Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5298

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ،احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "المؤمن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كل خير،احرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز، وإن أصابك شيء فلا تقل لو أني فعلت كان كذا وكذا، ولكن قل: قدر الله وما شاء فعل، فإن لو تفتح عمل الشيطان". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ قوی مسلمان کمزور مسلمان سے اچھا ہے اور الله کو پیارا ہے ۱؎بھلائی سب میں ہے ۲؎اس پر حرص کرو جو تمہیں نفع دے اور اسے مدد مانگو عاجز نہ ہو۳؎اور اگر تمہیں کچھ تکلیف پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں وہ کام کرلیتا تو ایسا ہوجاتا ۴؎لیکن کہو کہ الله نے یہ ہی مقدر کیا تھا جو اس نے چاہا کیا کیونکہ ا گر مگر شیطان کام کھولتا ہے۵؎( مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں قوی اور ضعیف سے بدن کا قوی ضعیف مراد ہے یعنی تندرستی و صحت اور مضبوط بدن والا مسلمان کمزور بیمار مسلمان سے زیادہ اچھا ہے کہ تندرست مسلمان نمازوروزہ حج بلکہ جہاد وغیرہ عبادات بے تکلف کرسکتا ہے لہذا مسلمان بیمار رہنے کی تمنا نہ کرے بیماری کا فورًا علاج کرکے تندرست ہوجائے۔ممکن ہے کہ قوی و ضعیف سے مراد دل کا قوی و ضعیف ہو یعنی وہ مسلمان جو لوگوں میں رہ کر انکی سختی برداشت کرکے ان کو راہ راست پر لگائے وہ اس مسلمان سے اچھا ہے کہ کسی کی برداشت نہ کرسکے،گوشہ نشین ہوکر زندگی گزار دے اور ہوسکتا ہے کہ قوی و ضعیف اعتقاد کا قوی وضعیف مراد ہو کہ وہ مؤمن جو ہر راحت و تکلیف کو جھیل جاوے،رب کے دروازے سے نہ ہٹے وہ اس مؤمن سے اچھا ہے جو اعتقاد کا کمزور ہو،ذرا سی خوشی یا رنج میں رب کے دروازے سے بھاگ جائے،بہرحال اس فرمان عالی کی بہت تفسیریں ہیں۔
۲
؎یعنی مؤمن خواہ قوی ہو یا ضعیف دونوں میں خیر ہے ان میں سے کوئی شر نہیں،کافر شر بھی ہے شریر بھی مگر فرق مراتب ضروری ہے۔
۳
؎یعنی جو چیز تم کو دینی نفع دے اس میں قناعت نہ کرو،خوب حرص کرو،اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو مگر اپنی کوشش پر بھروسہ نہ کرو الله پر توکل کرو ۔خیال رہے کہ دنیاوی چیزوں میں قناعت اور صبر اچھا ہے مگر آخرت کی چیزوں میں حرص اور بے صبری اعلٰی ہے،دین کے کسی درجہ پر پہنچ کر قناعت نہ کرلو آگے بڑھنے کی کوشش کرو،رب فرماتاہے:"فَاسْتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ؎حاجتے نیست مرا سیر ازیں آبحیات ضاعفعلی کل زمان عطشی
حریص مال برا مگر حریص اعمال اچھا،رب تعالٰی نے اپنے محبوب صلی الله علیہ و سلم کی تعریف میں فرمایا:"
حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ
۴
؎کیونکہ یہ کہنے میں دل کو رنج بھی بہت ہوتا ہے رب تعالٰی ناراض بھی ہوتا ہے اگر میں اپنا مال فلاں وقت فروخت کردیتا تو بڑا نفع ہوتا مگر میں نے غلطی کی کہ اب فروخت کیا ہائے بڑی غلطی کی یہ برا ہے لیکن دینی معاملات میں ایسی گفتگو اچھی یہاں دنیاوی نقصانات مراد ہیں۔
۵
؎یعنی اس اگر مگر سے انسان کا بھروسہ رب تعالٰی پر نہیں رہتا اپنے پر یا اسباب پر ہوجاتا ہے ۔خیال ر ہے کہ یہاں دنیا کے اگر مگر کا ذکر ہے،دینی کاموں میں اگر مگر اور افسوس وندامت اچھی چیز ہے،اگر میں اتنی زندگی الله کی اطاعت میں گزارتا تو متقی ہوجاتا مگر میں نے گناہوں میں گزاری ہائے افسوس! یہ اگر مگر عبادت ہے اگر میں حضور کے زمانہ پاک میں ہوتا تو حضور کے قدموں پر دل و جان قربان کردیتا مگر میں اتنے عرصہ بعد پیدا ہوا ہائے افسوس یہ عبادت ہے۔اعلٰی حضرت قدس سرہٗ نے فرمایا؎جو ہم بھی وہاں ہوتے خاک گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے
لہذا یہ حدیث ان احادیث یا آیاتے کے خلاف نہیں جن میں لو فرمایاگیا ہے اگلی حدیث میں لو آرہاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5298