Main Icon

باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6072

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَبَّابٍ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلٰى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: يَا رَسُول الله عَلَيَّ مِائَۃُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ حَضَّ عَلَى الجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ حَضَّ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ ثَلَاثُمِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: «مَا عَلٰى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهٖ مَا عَلٰى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هٰذِهٖ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن عبد الرحمن بن خباب قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان فقال: يا رسول الله علي مائۃ بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض على الجيش فقام عثمان فقال: علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض فقام عثمان فقال: علي ثلاثمائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر وهو يقول: «ما على عثمان ما عمل بعد هذه ما على عثمان ما عمل بعد هذه». رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن خباب سے فرماتے ہیں ۱؎کہ میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ عسرت کے لشکر پر رغبت دے رہے تھے۲؎تو جناب عثمان کھڑے ہوکر بولے یا رسول الله میرے ذمہ الله کی راہ میں سو اونٹ ان کے کمبل اور پلان کے ساتھ۳؎حضور نے اس لشکر کے متعلق پھر رغبت دی پھر جناب عثمان کھڑے ہوگئے عرض کیا میرے ذمہ دو سو اونٹ ہیں مع ان کے کمبل کے اور پلان کے حضور نے پھر رغبت دلائی تو عثمان کھڑے ہوگئے بولے میرے ذمہ الله کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ان کے کمبل و پالان کے۴؎تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور انور منبر سے اتر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اب اس کے بعد عثمان پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کریں اس کے بعد عثمان پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کر یں۵؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت خباب ابن ارت کے بیٹے ہیں،آپ خود تو تابعی ہیں مگر آپ کے والد خباب ابن ارت صحابی ہیں،آخر میں بصرہ میں قیام رہا وہاں ہی وفات ہوئی۔
۲
؎غزوہ عسرت غزوہ تبوک کا نام ہے اور اس غزوہ میں جانے والوں کو جیش عسرت کہتے ہیں کیونکہ یہ غزوہ مسلمانوں کی سخت تنگی ناداری بے سامانی کی حالت میں ہوا،گرمی سخت تھی تبوک جگہ بہت دور تھی۔چنانچہ خیبر مدینہ منورہ سے ایک سو ساٹھ میل ہے اور خیبر سے تبوک پانچ سو میل ہے تو تبوک مدینہ منورہ سے چھ سو ساٹھ۶۶۰ میل ہوا وہاں سے عمان وہاں سے بیت المقدس یہ سب ایک ہی راستہ پر ہیں،حضور انور نے لوگوں کو جہاد کے لیے چندہ دینے کا حکم دیا۔غزوہ تبوک حضور انور کا آخری غزوہ ہے جو ۹ھ؁ ∞ میں ہوا،اس کے بعد حضورصلی الله علیہ و سلم نے کوئی غزوہ نہ کیا(مرقات) اس غزوہ میں لشکر اسلام بہت بڑا تھا۔خیال رہے کہ غزوہ بدر میں لشکر اسلام تین سو تیرہ تھا،احد میں سات سو،حدیبیہ میں پندرہ سو،فتح مکہ میں دس ہزار اور غزوہ حنین میں بارہ ہزار(مرقات)تبوک میں چالیس ہزار اور ستر ہزار کے درمیان تھا۔(مدارج)
۳
؎احلاسجمع ہےحلسکی۔حلسوہ کمبل جو اونٹ پر کاٹھی کے نیچے ڈالا جاتاہے اس کا ترجمہ پھول کرلو اور۔اقتابجمع ہےقتبکی بمعنی پالان جس میں سواری کی جاتی ہے۔(مرقات و اشعہ)مطلب یہ ہے کہ سو اونٹ مع تمام سامان کے میں حاضر کرتا ہوں۔
۴
؎حضور انور نے تین بار چندہ کی اپیل کی ہر بار میں حضرت عثمان نے سو دو تین سو اونٹ کا مع سامان کے اعلان کیا کسی کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا،چھ سو اونٹ مع سامان کا بھی اعلان کیا اور ایک ہزار اشرفیوں کا بھی جیساکہ دوسری روایات میں آرہا ہے۔خیال رہے کہ یہ تو ان کا اعلان تھا مگر حاضر کرنے کے وقت نو سو پچاس اونٹ پچاس گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں پیش کیں پھر بعد میں دس ہزار اشرفیاں اور پیش کیں دیکھو مرقات۔ہم نے حضرت عثمان کی شان میں یہ واقعہ یوں عرض کیا ہے۔شعر
دست عطا کھل گیا دیکھا جو یہ ماجرا غازیان مصطفی بے سرو سامان ہیں
خیال رہے کہ آپ نے پہلی بار میں ایک سو کا اعلان کیا،دوسری بار سو کے علاوہ اور دو سو کا،تیسری بار اور تین سو کا کل چھ سو کا اعلان فرمایا۔(مرقات)
۵
؎اس عبارت میں پہلامانافیہ ہےما علٰی عثماناور دوسراماموصولہ ہےما عمل بعد ھذہ،یعنی عثمان اب اس کے بعد جو کام بھی کریں انہیں مضر نہ ہوگا۔اس فرمان عالی کا منشاء یہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان کو گناہوں کی اجازت دے دی گئی بلکہ یہ ایسا ہے جیسے پرندے کے پر کاٹ کر اس سے کہا جاوے کہ جا اڑتا پھر اب اڑے کاہے سے یوں ہی حضور انور نے ان کے دل پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اب عثمان کے دل میں گناہ کرنے کا خیال بھی کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں عمل سے مراد نفلی عمل ہیں یعنی اگر اب عثمان کوئی نفلی عبادت نہ کریں تو مضر نہیں مگر یہ غلط ہے نقصان نہیں ہوتا،نفل تو ہوتا ہی وہ ہے جس کے نہ کرنے پر نقصان نہ ہو لہذا مطلب وہ ہی ہے جو ہم نے کہا کیونکہ عبادت نہ کرنے سے تو ہم کو بھی غرض کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6072