- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6075
باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6075
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَن ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرُ بِئْرِ رُومَةَ؟ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ يَجْعَلُ دَلْوَهٗ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهٗ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتّٰى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِد بِخَير مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» . فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمُ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلٰى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهٗ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتّٰى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهٗ بِالْحَضِيضِ فَرَكَضَهٗ بِرِجْلِهٖ قَالَ: « اُسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ».قَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: اللّٰهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيّ
وعن ثمامة بن حزن القشيري قال: شهدت الدار حين أشرف عليهم عثمان فقال: أنشدكم الله والإسلام هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة وليس بها ماء يستعذب غير بئر رومة؟ فقال: «من يشتري بئر رومة يجعل دلوه مع دلاء المسلمين بخير له منها في الجنة؟» فاشتريتها من صلب مالي وأنتم اليوم تمنعونني أن أشرب منها حتى أشرب من ماء البحر؟ قالوا: اللهم نعم. فقال: أنشدكم الله والإسلام هل تعلمون أن المسجد ضاق بأهله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من يشتري بقعة آل فلان فيزيدها في المسجد بخير منها في الجنة؟» . فاشتريتها من صلب مالي فأنتم اليوم تمنعونني أن أصلي فيها ركعتين؟ فقالوا: اللهم نعم. قال: أنشدكم الله والإسلام هل تعلمون أني جهزت جيش العسرة من مالي؟ قالوا: اللهم نعم. قال: أنشدكم بالله والإسلام هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على ثبير مكة ومعه أبو بكر وعمر وأنا فتحرك الجبل حتى تساقطت حجارته بالحضيض فركضه برجله قال: « اسكن ثبير فإنما عليك نبي وصديق وشهيدان».قالوا: اللهم نعم. قال: الله أكبر شهدوا ورب الكعبة أني شهيد ثلاثا. رواه الترمذي والنسائي والدارقطني
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ثمامہ ابن حزن قشیری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں دار کے دن حاضر تھا۲؎جب کہ ان پر حضرت عثمان نے جھانکا فرمایا میں تم کو الله اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مدینہ میں تشریف لائے یہاں سوا رومہ کنویں کے میٹھا پانی نہ تھا ۳؎تو فرمایا کہ کون رومہ کنواں خریدے اوراپنا ڈول مسلمانوں کے ڈولوں کے ساتھ کردے بعوض جنت کی اس نعمت کے جو اس سے اچھی ہے ۴؎تو اسے میں نے اپنے ذاتی مال سے خرید لیا ۵؎اور تم آج مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو حتی کہ میں سمندر کا پانی