Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5313

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن مسعود قال: كأني أنظر إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يحكي نبيا من الأنبياء ضربه قومه فأدموه وهو يمسح الدم عن وجهه ويقول: "اللهم اغفر لقومي فإنهم لا يعلمون". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں گویا میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھ رہا ہوں ۱؎کہ آپ نبیوں میں سے ایک نبی کی حکایت فرمارہے ہیں جنہیں ان کی قوم نے مارا ۲؎تو انہیں خونا خون کردیا وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے تھے۳؎اورکہتے تھے الٰہی میری قوم کو بخش دے کہ یہ جانتے نہیں ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ ہے تصور رسول حضرات صحابہ کرام حضور کی اداؤں کے تصور میں رہتے تھے؎ریاضت نام ہے تیر ی گلی میں آنے جانے کا تصور میں تیرے رہنا عبادت اس کو کہتے ہیں
۲
؎نبی سے مرا د یا نوح علیہ السلام ہیں جو اپنی قوم سے بڑی مصیبت اٹھاتے تھے حتی کہ کئی کئی دن بے ہوش رہتے تھے، ہوش آنے پر پھر جاتے تبلیغ فرماتے یا خود حضور کی ذات ہے، یہ واقعہ طائف کی تبلیغ اور احد شریف کے جہاد کا ہے کہ حضور انور ان ظالم کفار کو دعائیں دیتے جاتے تھے ،چہرہ پا ک سے خون صاف کرتے جاتے تھے ۔(اشعہ)
۳
؎تاکہ خون آنکھوں یا منہ میں نہ پڑے یا زمین پر نہ گرے،زمیں پر گرنے سے عذاب الٰہی آجانے کا اندیشہ تھا۔
۴
؎بخش دے کے معنی یہ ہیں کہ تو انہیں ایمان کی توفیق دے عذاب نہ دے،ورنہ کفار کے لیے بخشش کی دعا بحکم قرآن ممنوع ہے ۔نہ جانتے کے معنی یہ ہیں کہ یہ لوگ مجھے پہچانتے نہیں اگر پہچانتے ہوتے تو یہ حرکت نہ کرتے۔ معلو م ہوا کہ جاہل کا گنا ہ ہلکا ہوتا ہے عالم کے گنا ہ سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5313