Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 661

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِيْ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَالَ حِيْنَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيكَ لَهٗ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُولُهُ، رَضِيْتُ بِاللّٰهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا، وَبِالإِسْلَامِ دِيْنًا، غُفِرَ لَهٗ ذَنْبِهٖ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن سعد بن أبي وقاص قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قال حين يسمع المؤذن: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأن محمدا عبده ورسوله، رضيت بالله ربا، وبمحمد رسولا، وبالإسلام دينا، غفر له ذنبه". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مؤذن کوسن کر یہ کہہ لیا کرے کہ میں گواہ ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اوریقینًا محمد مصطفےٰ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں میں اللہ کی ربوبیت محمدمصطفےٰ کی رسالت اور دین اسلام سے راضی ہوں توا س کے گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہریہ ہے کہ دعا اذان کے اول پڑھی جائے گی،جب مؤذن کی اذان کی آواز کان میں آئے کیونکہ درمیان میں یہ دعا پڑھنے سے جواب اذان میں خلل واقع ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 661