پی رہا ہوں ۶؎لوگ بولے ہاں ضرور پھر فرمایا کہ میں تم کو الله اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ مسجد نمازیوں پر تنگ ہوگئی تھی تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آل فلاں کا علاقہ کون خریدے گا کہ اسے مسجد میں بڑھا دے جنت کی اس نعمت کی عوض جو اس سے بہتر ہے میں نے اسے اپنے ذاتی مال سے خرید لیا ۷؎مگر تم آج مجھے اس میں دو رکعت پڑھنے سے روکتے ہو ۸؎لوگ بولے ہاں ضرور انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو الله تعالٰی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے مال سے تنگی والے لشکر کو سامان دیا ۹؎لوگ بولے ہاں ضرور فرمایا میں تم کو الله تعالٰی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مکہ معظمہ کے ثبیر پہاڑ پر تھے۱۰؎اور حضور کے ساتھ ابوبکر اور عمر اور میں تھا تو پہاڑ ہلا ۱۱؎حتی کہ اس کے پتھر نیچے گر گئے ۱۲؎تو اسے حضور نے اپنے پاؤں سے ایڑی ماری فرمایا اے ثبیر ٹھہر جا ۱۳؎کہ تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۱۴؎لوگ بولے ہاں ضرور ۱۵؎آپ نے فرمایا الله اکبر قسم رب کعبہ کی انہوں نے گواہی دے دی میں شہید ہوں یہ تین بار کہا ۱۶؎(ترمذی،نسائی، دار قطنی)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت ثمامہ نے حضور انور کا زمانہ پایا مگر دیدار نہ کرسکے اس لیے آپ تابعین میں سے ہیں،آپ نے حضرت عمروعثمان، عبدالله ابن عمر،عائشہ صدیقہ،ابوالدرداء رضی الله عنہم کی زیارات کی ہیں۔
۲؎حضرت عثمان کے گھر شریف کا باغیوں نے محاصرہ کرلیا تھا،آپ اس گھر میں گھر گئے تھے باہر نہیں نکل سکتے تھے اس زمانہ کا نام یوم الدار ہے،آخر کار آپ اس زمانہ میں شہید کردیئے گئے۔
۳؎حضرت عثمان غنی نے چھت پر چڑھ کر گھیرا ڈالے ہوئے لوگوں کو آواز دی اور ان سے یہ کلام فرمایا۔رومہ اس کنوئیں کے مالک کا نام تھا جس سے عثمان غنی نے خریدا۔یہ مسجد قبلتین کے شمالی جانب واقع ہے،اس کا پانی بہت ہی میٹھا لذیذ اور ہلکا زودہضم ہے اب اسے بیر عثمان بھی کہتے ہیں اور بیر جنت بھی کیونکہ اس کنوئیں کی خرید پر حضرت عثمان سے جنت کا وعدہ فرمایا گیا۔فقیر نے اس کنوئیں کی زیارت کی ہے پانی پیا ہے۔
۴؎یعنی ایسا کون ہے جو یہ کنواں خرید کر وقف کردے کہ خود بھی اس کا پانی استعمال کرے اور دوسرے لوگ بھی اس کی عوض اسے جنت کا حوض کوثر دیا جائے گا۔خیال رہے کہ اوقاف بھی صدقہ ہوتے ہیں مگر ایسا کہ انہیں خود وقف کرنے والا بھی استعمال کرسکتا ہے جیسے کنواں،قبرستان،مسجد وغیرہ اس لیے ارشاد ہوا کہ اپنا ڈول مسلمانوں کے ڈول کے برابر کردے۔
۵؎یہ کنواں ایک یہودی کا تھا وہ بہت مہنگا پانی فروخت کرتا تھا اور مسلمانوں کو بہت تنگ کرتا تھا،آپ نے پینتیس۳۵۰۰۰ ہزار درہم میں یہ کنواں اس یہودی سے خریدا اور حضور سرکار عالی کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور میں یہ کنواں آپ کے ہاتھ کوثر کے عوض فروخت کرتا ہوں حضور خرید کر وقف فرمادیں،حضور نے فرمایا میں نے خرید لیا اور وقف کردیا۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ حضورصلی الله علیہ و سلم الله کی تمام نعمتوں کے بتملیک الٰہی مالک و مختار ہیں،جو نعمت جس کے ہاتھ چاہیں فروخت کردیں رب تعالٰی اس پر اعتراض نہیں فرماتا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ اب حوض کوثر عثمان غنی کی ملکیت ہے جو جنتی کوثر سے پئے گا وہ عثمان غنی کا پئے گا۔الله نے ہم کو بیر رومہ کا پانی تو پلادیا اپنے فضل سے کوثر کا پانی پلا دے۔
