Main Icon

باب : توکل اور صبر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5303

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ رِضَاهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ،وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ تَرْكُهُ اسْتِخَارَةَ اللَّهِ، وَمِنْ شَقَاوَةِ ابْنِ آدَمَ سَخَطُهُ بِمَا قَضَى اللَّهُ لَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن سعد قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من سعادة ابن آدم رضاه بما قضى الله له،ومن شقاوة ابن آدم تركه استخارة الله، ومن شقاوة ابن آدم سخطه بما قضى الله له". رواه أحمد والترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ انسان کی نیک بختی سے ہے اس کا الله کے فیصلہ سے راضی ہونا ۱؎اور انسان کی بدبختی اس کا الله سے خیر مانگنا چھوڑ دینا ہے ۲؎انسان کی بدبختی سے ہے کہ اس کا اپنے متعلق الله کے فیصلہ سے ناراض ہونا ہے ۳؎(احمد،ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سعادت،شقاوت ایک غیبی چیز ہے مگر ان دونوں کی علامات ہیں جو بندہ الله (تعالٰی )کی رضا پر راضی اس کی قضا پر سرجھکائے رہے سمجھ لو کہان شاءاﷲیہ سعید ہے،اس کا خاتمہ اچھا ہونے والا ہے اس کے برعکس ہو تو علامت بدبختی کی ہے۔
۲
؎حضرت انس نے مرفوعًا روایت فرمایا کہ جو استخارہ کرے گا نقصان نہ اٹھائے گا،جو مشورہ کرے گا وہ شرمندہ نہ ہوگا،جو درمیانی خرچ رکھے گا وہ فقیر نہ ہوگا۔(طبرانی،مرقات)بعض علماء فرماتے ہیں کہ چار شخص چار نعمتوں سے محروم نہ ہوں گے: شکر گزار بندہ زیادتی نعمت سے محروم نہیں ہوتا،توبہ کرنے والا بندہ قبولیت سے، استخارہ کرنے والا خیر سے،مشورہ کرنے والا درستی سے محروم نہیں۔
۳
؎یعنی جو الله کے حکم سے ناراض ہے اس کی شکایتیں کرتا رہے وہ بدنصیب ہے ۔خیال رہے کہ مصیبتوں کو دفع کرنے کے لیے تدبیریں کرنا برا نہیں بلکہ اس کا حکم ہے،رب کے فیصلے سے ناراض ہوکر اس کی شان میں بکواس کرنا برا ہے جیسا کہ بعض جاہلوں کا طریقہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5303