Main Icon

باب :نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 567

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنِّيْ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَليَّ، قَالَ: وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْهُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-، فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- الصَّلَاةَ، قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنِّيْ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ عَلَيَّ كِتَابَ اللّٰهِ، قَالَ: "أَلَيْسَ قَدْ صَلَّيْتَ مَعَنَا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "فَإِنَّ اللّٰهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ ذَنْبَكَ أَو حَدَّكَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: جاء رجل فقال: يا رسول الله إني أصبت حدا فأقمه علي، قال: ولم يسأله عنه وحضرت الصلاة، فصلى مع رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، فلما قضى النبي -صلى الله عليه وسلم- الصلاة، قام الرجل فقال: يا رسول الله إني أصبت حدا فأقم علي كتاب الله، قال: "أليس قد صليت معنا؟ " قال: نعم، قال: "فإن الله قد غفر لك ذنبك أو حدك". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حاضرہوا بولایارسول الله!میں حدکو پہنچ گیا ۱؎وہ مجھ پرقائم فرمادیجئے فرماتے ہیں اس سے حضور نے کچھ پوچھا نہیں ۲؎نماز حاضر ہوئی اس نے حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۳؎جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کرلی وہ کھڑا ہوگیا عرض کیایارسول الله! میں نے حدپائی مجھ پر الله کی کتاب قائم کردیں۴؎فرمایا کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی عرض کیا ہاں فرمایا الله نے تیرا گناہ یا تیری حدبخش دی ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میں نے ایسا گناہ کرلیا جو شرعی سزا کا باعث ہے۔حد سزائے مقرر کو کہتے ہیں جیسے زانی کے لئے سنگساری اورچور کے ہاتھ کاٹنا۔تعزیر وہ سزا ہے جو شرعًا مقرر نہ ہوقاضی اپنی رائے سے مقرر کرے۔ان بزرگوں نے کوئی معمولی گناہ کیا تھا مگر سمجھے یہ کہ شاید اس میں بھی سزائے شرعی ہوگی۔یاحدلغوی معنی میں ہےیعنی مطلقًا سزا۔
۲
؎کیونکہ حضورانورکو کشف سے معلوم تھا کہ انہوں نے معمولی جرم کیا تھا اورپوچھنے سے ان کی رسوائی ہوگی یہ ہے شان ستاری۔(ازمرقاۃ)
۳
؎صرف ایک نمازیہ نمازعصرتھی جیسا کہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔
۴
؎لائق حدہویا نہ ہوجوبھی فرمان الٰہی ہوحدیاکفارہ یاکوئی اورچیز اسی لئے یہاں کتاب الله فرمایا۔یہ صحابہ کرام کی قوتِ ایمانی ہے کہ دوسرے مجرم اپنے جرم چھپاکرجان بچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ حضرات اپنے قصورظاہرکرکے جانوں پرکھیل کرایمان بچاتے ہیں۔
۵
؎یعنی جس گناہ کو تونے قابلِ حدسمجھا تھا وہ اس نماز کی برکت سے معاف ہوگیا،لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ نمازسے شرعی سزائیں معاف ہوجاتی ہیں۔خیال رہے کہ گناہ صغیرہ پرکبھی حدنہیں ہوتی اورسواءڈکیتی کی حد کے کوئی حد توبہ سے معاف نہیں ہوتی،ڈاکو اگرگرفتاری سے پہلے توبہ کرے تو سزا نہیں پاتا،یونہی اگر کافربعدزنا مسلمان ہوجائے تو رجم وغیرہ کا مستحق نہیں۔(مرقاۃ) شیخ عبدالحق نے فرمایامَعَنَاسے معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازپڑھنا گناہوں کی معافی کے لیے اکسیر ہے۔نماز کی عظمت امام کی عظمت کے مطابق ہے۔سبحان ﷲ!جن کے ساتھ والی نمازمجرموں کو بخشوادے وہ ذات کریم خودکیسی ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 567