Main Icon

باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6075

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَن ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرُ بِئْرِ رُومَةَ؟ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ يَجْعَلُ دَلْوَهٗ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهٗ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتّٰى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِد بِخَير مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» . فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمُ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلٰى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهٗ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتّٰى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهٗ بِالْحَضِيضِ فَرَكَضَهٗ بِرِجْلِهٖ قَالَ: « اُسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ».قَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: اللّٰهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيّ

وعن ثمامة بن حزن القشيري قال: شهدت الدار حين أشرف عليهم عثمان فقال: أنشدكم الله والإسلام هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة وليس بها ماء يستعذب غير بئر رومة؟ فقال: «من يشتري بئر رومة يجعل دلوه مع دلاء المسلمين بخير له منها في الجنة؟» فاشتريتها من صلب مالي وأنتم اليوم تمنعونني أن أشرب منها حتى أشرب من ماء البحر؟ قالوا: اللهم نعم. فقال: أنشدكم الله والإسلام هل تعلمون أن المسجد ضاق بأهله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من يشتري بقعة آل فلان فيزيدها في المسجد بخير منها في الجنة؟» . فاشتريتها من صلب مالي فأنتم اليوم تمنعونني أن أصلي فيها ركعتين؟ فقالوا: اللهم نعم. قال: أنشدكم الله والإسلام هل تعلمون أني جهزت جيش العسرة من مالي؟ قالوا: اللهم نعم. قال: أنشدكم بالله والإسلام هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على ثبير مكة ومعه أبو بكر وعمر وأنا فتحرك الجبل حتى تساقطت حجارته بالحضيض فركضه برجله قال: « اسكن ثبير فإنما عليك نبي وصديق وشهيدان».قالوا: اللهم نعم. قال: الله أكبر شهدوا ورب الكعبة أني شهيد ثلاثا. رواه الترمذي والنسائي والدارقطني

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثمامہ ابن حزن قشیری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں دار کے دن حاضر تھا۲؎جب کہ ان پر حضرت عثمان نے جھانکا فرمایا میں تم کو الله اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مدینہ میں تشریف لائے یہاں سوا رومہ کنویں کے میٹھا پانی نہ تھا ۳؎تو فرمایا کہ کون رومہ کنواں خریدے اوراپنا ڈول مسلمانوں کے ڈولوں کے ساتھ کردے بعوض جنت کی اس نعمت کے جو اس سے اچھی ہے ۴؎تو اسے میں نے اپنے ذاتی مال سے خرید لیا ۵؎اور تم آج مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو حتی کہ میں سمندر کا پانی پی رہا ہوں ۶؎لوگ بولے ہاں ضرور پھر