Main Icon

باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 2726

کتاب ارکان حج - جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهٗ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلٰى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا قَامَ بِهٖ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الغدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهٖ : حَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللّٰهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهٗ: إِنَّ اللّٰهَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِهٖ وَ لَمْ يَأْذَنْ لِرَسُولِهٖ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ وَإِنَّمَا أُذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةَ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ وَلْيُبْلِغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ". فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالُ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذٰلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ أَنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِحُزْبَةٍ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي الْبُخَارِيِّ: الْحُزْبَةُ: الْجِنَايَةُ

عن أبي شريح العدوي أنه قال لعمرو بن سعيد وهو يبعث البعوث إلى مكة: ائذن لي أيها الأمير أحدثك قولا قام به رسول الله صلى الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح سمعته أذناي ووعاه قلبي وأبصرته عيناي حين تكلم به : حمد الله وأثنى عليه ثم قال: " إن مكة حرمها الله ولم يحرمها الناس فلا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسفك بها دما ولا يعضد بها شجرة فإن أحد ترخص بقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا له: إن الله قد أذن لرسوله و لم يأذن لرسوله ولم يأذن لكم وإنما أذن لي فيها ساعة نهار وقد عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالأمس وليبلغ الشاهد الغائب ". فقيل لأبي شريح: ما قال لك عمرو؟ قال: قال: أنا أعلم بذلك منك يا أبا شريح أن الحرم لا يعيذ عاصيا ولا فارا بدم ولا فارا بحزبة. متفق عليه. وفي البخاري: الحزبة: الجناية

