- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6080
باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6080
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُرِيدُ حَجَّ الْبَيْتِ فَرَأٰى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ. قَالَ فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ؟ قَالُوا: عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ. قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهٗ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهٗ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ؟ قَالَ: اللّٰهُ أَكْبَرُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ أَمَّا فِرَارُهٗ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللّٰهَ عَفَا عَنْهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهٗ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهٗ كَانَتْ تَحْتَهٗ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ» . وَأَمَّا تَغَيُّبُهٗ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهٗ فَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلٰى مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنٰى: «هَذِهٖ يَدُ عُثْمَانَ» فَضَرَبَ بِهَا عَلٰى يَدِهٖ وَقَالَ: «هَذِهٖ لِعُثْمَانَ». فَقَالَ لَهٗ ابْنُ عُمَرَ: اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
عن عثمان بن عبد الله بن موهب قال: جاء رجل من أهل مصر يريد حج البيت فرأى قوما جلوسا فقال: من هؤلاء القوم؟ قالوا: هؤلاء قريش. قال فمن الشيخ فيهم؟ قالوا: عبد الله بن عمر. قال: يا ابن عمر إني سائلك عن شيء فحدثني: هل تعلم أن عثمان فر يوم أحد؟ قال: نعم. قال: هل تعلم أنه تغيب عن بدر ولم يشهدها؟ قال: نعم. قال: هل تعلم أنه تغيب عن بيعة الرضوان فلم يشهدها؟ قال: نعم؟ قال: الله أكبر قال ابن عمر: تعال أبين لك أما فراره يوم أحد فأشهد أن الله عفا عنه وأما تغيبه عن بدر فإنه كانت تحته رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت مريضة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن لك أجر رجل ممن شهد بدرا وسهمه» . وأما تغيبه عن بيعة الرضوان فلو كان أحد أعز ببطن مكة من عثمان لبعثه فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عثمان وكانت بيعة الرضوان بعد ما ذهب عثمان إلى مكة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده اليمنى: «هذه يد عثمان» فضرب بها على يده وقال: «هذه لعثمان». فقال له ابن عمر: اذهب بها الآن معك. رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عثمان ابن عبدالله ابن موہب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک مصری آدمی بیت الله کے ارادے سے آیا تو اس نے ایک قوم کو بیٹھا ہوا دیکھا بولا یہ قوم کون ہے لوگوں نے کہا یہ قریش ہیں بولا ان میں سردار کون ہے لوگ بولے کہ حضرت عبدالله ابن عمر ہیں ۲؎وہ بولا اے ابن عمر میں آپ سے ایک چیز کے متعلق پوچھتا ہوں آپ مجھے خبر دیں۳؎کیا آپ جانتے ہیں کہ عثمان احد کے دن فرار ہوگئے تھے۴؎آپ نے فرمایا ہاں،بولا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بدر سے غائب رہے تھے وہاں حاضر نہیں ہوئے تھے فرمایا ہاں،بولا کیا آپ جانتے ہیں کہ بیعت الرضوان سے بھی غائب رہے ۵؎اس میں حاضر نہ ہوئے فرمایا ہاں وہ بولا الله اکبر ۶؎حضرت ابن عمر