Main Icon

باب:ہدی کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2640

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدٰى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهٖ بُرَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ ذَهَبٍ يَغِيظُ بِذٰلِكَ الْمُشْرِكِينَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُد

عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وسلم أهدى عام الحديبية في هدايا رسول الله صلى الله عليه وسلم جملا كان لأبي جهل في رأسه برة من فضة وفي رواية من ذهب يغيظ بذلك المشركين. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے حدیبیہ کے سال ہدی بھیجی ۱؎حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی ہدیوں میں ابوجہل کا اونٹ بھی تھا جس کے سر میں چاندی کی بالی تھی اور ایک روایت میں ہے سونے کی بالی تھی جس سے مشرکین کو جلائیں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس سال حضور انور عمرہ کرنے مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور مشرکین مکہ نے مقام حدیبیہ میں آپ کو روک لیا یعنی ۶ھ میں، اسی سال آپ اپنے ہمراہ ہدی لے گئے تھے،بھیجنے سے مراد خود لے جانا ہے کیونکہ حضور انور نے ہدی کے جانور حدیبیہ میں ہی ذبح کر دیئے تھے کہ وہ جگہ حدود حرم میں ہے،مکہ معظمہ نہیں بھیجے تھے،بلکہ بہتر یہ ہے کہاھدیکے معنے کیے جائیں حضور ہدی لے گئے تاکہ یہ دھوکہ نہ پڑے کہ حضور خود تو حدیبیہ میں رہ گئے اور ہدی مکہ معظمہ میں بھیج دی۔
۲
؎ابوجہل کا یہ اونٹ جنگ بدر میں بطور غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا تھا خود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اسے لیا تھا اس سال مکہ معظمہ اسے لے جانا مشرکین کو جلانے کے لیے تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی کاموں سے مشرکوں کو جلانا بھی عبادت ہے،قربانی گائے میں یہ راز بھی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِیَغِیۡظَ بِھِمُ الْکُفَّارَ"۔شعر
غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل
یا رسول اللّٰه کی کثرت کیجئے
بعض روایات میں ہے کہ تانبے کی بالی اس کے سر میں تھی، ہوسکتا ہے کہ اس کی ناک کان وغیرہ میں مختلف سوارخ ہوں کسی سوارخ میں سونے کی بالی ہو،کسی میں چاندی کی،کسی میں تانبے کی،روایات متعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2640