Main Icon

باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5547

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ رَأْيُ عَيْنٍ فَلْيَقْرَأْ: {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ}، و {إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ} ، و {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من سره أن ينظر إلى يوم القيامة كأنه رأي عين فليقرأ: {إذا الشمس كورت}، و {إذا السماء انفطرت} ، و {إذا السماء انشقت} ". رواه أحمد والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جسے یہ پسند ہو کہ قیامت کا دن آنکھوں دیکھے کی طرح دیکھے ۱∞؎تواذا الشمس کوّرتاوراذا السماء انفطرتاوراذا السماء انشقتکی تلاوت کرے۲؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎سن کر یقین کو علم الیقین کہتے ہیں،دیکھ کر یقین عین الیقین کہلاتا ہے،اندر داخل ہوکر آزماکر یقین حق الیقین کہلاتا ہے۔ابھی ہم لوگوں کو قیامت اور وہاں کے حالات کا یقین ہے مگر علم الیقین،سرکار فرمارہے ہیں کہ اگر تم قیامت کا عین الیقین چاہتے ہو تو یہ سورتیں پڑھو،ان میں قیامت کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے جیسے کہ بندہ اسے دیکھ ہی رہا ہے،بعض بیان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے سننے سے خبرگویا سامنے آجاتی ہے۔۲؎ان سورتوں میں قیامت کا بیان اس کے حالات ایسے طریقہ سے بیان ہوئے ہیں کہ قیامت گویا سامنے آجاتی ہے،بعض وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم قیامت کا ذکر ایسے ہی فرماتے تھے کہ قیامت کا نقشہ نگاہوں کے سامنے کھچ جاتا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5547