نے فرمایا آ میں تجھے بتاؤں ۷؎احد کے دن آپ کے قدم اکھڑ جانا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ الله نے انہیں معاف فرمادیا ۸؎رہا ان کا بدر سے غائب رہنا تو ان کے نکاح میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی دختر رقیہ تھیں اور وہ تھیں بیمار ان سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم کو اس غازی کا ثواب اور حصہ ملے گا جو بدر میں حاضر ہوا ۹؎رہا ان کا بیعت الرضوان سے غائب رہنا تو اگر کوئی اور شہر مکہ میں عثمان سے زیادہ باا ثر ہوتا تو اسے رسول الله صلی الله علیہ و سلم بھیجتے ۱۰؎حضور نے جناب عثمان کو وہاں بھیجا اور بیعت الرضوان ان کے جانے کے بعد ہوئی رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنے داہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے۱۱؎پھر اسے آپ نے دوسرے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا کہ یہ بیعت عثمان کی ہے ۱۲؎پھر حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ اب اسے تو اپنے ساتھ لیتا جا ۱۳؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎آپ تابعی ہیں،تیمی ہیں،حضرت ابوہریرہ عبدالله ابن عمر وغیرہم صحابہ سے ملاقات ہے،آپ سے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور سفیان ثوری وغیرہم نے روایات لیں۔
۲؎یہ مصری شخص کوئی خارجی دشمن حضرت عثمان تھا۔خیال رہے کہ مصریوں نے ہی حضرت عثمان کا گھر گھیرا تھا انہیں سے حضرت عثمان کی شہادت ہوئی،یہ آدمی حج کرنے مکہ معظمہ آیا تھا ادھر سے حضرت عبدالله ابن عمر اور بہت سے قرشی حضرات مدینہ منورہ سے حج کرنے مکہ معظمہ پہنچے ہوئے تھے کہ یہ اس جماعت کے پاس پہنچا۔
۳؎یعنی آپ صحابی بھی ہیں حضرت عمر کے فرزند ارجمند بھی،بڑے عالم بھی،قرآن کریم کے ماہر بھی اور یہ واقعات جن کے متعلق میں پوچھنا چاہتاہوں آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔
۴؎اس مردود کا مقصد یہ تھا کہ حضرت عثمان احد کے دن غزوہ سے فرار ہوگئے تھے اور جہاد میں کفار کے مقابلہ سے بھاگنا بڑا گناہ ہے یہ گناہ حضرت عثمان نے کیا۔
۵؎یعنی غزوہ بدر اور بیعۃ الرضوان الله تعالٰی کی بڑی ہی نعمتیں ہیں ان دونوں سے حضرت عثمان محروم رہے کہ نہ بدر میں حاضر ہوئے نہ بیعۃ الرضوان میں۔
۶؎اس بدنصیب کا الله اکبر کہنا نہ تو الله تعالٰی کی عظمت بیان کرنے کے لیے تھا نہ ذکر الله کے لیے بلکہ اپنی بے دینی پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے کہ ہم قتل عثمان میں حق بجانب ہیں ہم نے انہیں قتل کیا ٹھیک کیا یہ حمد الٰہی نہ تھی اپنے کفر کا اظہار تھا۔معلوم ہوا کہ کبھی الله کا ذکر حرام بلکہ کبھی کفر بھی ہوجاتا ہے الله کے ذکر کے لیے نیت خیر چاہیے۔
۷؎یعنی ابھی الله اکبر نہ کہہ خوشی نہ منا ان سب باتوں کے جواب بھی سنتا جا۔
۸؎آپ کا اشارہ اس آیت کریمہ کی طرف ہے"اِنَّ الَّذِیۡنَ تَوَلَّوْا مِنۡکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیۡطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوۡا وَلَقَدْ عَفَا اللهُ عَنْهُمْ"حضرت عثمان ہی نہیں بلکہ سواء دس بارہ حضرات کے باقی سب کے قدم اکھڑ گئے تھے حالات ہی ایسے ہوگئے تھے۔درہ والے حضرات کی غلطی سے درہ خالی رہ گیا کفار مکہ نے پیچھے سے حملہ کردیا،پیچھے کا حملہ بہت سنگین ہوتا ہے،قدم اکھڑ گئے رب تعالٰی نے خطا کی معافی کا اعلان قرآن کریم میں فرمادیا،جس خطا کی معافی کا اعلان رب فرما دے وہ ہماری عمر بھر کی عبادات سے افضل ہے،جن کی قبولیت کی کوئی خبر نہیں پھر اس پر طعن کرنا بے ایمانی ہے جیسے کوئی آدم علیہ السلام پر گندم کھانے کا طعن کرے وہ بے دین ہے۔
