Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5311

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إلَى الْبَرِيَّةِ،فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَوَضَعَتْهَا وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: اللهُمَّ ارْزُقْنَا، فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلأَتْ، قَالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا، قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ، قَالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتِ امْرَأَتَهُ: نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا، وَقَامَ إِلَى الرَّحَى، فَذُكِرَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: "أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعنه قال: دخل رجل على أهله، فلما رأى ما بهم من الحاجة خرج إلى البرية،فلما رأت امرأته قامت إلى الرحى فوضعتها وإلى التنور فسجرته، ثم قالت: اللهم ارزقنا، فنظرت فإذا الجفنة قد امتلأت، قال: وذهبت إلى التنور فوجدته ممتلئا، قال: فرجع الزوج، قال: أصبتم بعدي شيئا؟ قالت امرأته: نعم من ربنا، وقام إلى الرحى، فذكر ذلك إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: "أما إنه لو لم يرفعها لم تزل تدور إلى يوم القيامة". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنے گھر والوں کے پاس گیا ۱؎جب ان کی محتاجی دیکھی تو جنگل کی طرف نکل گیا ۲؎جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا تو وہ چکی کی طرف اٹھی اسے رکھا ۳؎اور تنور کی طرف گئی اسے جھونک دیا ۴؎پھر بولی الٰہی ہمیں روزی دے ۵؎تو پیالہ بھر گیا ۶؎روای کہتے ہیں کہ وہ عورت تنور کی طرف گئی تو اسے بھرا ہوا پایا ۷؎فرماتے ہیں کہ پھر خاوند لوٹا بولا کیا تم نے میرے پیچھے کچھ پایا ۸؎اس کی بیوی نے کہا کہ ہاں اپنے رب کی طرف سے اور وہ شخص چکی کی طرف اٹھا ۹؎یہ واقعہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا گیا ۱۰؎تو فرمایا کہ یقینًا اگر وہ شخص اسے نہ اٹھاتا تو چکی قیامت تک گھومتی رہتی ۱۱؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ ایک صحابی کا ہے جو حضو ر صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں ہوا یہ حضور کا معجزہ تھا۔ان صحابی کی بلکہ ان کے سارے گھر والوں کی کرامت سارے صحابی ولی ہیں اور ولی کی کرامت نبی کا معجزہ ہوتی ہے،ان صحابی کا نام معلوم نہ ہوسکا۔
۲
؎اپنی تنگ دستی کی وجہ سے بال بچوں سے شرما گیا اور جنگل میں چلا گیا کیونکہ اسے شہر میں مزدوری نہ ملی یا وہ مزدوری کرنہ سکتا تھا یا تلاش روزی کے لیے جنگل گیا۔(اشعہ)
۳
؎یعنی جب اس کی بیوی نے اپنے خاوند کی تنگ دستی اور شرمندگی دیکھی تو اس نے چکی کے اوپر کا پاٹ نیچے والے پاٹ پر رکھ دیا۔ دیہات کی عورتیں جب کچھ پیسنا چاہتی ہیں تب چکی کا اوپر کاپاٹ رکھتی ہیں ورنہ یہ پاٹ الگ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔گھر میں تو ایک دانہ نہ تھا مگر اپنی غریبی چھپا نے الله پر توکل کرنے کی بنا پر یہ کام کیا تاکہ دیکھنے والا سمجھے کہ گھر میں دانہ ہے جو پیسا جائے گا۔
۴
؎تنور اس لیے جھونکا تاکہ پڑوسی دھواں دیکھ کر سمجھیں کہ ان کے ہاں روٹی پک رہی ہے،ان کا فقر کسی پر ظاہر نہ ہو بندے کی یہ ادا رب کو بہت پیاری ہے۔
۵
؎اس دعا کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ابھی روزی دے دے تاکہ ہمارے عیب چھپے رہیں کسی کو ہماری غریبی کا پتہ نہ چل سکے ہماری یہ تدبیر کارگر ہوجائے یا یہ ہے کہ خدا وند آج تو ہم جھوٹ موٹ کے لیے تنور جھونک رہے ہیں ہمیں روزی دے کہ سچا تنور جھونکا کریں،پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
۶
؎عربی میںجفنۃبڑے پیالہ کو کہتے ہیں یہاں اس سے چکی کا گھیرا مراد ہے جو چکی کے نچلے پاٹ کے آس پاس ہوتا ہے جس میں آٹا جمع ہوتا ہے،اردو میں اسے گھیرا کہتے ہیں،پنجابی میں گنڈ۔
۷
؎سبحان اﷲ!ادھر چکی کا گھیرا غیبی آٹے سے بھرا اور تنور غیبی روٹیوں سے،یہ ہے توکل حقیقی اور اکی یاد کی برکت۔ حضرت مریم کو غیبی روزی ملی تھی،حضور کے صحابہ کو غیبی آٹا غیبی روٹیاں بعض موقعوں پر غیبی پانی عطا ہوئے۔
۸
؎یعنی تم نے یہ آٹا روٹیاں قرض منگالی ہیں یا قدرت نے دی ہیں،ممکن ہے کہ اسے جنگل میں اس کی اطلاع دے دی گئی ہو دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے کہ اس نے یہ نہ پوچھا کہ یہ رزق کہاں سے آیا بلکہ یہ پوچھا کہ تم کو کچھ ملایا نہی،مرقات نے پہلے معنی بیان فرمائے۔
۹
؎یعنی اس نے تنور کا نظارہ دیکھ کر چکی کا نظارہ کیا وہاں آٹا دیکھ کر چکی کا اوپری پاٹ اٹھا کر ہٹا کر اور جگہ کھڑا کردیا۔(مرقات،اشعہ)
۱۰
؎یا تو خود اس شخص نے ہی حاضر ہو کر عرض کیا یا کسی اور شخص نے کہا جو اس واقعہ پر مطلع تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ و اقعہ کسی صحابی کا ہے۔
۱۱
؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چکی چلی تھی اور آٹا پس کر اس سے نکلا تھا اور گھیرے میں جمع ہوا تھا اور جب اس شخص نے دیکھا تب بھی چکی چل رہی تھی اگر وہ چلتی رہتی تو قیامت تک لوگ اس کا آٹا کھاتے رہتے عجیب نظارہ ہوتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5311