فرمایا کہ میں تم کو الله اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ مسجد نمازیوں پر تنگ ہوگئی تھی تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آل فلاں کا علاقہ کون خریدے گا کہ اسے مسجد میں بڑھا دے جنت کی اس نعمت کی عوض جو اس سے بہتر ہے میں نے اسے اپنے ذاتی مال سے خرید لیا ۷؎مگر تم آج مجھے اس میں دو رکعت پڑھنے سے روکتے ہو ۸؎لوگ بولے ہاں ضرور انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو الله تعالٰی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے مال سے تنگی والے لشکر کو سامان دیا ۹؎لوگ بولے ہاں ضرور فرمایا میں تم کو الله تعالٰی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مکہ معظمہ کے ثبیر پہاڑ پر تھے۱۰؎اور حضور کے ساتھ ابوبکر اور عمر اور میں تھا تو پہاڑ ہلا ۱۱؎حتی کہ اس کے پتھر نیچے گر گئے ۱۲؎تو اسے حضور نے اپنے پاؤں سے ایڑی ماری فرمایا اے ثبیر ٹھہر جا ۱۳؎کہ تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۱۴؎لوگ بولے ہاں ضرور ۱۵؎آپ نے فرمایا الله اکبر قسم رب کعبہ کی انہوں نے گواہی دے دی میں شہید ہوں یہ تین بار کہا ۱۶؎(ترمذی،نسائی، دار قطنی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت ثمامہ نے حضور انور کا زمانہ پایا مگر دیدار نہ کرسکے اس لیے آپ تابعین میں سے ہیں،آپ نے حضرت عمروعثمان، عبدالله ابن عمر،عائشہ صدیقہ،ابوالدرداء رضی الله عنہم کی زیارات کی ہیں۔
۲
؎حضرت عثمان کے گھر شریف کا باغیوں نے محاصرہ کرلیا تھا،آپ اس گھر میں گھر گئے تھے باہر نہیں نکل سکتے تھے اس زمانہ کا نام یوم الدار ہے،آخر کار آپ اس زمانہ میں شہید کردیئے گئے۔
۳
؎حضرت عثمان غنی نے چھت پر چڑھ کر گھیرا ڈالے ہوئے لوگوں کو آواز دی اور ان سے یہ کلام فرمایا۔رومہ اس کنوئیں کے مالک کا نام تھا جس سے عثمان غنی نے خریدا۔یہ مسجد قبلتین کے شمالی جانب واقع ہے،اس کا پانی بہت ہی میٹھا لذیذ اور ہلکا زودہضم ہے اب اسے بیر عثمان بھی کہتے ہیں اور بیر جنت بھی کیونکہ اس کنوئیں کی خرید پر حضرت عثمان سے جنت کا وعدہ فرمایا گیا۔فقیر نے اس کنوئیں کی زیارت کی ہے پانی پیا ہے۔
۴
؎یعنی ایسا کون ہے جو یہ کنواں خرید کر وقف کردے کہ خود بھی اس کا پانی استعمال کرے اور دوسرے لوگ بھی اس کی عوض اسے جنت کا حوض کوثر دیا جائے گا۔خیال رہے کہ اوقاف بھی صدقہ ہوتے ہیں مگر ایسا کہ انہیں خود وقف کرنے والا بھی استعمال کرسکتا ہے جیسے کنواں،قبرستان،مسجد وغیرہ اس لیے ارشاد ہوا کہ اپنا ڈول مسلمانوں کے ڈول کے برابر کردے۔
۵
؎یہ کنواں ایک یہودی کا تھا وہ بہت مہنگا پانی فروخت کرتا تھا اور مسلمانوں کو بہت تنگ کرتا تھا،آپ نے پینتیس۳۵۰۰۰ ہزار درہم میں یہ کنواں اس یہودی سے خریدا اور حضور سرکار عالی کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میں یہ کنواں آپ کے ہاتھ کوثر کے عوض فروخت کرتا ہوں حضور خرید کر وقف فرمادیں،حضور نے فرمایا میں نے خرید لیا اور وقف کردیا۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ حضورصلی الله علیہ و سلم الله کی تمام نعمتوں کے بتملیک الٰہی مالک و مختار ہیں،جو نعمت جس کے ہاتھ چاہیں فروخت کردیں رب تعالٰی اس پر اعتراض نہیں فرماتا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اب حوض کوثر عثمان غنی کی ملکیت ہے جو جنتی کوثر سے پئے گا وہ عثمان غنی کا پئے گا۔الله نے ہم کو بیر رومہ کا پانی تو پلادیا اپنے فضل سے کوثر کا پانی پلا دے۔
