باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5311
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إلَى الْبَرِيَّةِ،فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَوَضَعَتْهَا وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَتْ: اللهُمَّ ارْزُقْنَا، فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلأَتْ، قَالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا، قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ، قَالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتِ امْرَأَتَهُ: نَعَمْ مِنْ رَبِّنَا، وَقَامَ إِلَى الرَّحَى، فَذُكِرَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: "أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
وعنه قال: دخل رجل على أهله، فلما رأى ما بهم من الحاجة خرج إلى البرية،فلما رأت امرأته قامت إلى الرحى فوضعتها وإلى التنور فسجرته، ثم قالت: اللهم ارزقنا، فنظرت فإذا الجفنة قد امتلأت، قال: وذهبت إلى التنور فوجدته ممتلئا، قال: فرجع الزوج، قال: أصبتم بعدي شيئا؟ قالت امرأته: نعم من ربنا، وقام إلى الرحى، فذكر ذلك إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: "أما إنه لو لم يرفعها لم تزل تدور إلى يوم القيامة". رواه أحمد.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنے گھر والوں کے پاس گیا ۱؎جب ان کی محتاجی دیکھی تو جنگل کی طرف نکل گیا ۲؎جب اس کی بیوی نے یہ دیکھا تو وہ چکی کی طرف اٹھی اسے رکھا ۳؎اور تنور کی طرف گئی اسے جھونک دیا ۴؎پھر بولی الٰہی ہمیں روزی دے ۵؎تو پیالہ بھر گیا ۶؎روای کہتے ہیں کہ وہ عورت تنور کی طرف گئی تو اسے بھرا ہوا پایا ۷؎فرماتے ہیں کہ پھر خاوند لوٹا بولا کیا تم نے میرے پیچھے کچھ پایا ۸؎اس کی بیوی نے کہا کہ ہاں اپنے رب کی طرف سے اور وہ شخص چکی کی طرف اٹھا ۹؎یہ واقعہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے عرض کیا گیا ۱۰؎تو فرمایا کہ یقینًا اگر وہ شخص اسے نہ اٹھاتا تو چکی قیامت تک گھومتی رہتی ۱۱؎(احمد)
شرح حدیث
۱∞؎یہ واقعہ ایک صحابی کا ہے جو حضو ر صلی الله علیہ و سلم کے زمانہ میں ہوا یہ حضور کا معجزہ تھا۔ان صحابی کی بلکہ ان کے سارے گھر والوں کی کرامت سارے صحابی ولی ہیں اور ولی کی کرامت نبی کا معجزہ ہوتی ہے،ان صحابی کا نام معلوم نہ ہوسکا۔
۲؎اپنی تنگ دستی کی وجہ سے بال بچوں سے شرما گیا اور جنگل میں چلا گیا کیونکہ اسے شہر میں مزدوری نہ ملی یا وہ مزدوری کرنہ سکتا تھا یا تلاش روزی کے لیے جنگل گیا۔(اشعہ)
۳؎یعنی جب اس کی بیوی نے اپنے خاوند کی تنگ دستی اور شرمندگی دیکھی تو اس نے چکی کے اوپر کا پاٹ نیچے والے پاٹ پر رکھ دیا۔ دیہات کی عورتیں جب کچھ پیسنا چاہتی ہیں تب چکی کا اوپر کاپاٹ رکھتی ہیں ورنہ یہ پاٹ الگ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔گھر میں تو ایک دانہ نہ تھا مگر اپنی غریبی چھپا نے الله پر توکل کرنے کی بنا پر یہ کام کیا تاکہ دیکھنے والا سمجھے کہ گھر میں دانہ ہے جو پیسا جائے گا۔
۴؎تنور اس لیے جھونکا تاکہ پڑوسی دھواں دیکھ کر سمجھیں کہ ان کے ہاں روٹی پک رہی ہے،ان کا فقر کسی پر ظاہر نہ ہو بندے کی یہ ادا رب کو بہت پیاری ہے۔
۵؎اس دعا کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ابھی روزی دے دے تاکہ ہمارے عیب چھپے رہیں کسی کو ہماری غریبی کا پتہ نہ چل سکے ہماری یہ تدبیر کارگر ہوجائے یا یہ ہے کہ خدا وند آج تو ہم جھوٹ موٹ کے لیے تنور جھونک رہے ہیں ہمیں روزی دے کہ سچا تنور جھونکا کریں،پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔
۶؎عربی میںجفنۃبڑے پیالہ کو کہتے ہیں یہاں اس سے چکی کا گھیرا مراد ہے جو چکی کے نچلے پاٹ کے آس پاس ہوتا ہے جس میں آٹا جمع ہوتا ہے،اردو میں اسے گھیرا کہتے ہیں،پنجابی میں گنڈ۔
۷؎سبحان اﷲ!ادھر چکی کا گھیرا غیبی آٹے سے بھرا اور تنور غیبی روٹیوں سے،یہ ہے توکل حقیقی اور اﷲکی یاد کی برکت۔ حضرت مریم کو غیبی روزی ملی تھی،حضور کے صحابہ کو غیبی آٹا غیبی روٹیاں بعض موقعوں پر غیبی پانی عطا ہوئے۔
۸؎یعنی تم نے یہ آٹا روٹیاں قرض منگالی ہیں یا قدرت نے دی ہیں،ممکن ہے کہ اسے جنگل میں اس کی اطلاع دے دی گئی ہو دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے کہ اس نے یہ نہ پوچھا کہ یہ رزق کہاں سے آیا بلکہ یہ پوچھا کہ تم کو کچھ ملایا نہی،مرقات نے پہلے معنی بیان فرمائے۔
۹؎یعنی اس نے تنور کا نظارہ دیکھ کر چکی کا نظارہ کیا وہاں آٹا دیکھ کر چکی کا اوپری پاٹ اٹھا کر ہٹا کر اور جگہ کھڑا کردیا۔(مرقات،اشعہ)
۱۰؎یا تو خود اس شخص نے ہی حاضر ہو کر عرض کیا یا کسی اور شخص نے کہا جو اس واقعہ پر مطلع تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ و اقعہ کسی صحابی کا ہے۔
۱۱؎اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چکی چلی تھی اور آٹا پس کر اس سے نکلا تھا اور گھیرے میں جمع ہوا تھا اور جب اس شخص نے دیکھا تب بھی چکی چل رہی تھی اگر وہ چلتی رہتی تو قیامت تک لوگ اس کا آٹا کھاتے رہتے عجیب نظارہ ہوتا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5311