Main Icon

باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6071

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَرَاه ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ

وراه ابن ماجه عن أبي هريرة وقال الترمذي: هذاحديث غريب وليس إسناده بالقوي وهو منقطع

حدیث ترجمہ

اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد قوی نہیں ۱؎اور یہ منقطع ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث بہت اسنادوں اور مختلف الفاظ سے مروی ہے۔اس کثرت اسناد سے اس کا ضعف جاتا رہا،نیز ترمذی کی اسناد ضعیف ہے باقی اسنادیں صحیح ہیں۔چنانچہ یہ حدیث ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہ سے،امام سیوطی نے جامع صغیر میں،ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ سے،ریاض میں حضرت زید ابن اسلم سے مختلف الفاظ سے روایت کی۔(مرقات)یوں ہی امام احمد نے حضرت طلحہ سے روایت کی۔
۳
؎منقطع حدیث وہ ہے جس کی اسناد میں ایک راوی یا دو راوی الگ الگ جگہ سے چھوٹ گئے ہوں اور اگر دو راوی مسلسل چھوٹ گئے ہوں تو اسے معضل کہتے ہیں۔ان شاء اللهحدیث کے اقسام و احکام ہم شرح کے آخر میں لکھیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6071