Main Icon

باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2720

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ » . قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَكَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُم؟ قَالَ: «يُخْسَفُ وَآخِرِهِمْ ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلٰى نِيَّاتِهِمْ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يغزو جيش الكعبة فإذا كانوا ببيداء من الأرض يخسف بأولهم وآخرهم » . قلت: يا رسول الله وكيف يخسف بأولهم وآخرهم وفيهم أسواقهم ومن ليس منهم؟ قال: «يخسف وآخرهم ثم يبعثون على نياتهم »(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کہ ایک لشکر کعبہ معظمہ پر حملہ کرے گا تو جب میدانی زمین میں ہوں گے تو ان کے اگلے پچھلے سب کو دھنسا دیا جائے گا ۱؎میں نے عرض کی یارسول اللّٰه ان کے اگلے پچھلوں کو کیسے دھنسایا جائے گا ان میں سوداگر بھی ہوں گے اور وہ بھی جو اس لشکر سے نہیں۲؎فرمایا کہ دھنسایا تو سارے اگلے پچھلوں کو جائے گا پھر اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا کہ ایک بڑا لشکر بربادی خانہ کعبہ کے لیے مکہ معظمہ پر حملہ کرے گا اور دھنسایاجائے گا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ واقعہ ہوچکا مہدی موعود شاہ سفیان شاہ مصر کے زمانہ میں مگر حق پہلی بات ہے۔
۲
؎اسواقیا توسوقہکی جمع ہے بمعنے رعایا اور کام کاج والے یاسوقیکی جمع ہے،بمعنی بازار میں رہنے والے سوداگر۔ سوال کا منشاء یہ ہے کہ مجرم تو ان میں سے بعض ہیں سزا ملی سب کو کیونکہ اس لشکر میں تجارتی کاروبار کرنے والے سپاہیوں کے خدمتگار اور کھانا وغیرہ پکانے والے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو جبرًا لائے گئے ان کی نیت حملے کی نہ تھی۔
۳
؎یعنی چونکہ ان لوگوں نے بھی اس لشکر کی تعداد بڑھائی ان کی اس جرم پر امداد کی اور مجرموں کے ساتھ رہے اس لیے یہ بھی سزا کے مستحق ہوگئے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاتَّقُوۡا فِتْنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمْ خَآصَّۃً وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الْعِقَابِ"۔معلوم ہوا کہ بروں کی امداد کرنا بھی برا،ہاں پھر قیامت میں یہ فرق ہوجائے گا کہ ان میں سے مؤمن مؤمنوں کے زمرے میں اٹھیں گے اور کافر کافروں کے ساتھ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2720