Main Icon

باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2724

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: «مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمكة: «ما أطيبك من بلد وأحبك إلي ولولا أن قومي أخرجوني منك ما سكنت غيرك» . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن صحيح غريب إسنادا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے مکہ معظمہ سے فرمایا ۱؎تو کیسا پاکیزہ شہر ہے اور تو مجھے کیسا پیارا ہے اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور بستی میں نہ رہتا ۲؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد کے لحاظ سے حسن بھی ہے صحیح بھی غریب بھی۔

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا یہ فرمان عالی ہجرت کی رات ہے جب حضور انور حضرت صدیق کو ہمراہ لےکر جانب مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور مکہ معظمہ سے باہر پہنچے تو حسرت بھری نگاہوں سے بستی مکہ معظمہ پر نگاہ کی اور یہ فرمایا،مرقات نے کہا کہ یہ کلام فتح مکہ کے دن وہاں سے واپسی کے وقت ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔واللّٰه اعلم!۲؎جمہور علماء کے نزدیک مکہ معظمہ شہر مدینہ منورہ سے افضل اور حضور کو زیادہ پیارا ہے ان کی دلیل یہ حدیث ہے، امام مالک کے ہاں مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے افضل ہے،وہ اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس میں پہلی حالت کا ذکر ہے،پھر حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو مدینہ منورہ زیادہ پیارا ہوگیا جیساکہ اگلے باب میں آرہا ہے۔فتویٰ یہی ہے کہ مکہ معظمہ مدینہ منورہ سے افضل ہے مگر عشاق کی نگاہ میں مدینہ منورہ افضل کیونکہ وہ محبوب کی آرام گاہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2724