- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6072
باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6072
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَبَّابٍ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلٰى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: يَا رَسُول الله عَلَيَّ مِائَۃُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ حَضَّ عَلَى الجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ حَضَّ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ ثَلَاثُمِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: «مَا عَلٰى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهٖ مَا عَلٰى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هٰذِهٖ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وعن عبد الرحمن بن خباب قال: شهدت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان فقال: يا رسول الله علي مائۃ بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض على الجيش فقام عثمان فقال: علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض فقام عثمان فقال: علي ثلاثمائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينزل عن المنبر وهو يقول: «ما على عثمان ما عمل بعد هذه ما على عثمان ما عمل بعد هذه». رواه الترمذي
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن خباب سے فرماتے ہیں ۱؎کہ میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ عسرت کے لشکر پر رغبت دے رہے تھے۲؎تو جناب عثمان کھڑے ہوکر بولے یا رسول الله میرے ذمہ الله کی راہ میں سو اونٹ ان کے کمبل اور پلان کے ساتھ۳؎حضور نے اس لشکر کے متعلق پھر رغبت دی پھر جناب عثمان کھڑے ہوگئے عرض کیا میرے ذمہ دو سو اونٹ ہیں مع ان کے کمبل کے اور پلان کے حضور نے پھر رغبت دلائی تو عثمان کھڑے ہوگئے بولے میرے ذمہ الله کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ان کے کمبل و پالان کے۴؎تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور انور منبر سے اتر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اب اس کے بعد عثمان پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کریں اس کے بعد عثمان پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کر یں۵؎(ترمذی)
شرح حدیث
۱∞؎آپ حضرت خباب ابن ارت کے بیٹے ہیں،آپ خود تو تابعی ہیں مگر آپ کے والد خباب ابن ارت صحابی ہیں،آخر میں بصرہ میں قیام رہا وہاں ہی وفات ہوئی۔
۲؎غزوہ عسرت غزوہ تبوک کا نام ہے اور اس غزوہ میں جانے والوں کو جیش عسرت کہتے ہیں کیونکہ یہ غزوہ مسلمانوں کی سخت تنگی ناداری بے سامانی کی حالت میں ہوا،گرمی سخت تھی تبوک جگہ بہت دور تھی۔چنانچہ خیبر مدینہ منورہ سے ایک سو ساٹھ میل ہے اور خیبر سے تبوک پانچ سو میل ہے تو تبوک مدینہ منورہ سے چھ سو ساٹھ۶۶۰ میل ہوا وہاں سے عمان وہاں سے بیت المقدس یہ سب ایک ہی راستہ پر ہیں،حضور انور نے لوگوں کو جہاد کے لیے چندہ دینے کا حکم دیا۔غزوہ تبوک حضور انور کا آخری غزوہ ہے جو ۹ھ ∞ میں ہوا،اس کے بعد حضورصلی الله علیہ و سلم نے کوئی غزوہ نہ کیا(مرقات) اس غزوہ میں لشکر اسلام بہت بڑا تھا۔خیال رہے کہ غزوہ بدر میں لشکر اسلام تین سو تیرہ تھا،احد میں سات سو،حدیبیہ میں پندرہ سو،فتح مکہ میں دس ہزار اور غزوہ حنین میں بارہ ہزار(مرقات)تبوک میں چالیس ہزار اور ستر ہزار کے درمیان تھا۔(مدارج)
۳؎احلاسجمع ہےحلسکی۔حلسوہ کمبل جو اونٹ پر کاٹھی کے نیچے ڈالا جاتاہے اس کا ترجمہ پھول کرلو اور۔اقتابجمع ہےقتبکی بمعنی پالان جس میں سواری کی جاتی ہے۔(مرقات و اشعہ)مطلب یہ ہے کہ سو اونٹ مع تمام سامان کے میں حاضر کرتا ہوں۔
۴؎حضور انور نے تین بار چندہ کی اپیل کی ہر بار میں حضرت عثمان نے سو دو تین سو اونٹ کا مع سامان کے اعلان کیا کسی کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا،چھ سو اونٹ مع سامان کا بھی اعلان کیا اور ایک ہزار اشرفیوں کا بھی جیساکہ دوسری روایات میں آرہا ہے۔خیال رہے کہ یہ تو ان کا اعلان تھا مگر حاضر کرنے کے وقت نو سو پچاس اونٹ پچاس گھوڑے اور ایک ہزار اشرفیاں پیش کیں پھر بعد میں دس ہزار اشرفیاں اور پیش کیں دیکھو مرقات۔ہم نے حضرت عثمان کی شان میں یہ واقعہ یوں عرض کیا ہے۔شعر
دست عطا کھل گیا دیکھا جو یہ ماجرا غازیان مصطفی بے سرو سامان ہیں
خیال رہے کہ آپ نے پہلی بار میں ایک سو کا اعلان کیا،دوسری بار سو کے علاوہ اور دو سو کا،تیسری بار اور تین سو کا کل چھ سو کا اعلان فرمایا۔(مرقات)
۵؎اس عبارت میں پہلامانافیہ ہےما علٰی عثماناور دوسراماموصولہ ہےما عمل بعد ھذہ،یعنی عثمان اب اس کے بعد جو کام بھی کریں انہیں مضر نہ ہوگا۔اس فرمان عالی کا منشاء یہ نہیں ہے کہ حضرت عثمان کو گناہوں کی اجازت دے دی گئی بلکہ یہ ایسا ہے جیسے پرندے کے پر کاٹ کر اس سے کہا جاوے کہ جا اڑتا پھر اب اڑے کاہے سے یوں ہی حضور انور نے ان کے دل پر اپنا ہاتھ رکھ لیا اب عثمان کے دل میں گناہ کرنے کا خیال بھی کیسے پیدا ہوسکتا ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں عمل سے مراد نفلی عمل ہیں یعنی اگر اب عثمان کوئی نفلی عبادت نہ کریں تو مضر نہیں مگر یہ غلط ہے نقصان نہیں ہوتا،نفل تو ہوتا ہی وہ ہے جس کے نہ کرنے پر نقصان نہ ہو لہذا مطلب وہ ہی ہے جو ہم نے کہا کیونکہ عبادت نہ کرنے سے تو ہم کو بھی غرض کیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6072