Main Icon

باب: ہنسنے کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4746

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جرير قَالَ: مَا حَجَبَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن جرير قال: ما حجبني النبي صلى الله عليه وسلم منذ أسلمت ولا رآني إلا تبسم. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جریر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ جب سے مسلمان ہوا مجھ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ نہ کیا ۲؎اور مجھے نہ دیکھا مگر تبسم فرمایا ۳؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ جریر ابن عبداللہ ہیں،کنیت ابو عمرو ہے،حضور انور کی وفات سے چالیس دن پہلے اسلام لائے بعد میں کوفہ میں قیام رہا، ۵۱؁∞ اکیاون ہجری میں وفات پائی۔(اکمال)بڑے خوبصورت خوش خلق اپنی قوم کے سردار تھے۔
۲
؎یعنی جس موقعہ پر دوسروں کو اجازت لے کر آنا ہوتا تھا مجھے بغیر اجازت حاصل کیے حاضری کی اجازت تھی ایک بار حضور نے مجھے ایسی مجالس میں حاضری کی اجازت دے دی تھی گویا اپنا قرب و منزلت بیان فرمارہے ہیں۔خیال رہے کہ حضور کی مجلس عامہ میں کسی کو اجازت لینے کی ضرورت نہ تھی جیسے نماز جمعہ عید اور عام مجالس وعظ میں دولت خانہ کے اندرکسی کو بغیر اجازت حاضر ہونے کی اجازت نہ تھی،رب تعالیٰ فرماتاہے: "لَا تَدْخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ"الخ مجالس خاصہ میں عام لوگ اجازت لے کر حاضر ہوتے تھے مگر کوئی خاص الخاص بغیر اجازت بھی یہاں اسی کا ذکر ہے۔
۳
؎حضور کا یہ تبسم اظہار خوشی یا اظہار کرم کے لیے ہوتا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4746