- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 4
- کتاب ارکان حج
- حدیث نمبر 2726
باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2726
کتاب ارکان حج - جلد 4
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهٗ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلٰى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهٖ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهٖ : حَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللّٰهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهٗ: إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهٖ وَ لَمْ يَأْذَنْ لِرَسُولِهٖ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أُذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةَ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ وَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالُ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذٰلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ أَنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِحُزْبَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي الْبُخَارِيِّ: الْحُزْبَةُ: الْجِنَايَةُ
عن أبي شريح العدوي أنه قال لعمرو بن سعيد وهو يبعث البعوث إلى مكة: ائذن لي أيها الأمير أحدثك قولا قام به رسول الله صلى الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح سمعته أذناي ووعاه قلبي وأبصرته عيناي حين تكلم به : حمد الله وأثنى عليه ثم قال: " إن مكة حرمها الله ولم يحرمها الناس فلا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسفك بها دما ولا يعضد بها شجرة فإن أحد ترخص بقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا له: إن الله قد أذن لرسوله و لم يأذن لرسوله ولم يأذن لكم وإنما أذن لي فيها ساعة نهار وقد عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالأمس وليبلغ الشاهد الغائب ". فقيل لأبي شريح: ما قال لك عمرو؟ قال: قال: أنا أعلم بذلك منك يا أبا شريح أن الحرم لا يعيذ عاصيا ولا فارا بدم ولا فارا بحزبة. متفق عليه. وفي البخاري: الحزبة: الجناية
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو شریح عدوی سے انہوں نے عمرو ابن سعید سے فرمایا ۱؎جب کہ وہ مکہ معظمہ پر لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر مجھے اجازت دے کہ میں تجھے وہ فرمان پاک سناؤ جسے کل فتح مکہ کے دن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کھڑے ہو کر فرمایا ۲؎جسے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے محفوظ کیا اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو میری آنکھوں نے کلام کرتے وقت دیکھا ۳؎اپنے اللّٰه کی حمد و ثنا کی بھی فرمایا کہ مکہ کو اللّٰه نے حرم بنایا ہے کسی انسان نے نہ بنایا ۴؎تو کسی بھی اس شخص کو جو اللّٰه اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہویہ جائز نہیں کہ وہاں خون بہائے اور نہ وہاں کا درخت کاٹے ۵؎اگر کوئی رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے جہادسے اجازت سمجھے تو اسے کہہ دو کہ اللّٰه تعالٰی نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دے دی تھی اور تم کو نہ دی ۶؎رب نے مجھے دن کی ایک گھڑی اجازت دی تھی اب آج اس کی حرمت کل کی طرح ہی لوٹ آئی ۷؎حاضرین غائبین کو پہنچادیں ابو شریح سے کہا گیا کہ پھر تم سے عمرو نے کیا کہا فرمایا وہ بولا اے ابو شریح میں تم سے یہ زیادہ جانتا ہوں کہ حرم شریف نہ تو مجرم کو پناہ دے سکتا ہے ۸؎نہ خون کرکے بھاگے ہوئے کو ۹؎نہ فساد کرکے بھاگے کو ۱۰؎(مسلم،بخاری)اور بخاری میں ہے کہ حزبہ خیانت ہے۔