۶؎یعنی میں تمہارے محاصرہ کی وجہ سے کھاری کنوؤں کا پانی پی رہا ہوں جن کا پانی سمندر کے پانی کی طرح کھاری ہے۔(اشعہ و مرقات ولمعات)یہ مطلب نہیں کہ سمندر کا پانی پی رہا ہوں کہ سمندر مدینہ منورہ سے بہت دور ہے۔
۷؎مسجد نبوی شریف کی اصل زمین حضرت ابوبکر صدیق نے پچاس دینار کے عوض خریدی،اس پر مسجد اس طرح تعمیر ہوئی کہ کھجوروں کے ڈنڈ ستون بنائے گئے اور شاخیں گویا کڑیاں اور اس کے پتے چھت پتھر چن کر محراب النبی صلی الله علیہ و سلم بنی۔مگر مسلمان برابر بڑھتے رہے حتی کہ یہ مسجد تنگ ہوگئی تب حضور انور نے یہ فرمایا،حضرت عثمان غنی نے پچیس ہزار درہم میں آس پاس کی متصل زمین خریدی اور مسجد میں شامل کر دی یہاں یہ واقعہ بیان ہورہا ہے۔یہاں مرقات نے ایک عجیب واقعہ بیان فرمایا کہ حضور انور نے ایک مکہ والے سے کہا کہ تو اپنا مکان جو مسجد حرام سے متصل ہے جنت کے عوض میرے ہاتھ فروخت کردے تاکہ میں اسے مسجد حرام میں شامل کردوں اس نے انکار کردیا،حضرت عثمان اس کے گھر پہنچے اسے بیع پر راضی کرلیا،دس ہزار اشرفیوں میں اس کا گھر خریدا اور حضور انور سے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ وہ گھر جنت کی عوض مجھ سے خریدتے ہیں،فرمایا ہاں آپ نے وہ گھر حضور کو دے دیا حضور انور نے اسے مسجد حرام میں شامل فرمادیا۔معلوم ہوا کہ مسجد کعبہ اور مسجد نبوی دونوں میں آپ کی زمین شامل ہے۔(مرقات)حضورصلی الله علیہ و سلم نے مسلمانوں کو گواہ بنایا کہ میں عثمان کے لیے اس کی عوض جنت کے گھر کا ضامن ہوں۔
۸؎یعنی مسجد نبوی شریف کا وہ الحاقی حصہ جو میرے گھر سے بالکل متصل ہے تم مجھے اس میں بھی دو رکعت نہیں پڑھنے دیتے چہ جائیکہ ریاض الجنت یا منبر کے پاس نماز پڑھ سکوں،آپ اس محاصرہ کے زمانہ میں مسجد نبوی شریف میں آنے کے لیے ترس گئے تھے۔
۹؎غزوہ تبوک میں جانے والے لشکر اسلام کی سامان کی فہرست ابھی کچھ پہلے عرض کی گئی کہ آپ نے کل اونٹ نو سو پچاس گھوڑے پچاس اور کل دینار دس ہزار دیئے۔لشکر کی تعداد میں اختلاف ہے چالیس ستر ہزار یا ایک لاکھ۔معلوم ہوا کہ ضرورۃً اپنے نیک اعمال کا اعلان کرنا لوگوں سے ان کا اقرار کرانا جائز ہے تاکہ وہ ستانے سے باز آجائیں۔
۱۰؎ثبیربروزن زبیر ایک شخص کا نام تھا ،چونکہ وہ اس پہاڑ پر دفن کیا گیا تھا اس لیے اس پہاڑ کا نام بھی ثبیر ہوگیا۔یہ مکہ معظمہ کا بہت بڑا پہاڑ ہے جو مکہ سے شروع ہوکر منیٰ میں پہنچتا ہے دونوں جگہ سے نظر آتا ہے اس لیے بعض لوگوں نے اسے مکہ معظمہ کا پہاڑ کہا ہے،بعض نے منیٰ کا دونوں قول درست ہیں۔جبل نور جس میں غار حرا واقع ہے اس مقابل کے سے یہ پہاڑ ثبیر بھی گزرتا ہے۔ (اشعہ،مرقات،لمعات)