۶
؎یعنی میں تمہارے محاصرہ کی وجہ سے کھاری کنوؤں کا پانی پی رہا ہوں جن کا پانی سمندر کے پانی کی طرح کھاری ہے۔(اشعہ و مرقات ولمعات)یہ مطلب نہیں کہ سمندر کا پانی پی رہا ہوں کہ سمندر مدینہ منورہ سے بہت دور ہے۔
۷
؎مسجد نبوی شریف کی اصل زمین حضرت ابوبکر صدیق نے پچاس دینار کے عوض خریدی،اس پر مسجد اس طرح تعمیر ہوئی کہ کھجوروں کے ڈنڈ ستون بنائے گئے اور شاخیں گویا کڑیاں اور اس کے پتے چھت پتھر چن کر محراب النبی صلی الله علیہ و سلم بنی۔مگر مسلمان برابر بڑھتے رہے حتی کہ یہ مسجد تنگ ہوگئی تب حضور انور نے یہ فرمایا،حضرت عثمان غنی نے پچیس ہزار درہم میں آس پاس کی متصل زمین خریدی اور مسجد میں شامل کر دی یہاں یہ واقعہ بیان ہورہا ہے۔یہاں مرقات نے ایک عجیب واقعہ بیان فرمایا کہ حضور انور نے ایک مکہ والے سے کہا کہ تو اپنا مکان جو مسجد حرام سے متصل ہے جنت کے عوض میرے ہاتھ فروخت کردے تاکہ میں اسے مسجد حرام میں شامل کردوں اس نے انکار کردیا،حضرت عثمان اس کے گھر پہنچے اسے بیع پر راضی کرلیا،دس ہزار اشرفیوں میں اس کا گھر خریدا اور حضور انور سے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ وہ گھر جنت کی عوض مجھ سے خریدتے ہیں،فرمایا ہاں آپ نے وہ گھر حضور کو دے دیا حضور انور نے اسے مسجد حرام میں شامل فرمادیا۔معلوم ہوا کہ مسجد کعبہ اور مسجد نبوی دونوں میں آپ کی زمین شامل ہے۔(مرقات)حضورصلی الله علیہ و سلم نے مسلمانوں کو گواہ بنایا کہ میں عثمان کے لیے اس کی عوض جنت کے گھر کا ضامن ہوں۔
۸
؎یعنی مسجد نبوی شریف کا وہ الحاقی حصہ جو میرے گھر سے بالکل متصل ہے تم مجھے اس میں بھی دو رکعت نہیں پڑھنے دیتے چہ جائیکہ ریاض الجنت یا منبر کے پاس نماز پڑھ سکوں،آپ اس محاصرہ کے زمانہ میں مسجد نبوی شریف میں آنے کے لیے ترس گئے تھے۔
۹
؎غزوہ تبوک میں جانے والے لشکر اسلام کی سامان کی فہرست ابھی کچھ پہلے عرض کی گئی کہ آپ نے کل اونٹ نو سو پچاس گھوڑے پچاس اور کل دینار دس ہزار دیئے۔لشکر کی تعداد میں اختلاف ہے چالیس ستر ہزار یا ایک لاکھ۔معلوم ہوا کہ ضرورۃً اپنے نیک اعمال کا اعلان کرنا لوگوں سے ان کا اقرار کرانا جائز ہے تاکہ وہ ستانے سے باز آجائیں۔
۱۰
؎ثبیربروزن زبیر ایک شخص کا نام تھا ،چونکہ وہ اس پہاڑ پر دفن کیا گیا تھا اس لیے اس پہاڑ کا نام بھی ثبیر ہوگیا۔یہ مکہ معظمہ کا بہت بڑا پہاڑ ہے جو مکہ سے شروع ہوکر منیٰ میں پہنچتا ہے دونوں جگہ سے نظر آتا ہے اس لیے بعض لوگوں نے اسے مکہ معظمہ کا پہاڑ کہا ہے،بعض نے منیٰ کا دونوں قول درست ہیں۔جبل نور جس میں غار حرا واقع ہے اس مقابل کے سے یہ پہاڑ ثبیر بھی گزرتا ہے۔ (اشعہ،مرقات،لمعات)
۱۱
