Main Icon

باب : نماز کے بعد ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 971

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَنْ صَلّٰى الْفَجْرَ فِي جَمَاعَةٍ ثُمَّ قَعَدَ يَذْكُرُ اللهَ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلّٰى رَكْعَتَيْنِ كَانَتْ لَهٗ كَأَجْرِ حَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ» . قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «تَامَّةٍ تَامَّةٍ تَامَّةٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «من صلى الفجر في جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة وعمرة» . قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «تامة تامة تامة» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو فجر جماعت سے پڑھے پھر سورج نکلنے تک بیٹھ کر الله کا ذکر کرے ۱؎پھر دو رکعتیں پڑھے تو اسے حج اور عمرے کا ثواب ملے گا ۲؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پورے کا پورےکا پورے کا ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎سورج نکلنے سے مراد آفتاب بلند ہونا یعنی چمکنے سے دو منٹ بعد کیونکہ چمکتے وقت نماز ممنوع ہے اور بیٹھنے سے مراد مسجد میں رہنا ہے لہذا اس وقت طواف یا وعظ یا طلب علم کے لیے مسجد کے کسی گوشہ میں منتقل ہونا مضر نہیں بلکہ مرقاۃ نے فرمایا کہ جو فجر کے بعد اپنے گھر آجائے مگر الله کے ذکر میں مشغول رہے پھر دو نفل پڑھ لے وہ بھی اس میں داخل ہے۔
۲
؎حج فرض ہے عمرہ سنت،ایسے ہی نماز فجر فر ض اور رکعتیں سنت اس لیے ان دونوں کے جمع کرنے میں حج و عمرے کا ثواب ہے۔ظاہر یہ ہے کہ ان نفلوں سے مراد نفل اشراق ہیں جن کا وقت طلوع آفتاب سے شروع ہوجاتا ہے نماز چاشت کا وقت شروع اسی وقت سے ہوتا مگر ختم نصف النہار پر۔
۳
؎یعنی کامل حج و عمرہ کا ثواب ملے گا جو فرائض،واجبات،سنتوں اور مستحبات کے ساتھ ادا کیے جائیں۔خیال رہے کہ حج و عمرے کا ثواب ملنا اور ہے انکا ادا ہونا کچھ اور لہذا س کا مطلب یہ نہیں کہ مسلمان حج چھوڑدیں صرف اشراق پڑھ لیا کریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 971