۱۱؎پہاڑ کیوں ہلا اس میں بہت قول ہیں۔قوی اور ظاہر تر قول یہ ہے کہ حضور انور کے قدم پڑنے سے اسے شوق و محبت میں وجد آگیا یہ حرکت اس کی وجدانی حالت تھی،ہوا چلتی ہے شاخیں ہلتی ہیں حضورصلی الله علیہ و سلم کے قدم پڑتے ہیں پتھر اور پہاڑ ہلتے ہیں،قرآن کریم میں سارے صفات نور،ہدایت،شفا پہلے ہی سے تھی مگر حضور انور پر نازل ہونے سے اس میں مکی مدنی ہونے کی صفت پیدا ہوئی،اس میں درد سوزوگداز پیدا ہوا کہ لوگ اسے سن کر بغیر سمجھے ہوئے بھی تڑپتے ہیں"تَرٰۤی اَعْیُنَهُمْ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمْعِ"جیسے بیٹری جب کسی مشین سے چارج ہو جاوے تو اس میں پاور پیدا ہوجاتی ہے،یہ حدیث حضرات صوفیاء کے وجدان کے حال آنے کی اصل ہے۔
۱۲؎پہاڑ کے نچلے حصے کوحضیضکہتے ہیں،اونچی چوٹی کوذروہیعنی وہ پہاڑ ایسا زور سے ہلا کہ اس کے پتھرپہاڑ کے نیچے گر گئے۔جو لوگ صوفیاء کے وجد پر اعتراض کرتے ہیں ان کے دل پتھر سے زیادہ سخت ہیں"فَهِیَ كَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً"۔
۱۳؎معلوم ہوا کہ پہاڑوں میں دانائی سمجھ بوجھ اور عشق رسول کی لگن ہے اس لیے حضور انور نے اسے ایڑی بھی ماری اور اس سے کلام بھی کیا وہ اس خطاب سے ٹھہر بھی گیا۔
۱۴؎حضور صلی الله علیہ و سلم نبی بلکہ نبیوں کے سردار حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ یعنی قول و فعل حال و قال کے سچے اور حضرت عمر و عثمان دونوں شہید۔خیال رہے کہ یہاں شہید سے مراد حقیقی شہید ہے یعنی نیزہ یا تلوار سے زخمی ہو کر وفات پانے والے ورنہ حکمی شہید تو خود حضور صلی الله علیہ و سلم بھی ہیں اور حضرت ابوبکر بھی کہ حضور انور نے خیبر والے زہر سے اور جناب ابوبکر نے غار ثور والے سانپ کے زہر سے وفات پائی،ان دونوں میں سے حضرت عمر شہید حقیقی ہیں مگر غیرفقہی اور حضرت عثمان شہید حقیقی بھی ہیں فقہی ہیں۔
۱۵؎اللھم نعمکے معنی یہ ہیں کہ الٰہی ہم کو کوئی جواب بن نہیں پڑتا سوائے اقرار کے اور اس کے کہ ہم کہیں ہاں۔
۱۶؎یعنی اس حدیث کے مطابق میں شہید ہوں تو یقینًا میرا قاتل اور قاتل کے سارے مددگار ظالم خونخوار ہیں،یہ حدیث تمہیں ظالم قرار دے رہی ہے میں حق پر ہوں تم باطل پر۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ پہاڑ وغیرہ کو بھی حضور سے محبت ہے آپ ساری مخلوق کے محبوب ہیں کیوں نہ ہوں کہ خالق کے محبوب ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور انور کو پتھروں کے دل کی خبر ہے تو انہیں ہمارے دلوں کی خبر کیسے نہ ہوگی،ہمارے دکھ درد فراق کی جلن حضور سے مخفی نہیں۔تیسرے یہ کہ پہاڑ وغیرہ حضور کی بات سمجھتے ہیں ورنہ آپ اس سے یہ کلام نہ فرماتے۔چوتھے یہ کہ حضور انور کو سب کے انجام کی خبر ہے کہ کس طرح اور کس حال میں کس کی موت ہوگی کہ فرماتے ہیں ایک صدیق ہو کر اور دو شہید ہو کر وفات پائیں گے ایمان عرفان، محبت رحمان،عشق رسول میں دنیا سے جائیں گے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں حضور کو اپنی بھی خبر نہ تھی۔ پانچویں یہ کہ حضرت عثمان غنی قطعی یقینی شہید ہیں تو ان کے قاتل اور قاتل کے مددگار یقینی قطعی ظالم ہیں کہ شہید وہ ہی ہوتا ہے جو ظلمًا قتل کیا جاوے اسی طرح جو آج جناب عثمان کو برا کہتے ہیں وہ ظالم ہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6075