Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2630

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: نَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهٖ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: نحر النبي صلى الله عليه وسلم عن نسائه بقرة في حجته . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنے حج میں اپنی تمام بیویوں کی طرف سے ایک گائے قربانی کی ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دوسرا واقعہ ہے جو حج میں ہوا اور یہ قربانی نہیں کیونکہ مسافر پر قربانی واجب نہیں،حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم حج میں مسافر تھے بلکہ یہ حج کا دم ہے نحر بمعنی ذبح ہے کیونکہ گائے کو نحر کرنا منع ہے اگر حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے ایک گائے دی ہے تو یہ حضور کی خصوصیات سے ہے،آپ نے تو اپنی ساری امت کے فقراء کی طرف سے ایک بکری بھی قربانی دی ہے،فقراء کروڑوں ہیں اور اگر یہ گائے کچھ ازواج کی طرف سے تھی اور کچھ ازواج کو ان سو اونٹوں میں شریک فرما لیا ہو تو عمومی حکم ہے۔امام مالک اس حدیث کی بناء پر فرماتے ہیں کہ ایک گائے تمام گھر والوں کی طرف سے درست ہے اگرچہ سات سے زیادہ ہوں مگر یہ استدلال کچھ کمزور سا ہے کہ اس میں وہ احتمالات ہیں جو عرض کیے گئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2630