؎پہاڑ کیوں ہلا اس میں بہت قول ہیں۔قوی اور ظاہر تر قول یہ ہے کہ حضور انور کے قدم پڑنے سے اسے شوق و محبت میں وجد آگیا یہ حرکت اس کی وجدانی حالت تھی،ہوا چلتی ہے شاخیں ہلتی ہیں حضورصلی الله علیہ و سلم کے قدم پڑتے ہیں پتھر اور پہاڑ ہلتے ہیں،قرآن کریم میں سارے صفات نور،ہدایت،شفا پہلے ہی سے تھی مگر حضور انور پر نازل ہونے سے اس میں مکی مدنی ہونے کی صفت پیدا ہوئی،اس میں درد سوزوگداز پیدا ہوا کہ لوگ اسے سن کر بغیر سمجھے ہوئے بھی تڑپتے ہیں"تَرٰۤی اَعْیُنَهُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ"جیسے بیٹری جب کسی مشین سے چارج ہو جاوے تو اس میں پاور پیدا ہوجاتی ہے،یہ حدیث حضرات صوفیاء کے وجدان کے حال آنے کی اصل ہے۔
۱۲
؎پہاڑ کے نچلے حصے کوحضیضکہتے ہیں،اونچی چوٹی کوذروہیعنی وہ پہاڑ ایسا زور سے ہلا کہ اس کے پتھرپہاڑ کے نیچے گر گئے۔جو لوگ صوفیاء کے وجد پر اعتراض کرتے ہیں ان کے دل پتھر سے زیادہ سخت ہیں"فَهِیَ كَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً
۱۳
؎معلوم ہوا کہ پہاڑوں میں دانائی سمجھ بوجھ اور عشق رسول کی لگن ہے اس لیے حضور انور نے اسے ایڑی بھی ماری اور اس سے کلام بھی کیا وہ اس خطاب سے ٹھہر بھی گیا۔
۱۴
؎حضور صلی الله علیہ و سلم نبی بلکہ نبیوں کے سردار حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ یعنی قول و فعل حال و قال کے سچے اور حضرت عمر و عثمان دونوں شہید۔خیال رہے کہ یہاں شہید سے مراد حقیقی شہید ہے یعنی نیزہ یا تلوار سے زخمی ہو کر وفات پانے والے ورنہ حکمی شہید تو خود حضور صلی الله علیہ و سلم بھی ہیں اور حضرت ابوبکر بھی کہ حضور انور نے خیبر والے زہر سے اور جناب ابوبکر نے غار ثور والے سانپ کے زہر سے وفات پائی،ان دونوں میں سے حضرت عمر شہید حقیقی ہیں مگر غیرفقہی اور حضرت عثمان شہید حقیقی بھی ہیں فقہی ہیں۔
۱۵
؎اللھم نعمکے معنی یہ ہیں کہ الٰہی ہم کو کوئی جواب بن نہیں پڑتا سوائے اقرار کے اور اس کے کہ ہم کہیں ہاں۔
۱۶
؎یعنی اس حدیث کے مطابق میں شہید ہوں تو یقینًا میرا قاتل اور قاتل کے سارے مددگار ظالم خونخوار ہیں،یہ حدیث تمہیں ظالم قرار دے رہی ہے میں حق پر ہوں تم باطل پر۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ پہاڑ وغیرہ کو بھی حضور سے محبت ہے آپ ساری مخلوق کے محبوب ہیں کیوں نہ ہوں کہ خالق کے محبوب ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور انور کو پتھروں کے دل کی خبر ہے تو انہیں ہمارے دلوں کی خبر کیسے نہ ہوگی،ہمارے دکھ درد فراق کی جلن حضور سے مخفی نہیں۔تیسرے یہ کہ پہاڑ وغیرہ حضور کی بات سمجھتے ہیں ورنہ آپ اس سے یہ کلام نہ فرماتے۔چوتھے یہ کہ حضور انور کو سب کے انجام کی خبر ہے کہ کس طرح اور کس حال میں کس کی موت ہوگی کہ فرماتے ہیں ایک صدیق ہو کر اور دو شہید ہو کر وفات پائیں گے ایمان عرفان، محبت رحمان،عشق رسول میں دنیا سے جائیں گے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں حضور کو اپنی بھی خبر نہ تھی۔ پانچویں یہ کہ حضرت عثمان غنی قطعی یقینی شہید ہیں تو ان کے قاتل اور قاتل کے مددگار یقینی قطعی ظالم ہیں کہ شہید وہ ہی ہوتا ہے جو ظلمًا قتل کیا جاوے اسی طرح جو آج جناب عثمان کو برا کہتے ہیں وہ ظالم ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6075