Main Icon

باب : نماز کے بعد ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 975

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيُثْنِيَ رِجْلَيْهِ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهٗ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهٗ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَت لَهٗ حَرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ وَحَرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم وَلَمْ يُحِلَّ لِذَنْبٍ اَنْ يُّدْرِكَهُ الا الشِّرْكُ وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهٗ يَقُولُ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ» . رَوَاهُ أَحْمدُ

وعن عبد الرحمن بن غنم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من قال قبل أن ينصرف ويثني رجليه من صلاة المغرب والصبح لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير عشر مرات كتب له بكل واحدة عشر حسنات ومحيت عنه عشر سيئات ورفع له عشر درجات وكانت له حرزا من كل مكروه وحرزا من الشيطان الرجيم ولم يحل لذنب ان يدركه الا الشرك وكان من أفضل الناس عملا إلا رجلا يفضله يقول أفضل مما قال» . رواه أحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن غنم سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ جو نماز مغرب و فجر سے پھرنے اور پاؤں موڑنے سے پہلے ۱؎دس بار یہ کہہ لیا کرے الله کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں اسی کا ملک ہے اسی کی تعریف اس کے قبضے میں خیر ہے زندگی اور موت دیتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے۲؎تو اس کے لیے ہر ایک کے بدلہ میں دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس گناہ مٹائے جائیں گے اور دس درجے بلند کیے جائیں گے۳؎ہر برائی سے اس کی حفاظت اور مردود شیطان سے امن ہوگی اور شرک کے سوا کوئی گناہ اسے نہ چھو سکے گا۴؎اور وہ لوگوں سے عمل میں افضل ہوگا سوا اس کے جو اس سے زیادہ کہہ لے وہ اس سے بڑھ جائے گا ۵؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مغرب کی سنتوں اور نفلوں سے فارغ ہو کر اسی طرح دو زانو بیٹھے یہ کرلیا کرے فرض مغرب مراد نہیں کیونکہ اس کے بعد سنتیں ہیں لہذا دعا مختصر مانگنی چاہیے۔
۲
؎یعنی چوتھا کلمہ خیال رہے کہ اگرچہ خیر و شر سب الله کے قبضے میں ہے مگر ادب یہ ہے کہ اس کی طرف صرف خیر کو نسبت کیا جائے۔
۳
؎جب ایک کے بدلے دس ہو تو دس کے بدلے یقینًا سو ہوں گے۔
۴
؎یعنی الله تعالٰی اس کی برکت سے اسے گناہوں سے بچائے گا اور اگر بھول سے گناہ کرے گا تو توبہ کی توفیق ملے گی اور رب تعالٰی کی طر ف سے معافی،ہاں اگر کفر کر بیٹھا تواس کی معافی نہ ہوگی یہی اس حدیث کا مطلب ہے۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ دس بار کی قید نہیں،جتنی خدا توفیق دے پڑھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 975