ہوا کہ یہ آسانیاں صرف اس امت کے لئے ہیں گزشتہ امتوں کی معافی بہت مشکل سے ہوتی تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 566