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام خویلا ابن عمرو کعبی عدوی خزاعی ہے،کنیت ابو شریح،صحابی ہیں،فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے، ۶۸ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،اپنی کنیت میں مشہور ہوئے۔(اکمال)اور عمرو ابن سعید ابن عاص اموی قرشی اپنے چچا زاد بھائی عبدالملک ابن مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا،پھر اسے عبدالملک نے سیدنا عبداللّٰه ابن زبیر رضی اللّٰہ عنہ سے جنگ کرنے پر مقرر کیا،حضرت ابن زبیر مکہ معظمہ و عراق وغیرہ کے سلطان برحق تھے۔(اشعہ و مرقات) جب عمرو نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کرنے کے لیے لشکر تیار کیا،حضرت ابو شریح نے اسے عظمت مکہ معظمہ کی طرف متوجہ فرمایا۔
۲؎غدسے مراد یا تو فتح مکہ سے دوسرا دن ہے یعنی فتح کی کل یا مطلب یہ ہے کہ یہ کل کی بات ہے ابھی اسے کچھ عرصہ نہ گزرا تو نے ابھی سے اس پر عمل چھوڑ دیاتو آئندہ کیا بنے گا۔
۳؎یعنی یہ واقعہ اور یہ حدیث میں کسی سے سنی سنائی نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ اسے میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے اور دور سے نہیں سنا بلکہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے میں بہت قریب تھا اور بغیر سمجھے نہیں سنا بلکہ سمجھ کر سنا لہذا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے حدیث بالکل صحیح ہے۔
۴؎یعنی مکہ معظمہ کو حرم بنانے والا خود رب تعالٰی ہے،کسی شخص نے اپنی رائے سے اسے حرم نہیں بنایا ہے تاکہ دوسرے آدمی کی رائے سے اس کی حرمت جاتی رہےلہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں کہ وہاں یہ مطلب ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حرم ہونے کی دعا کی رب نے اسے حرم بنادیا وہاں اسناد مجازی ہے یہاں حقیقی۔
۵؎اللّٰه تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ساری ایمانیات کا معتقد ہو دو کناروں کا ذکر فرمایا۔تمام عقائد مراد لیے گئے، درخت سے مراد خود رو درخت ہیں اپنے بوئے ہوئے درخت حرم شریف میں کاٹے جاسکتے ہیں،خون بہانے سے مراد اس کا خون بہانا ہے جو شرعًا واجب القتل ہو اور حرم شریف میں پناہ لے لے جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا،ورنہ حرم شریف میں جانور ذبح ہوتے ہیں، وہاں کے مجرم کو قتل کیا جاسکتا ہے محفوظ الدم شخص کا خون بہانا غیر حرم میں بھی حرام ہے لہذا حدیث واضح ہے۔
۶؎یعنی فتح مکہ کے دن ہمارا مکہ معظمہ پر حملہ کرنا اور حملہ کے دوران میں حضرت خالد بن ولید کی تلوار سے ستر۷۰ انسانوں کا حرم شریف میں خون ہوجانا یہ ہماری خصوصیات سے ہے اور خصوصیات میں پیروی نہیں ہوتی،نہ وہ افعال و اعمال سنت کہلاتے ہیں ہمارے واسطے وہ قتال وقتی طور پر حلال تھا تمہارے لیے دائمی حرام۔
۷؎کل سے مراد سارا گذشتہ زمانہ ہے یعنی جیسے حرم محترم کی حرمت کل تھی ایسے ہی آج ہے اور تاقیامت رہے گی۔
۸؎اس کا مقصد یہ تھا کہ عبدالملک خلیفہ برحق ہے اور حضرت عبداللّٰه ابن زبیر اس کے باغی ہیں،مکہ معظمہ میں باغیوں کی سرکوبی کرنا جائز ہے میں اس فعل پر مجرم نہیں۔
۹؎یعنی جو حرم کے باہر خون کرے اور حرم میں پناہ لے لے اسے امن نہیں بلکہ اس پر روزی تنگ کی جائے تاکہ وہ نکلے اور باہر ہونے پر قتل کردیا جائے اور اگر اس مردود کا مقصد یہ ہے کہ باہر حرم کا مجرم حرم میں قتل کیا جائے گا تو غلط ہے،وہ عمرو ابن سعید ظالم وفاسق بھی تھا اور نرا جاہل بھی لہذا یہ جملہ شوافع کی دلیل نہیں،جہلاء کے اقوال سے دلیل کیسی۔(مرقات)
۱۰؎خربہ خکے پیشرکے جزم سے،اس کے لغوی معنے ہیں اونٹ کی چوری،اب اصطلاح میں مطلقًا فساد کو کہتے ہیں اس کی مراد فساد سے جانی مالی ملکی فساد ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2726