Main Icon

باب : حشر کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5536

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ؟ فَقَالَ: "يَا عَائِشَةُ! الأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا". قلت: يا رسول الله! الرجال والنساء جميعا ينظر بعضهم إلى بعض؟ فقال: "يا عائشة! الأمر أشد من أن ينظر بعضهم إلى بعض". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں،ننگے بدن،بے ختنہ جمع کیے جائیں گے ۱∞؎میں نے عرض کیا یارسول الله مرد و عورتیں سارے بعض بعض کو دیکھیں گے۲؎تو فرمایا اے عائشہ وہ حال اس سے سخت تر ہوگا کہ بعض بعض کی طرف نظر بھی کریں۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ناسفرماکر بتایا کہ یہ حالت عام لوگوں کی ہوگی حضرات انبیاء و خاص اولیاء کی یہ حالت نہیں جیساکہ پہلے عرض کیا گیا،نیز جنات جانوروں کے جمع ہونے کی اور نوعیت ہوگی وہ بھیالناسسے خارج ہیں۔۲؎یعنی رب تعالٰی پاکباز نیک بی بیوں کی بے پردگی کیوں فرمائے گا،وہ مردوں کے سامنے صرف بے پردہ ہی نہیں بلکہ ننگی ہوں،بڑا پیارا سوال ہے۔خیال رہے کہ ازواج پاک اور فاطمہ زہرہ باپردہ اٹھیں گی جیساکہ عرض کیا گیا کہ وہ خاص اولیاء الله میں داخل ہیں۔۳؎یعنی اس دن جلال و ہیبت حجاب بن جاوے گی کوئی کسی کو نہ دیکھے گا،سب کی نظر آسمان پر ہوگی قدم زمین پر، آج بھی بڑی آفت میں سامنے والا آدمی پاس کی چیز نظر نہیں آتی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5536