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو شریح عدوی سے انہوں نے عمرو ابن سعید سے فرمایا ۱؎جب کہ وہ مکہ معظمہ پر لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر مجھے اجازت دے کہ میں تجھے وہ فرمان پاک سناؤ جسے کل فتح مکہ کے دن رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے کھڑے ہو کر فرمایا ۲؎جسے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے محفوظ کیا اور حضور صلی اللّٰہ علیہ و سلم کو میری آنکھوں نے کلام کرتے وقت دیکھا ۳؎اپنے اللّٰه کی حمد و ثنا کی بھی فرمایا کہ مکہ کو اللّٰه نے حرم بنایا ہے کسی انسان نے نہ بنایا ۴؎تو کسی بھی اس شخص کو جو اللّٰه اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہویہ جائز نہیں کہ وہاں خون بہائے اور نہ وہاں کا درخت کاٹے ۵؎اگر کوئی رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے جہادسے اجازت سمجھے تو اسے کہہ دو کہ اللّٰه تعالٰی نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دے دی تھی اور تم کو نہ دی ۶؎رب نے مجھے دن کی ایک گھڑی اجازت دی تھی اب آج اس کی حرمت کل کی طرح ہی لوٹ آئی ۷؎حاضرین غائبین کو پہنچادیں ابو شریح سے کہا گیا کہ پھر تم سے عمرو نے کیا کہا فرمایا وہ بولا اے ابو شریح میں تم سے یہ زیادہ جانتا ہوں کہ حرم شریف نہ تو مجرم کو پناہ دے سکتا ہے ۸؎نہ خون کرکے بھاگے ہوئے کو ۹؎نہ فساد کرکے بھاگے کو ۱۰؎(مسلم،بخاری)اور بخاری میں ہے کہ حزبہ خیانت ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام خویلا ابن عمرو کعبی عدوی خزاعی ہے،کنیت ابو شریح،صحابی ہیں،فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے، ۶۸ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،اپنی کنیت میں مشہور ہوئے۔(اکمال)اور عمرو ابن سعید ابن عاص اموی قرشی اپنے چچا زاد بھائی عبدالملک ابن مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا،پھر اسے عبدالملک نے سیدنا عبداللّٰه ابن زبیر رضی اللّٰہ عنہ سے جنگ کرنے پر مقرر کیا،حضرت ابن زبیر مکہ معظمہ و عراق وغیرہ کے سلطان برحق تھے۔(اشعہ و مرقات) جب عمرو نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کرنے کے لیے لشکر تیار کیا،حضرت ابو شریح نے اسے عظمت مکہ معظمہ کی طرف متوجہ فرمایا۔
۲
؎غدسے مراد یا تو فتح مکہ سے دوسرا دن ہے یعنی فتح کی کل یا مطلب یہ ہے کہ یہ کل کی بات ہے ابھی اسے کچھ عرصہ نہ گزرا تو نے ابھی سے اس پر عمل چھوڑ دیاتو آئندہ کیا بنے گا۔
۳
؎یعنی یہ واقعہ اور یہ حدیث میں کسی سے سنی سنائی نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ اسے میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے اور دور سے نہیں سنا بلکہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے میں بہت قریب تھا اور بغیر سمجھے نہیں سنا بلکہ سمجھ کر سنا لہذا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے حدیث بالکل صحیح ہے۔
۴
؎یعنی مکہ معظمہ کو حرم بنانے والا خود رب تعالٰی ہے،کسی شخص نے اپنی رائے سے اسے حرم نہیں بنایا ہے تاکہ دوسرے آدمی کی رائے سے اس کی حرمت جاتی رہےلہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں کہ وہاں یہ مطلب ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حرم ہونے کی دعا کی رب نے اسے حرم بنادیا وہاں اسناد مجازی ہے یہاں حقیقی۔
۵
؎اللّٰه تعالٰی اور قیامت پر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ساری ایمانیات کا معتقد ہو دو کناروں کا ذکر فرمایا۔تمام عقائد مراد لیے گئے، درخت سے مراد خود رو درخت ہیں اپنے بوئے ہوئے درخت حرم شریف میں کاٹے جاسکتے ہیں،خون بہانے سے مراد اس کا خون بہانا ہے جو شرعًا واجب القتل ہو اور حرم شریف میں پناہ لے لے جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا،ورنہ حرم شریف میں جانور ذبح ہوتے ہیں، وہاں کے مجرم کو قتل کیا جاسکتا ہے محفوظ الدم شخص کا خون بہانا غیر حرم میں بھی حرام ہے لہذا حدیث واضح ہے۔
۶
؎یعنی فتح مکہ کے دن ہمارا مکہ معظمہ پر حملہ کرنا اور حملہ کے دوران میں حضرت خالد بن ولید کی تلوار سے ستر۷۰ انسانوں کا حرم شریف میں خون ہوجانا یہ ہماری خصوصیات سے ہے اور خصوصیات میں پیروی نہیں ہوتی،نہ وہ افعال و اعمال سنت کہلاتے ہیں ہمارے واسطے وہ قتال وقتی طور پر حلال تھا تمہارے لیے دائمی حرام۔
۷
؎کل سے مراد سارا گذشتہ زمانہ ہے یعنی جیسے حرم محترم کی حرمت کل تھی ایسے ہی آج ہے اور تاقیامت رہے گی۔
۸
؎اس کا مقصد یہ تھا کہ عبدالملک خلیفہ برحق ہے اور حضرت عبداللّٰه ابن زبیر اس کے باغی ہیں،مکہ معظمہ میں باغیوں کی سرکوبی کرنا جائز ہے میں اس فعل پر مجرم نہیں۔
۹
؎یعنی جو حرم کے باہر خون کرے اور حرم میں پناہ لے لے اسے امن نہیں بلکہ اس پر روزی تنگ کی جائے تاکہ وہ نکلے اور باہر ہونے پر قتل کردیا جائے اور اگر اس مردود کا مقصد یہ ہے کہ باہر حرم کا مجرم حرم میں قتل کیا جائے گا تو غلط ہے،وہ عمرو ابن سعید ظالم وفاسق بھی تھا اور نرا جاہل بھی لہذا یہ جملہ شوافع کی دلیل نہیں،جہلاء کے اقوال سے دلیل کیسی۔(مرقات)
۱۰
؎خربہ خکے پیشرکے جزم سے،اس کے لغوی معنے ہیں اونٹ کی چوری،اب اصطلاح میں مطلقًا فساد کو کہتے ہیں اس کی مراد فساد سے جانی مالی ملکی فساد ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 4 , حدیث نمبر: 2726