۹؎یعنی عثمان غنی غزوہ بدر سے غائب نہیں رہے وہ بدر میں تھے جہاد کررہے تھے،مدینہ منورہ میں ان کا گھر ان کے لیے بدر کا میدان تھا اور اپنی زوجہ یعنی رقیہ بنت رسول الله کی خدمت ان کے لیے بدر کا جہاد تھا۔یہ ہے اس شہنشاہ کے اختیارات خداداد کے عثمان غنی کے لیے مدینہ منورہ بلکہ حضرت عثمان کا گھر بدر بنادیا اگر وہ چاہیں تو ہمارے لیے پاکستان کی زمین کو مدینہ بنادیں؎بنادو میرے سینہ کو مدینہ نکالو بحر غم سے یہ سفینہ
سینہ میں جو آجاؤ بن آئے مرے دل کی سینہ تو مدینہ ہو دل اس کا ہو شیدائی
یہ دل ہو خدا کا گھر سینہ ہو ترا مسکن پھر طیبہ و کعبہ کی پہلو میں ہویک جائی
حضرت رقیہ اس مرض میں وفات پاگئیں عثمان غنی بہت ہی روئے،حضور نے پوچھا عثمان کیوں روتے ہو عرض کیا میں حضور کی دامادی سے محروم ہوگیا ہوں،فرمایا کہ مجھ سے جبریل امین نے فرمایا ہے کہ حکم رب العالمین یہ ہے کہ میں اپنی دوسری صاحبزدی ام کلثوم کا نکاح تم سے کردوں بشرطیکہ وہ ہی مہر ہو جو رقیہ کا تھا اور تم اس سے وہ ہی سلوک کرو جو رقیہ سے کیا، چنانچہ حضرت ام کلثوم کا نکاح آپ سے کر دیا۔دنیا میں ایسا کوئی نہیں جس کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں آئی ہوں اس لیے آپ کو ذو النورین کہا جاتا ہے یعنی دونور والے۔معلوم ہوا کہ حضور بھی نور ہیں اور آپ کی اولاد بھی نور۔ حضرت ام کلثوم کی وفات پر فرمایا کہ اگر میری ایک سولڑکیاں ہوتی تو یکے بعد دیگرے تمہارے نکاح میں دے دیتا۔ (مرقات)
۱۰؎یعنی حضرت عثمان غنی کے کفار مکہ پر بہت احسانات تھے اور وہ لوگ اپنے محسن کا احترام کرتے تھے اس لیے حضور انور نے ان کو اپنا نمائندہ بنا کر صلح کی بات چیت کرنے وہاں بھیجا،اگر کوئی اور شخص ایسا بااثر ہوتا تو حضور اسے ہی بھیجتے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کو حضرت عثمان پر بہت ہی اعتماد تھا کہ اعتماد والے ہی کو اپنا نمائندہ بنایا جاتا ہے۔آپ کی شہادت کی خبر پر ہی بیعت رضوان کا واقعہ پیش آیا اس کے باعث آپ ہی ہیں۔
۱۱؎یعنی بیعت رضوان کے موقعہ پر آپ موجود تھے ہی نہیں،یہ بیعت مقام حدیبیہ میں ہورہی تھی اور حضرت عثمان اس وقت حضور انور کے بھیجے ہوئے مکہ معظمہ میں تھے۔یہاں مرقات نے لکھا کہ حضرت عمر کو بھیجنے کی صلاح ہوئی تھی مگر آپ نے یہ ہی معذرت کی کہ مکہ والوں پر میرا کوئی احسان نہیں جس کی وجہ سے وہ مجھ سے محبت کریں عثمان رضی الله عنہ کو بھیجا جائے۔جب حضرت عثمان مکہ پہنچے تو اہل مکہ نے آپ کا استقبال کیا اور کہا کہ آپ عمرہ کرلیں آپ نے فرمایاحات انی اطوف فی غیبہناممکن ہے کہ میں کعبہ کا طواف بھی کروں حضور کی غیرموجودگی میں۔
۱۲؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کو خبر تھی کہ حضرت عثمان شہید نہیں کیے گئے وہ مکہ میں بخیریت ہیں ورنہ بیعت لینے کے کیا معنی،یہ ہے حضور انور کا علم غیب ورنہ یہاں تو خبر اڑ چکی تھی کہ جناب عثمان شہید کردیئے گئے،دیکھو مرقات یہی مقام۔
۱۳؎یعنی یہ جواب بھی اپنے گھر ساتھ لے جا خدا حسد سے بچائے،حاسد صفات کو عیوب جانتا ہے۔بیعت الرضوان کا واقعہ حضرت عثمان کی انتہا درجہ کی فضلیت بتارہا ہے،وہ خارجی اسے آپ کے عیوب میں گن رہا ہے۔سب کوشیطان گمراہ کرتا ہے مگر شیطان کو حسد نے گمراہ کیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6080