Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 668

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُول اللّٰهِ! اِجْعَلنِي إِمَامَ قَوْمِي، قَالَ: "أَنْتَ إِمَامُهُمْ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ، وَاتَّخِذْ مُؤَذِّنًا لَا يَأْخُذُ عَلٰى أَذَانِهٖ أَجْرًا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن عثمان بن أبي العاص قال: قلت: يا رسول الله! اجعلني إمام قومي، قال: "أنت إمامهم، واقتد بأضعفهم، واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا". رواه أحمد وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابوالعاص سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے میری قوم کا امام بنادیجئے فرمایا تم ان کے امام ہو ۲؎اوران میں سے کمزورکو مقتدی جانو ۳؎اورکوئی ایسا مؤذن مقرر کروجواپنی اذان پر اجرت نہ لے۴؎(احمد،ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہورصحابی ہیں،ثقفی ہیں،حضورنے آپ کو طائف کا حاکم بنایا اورشروع خلافت فاروقی تک وہیں کے حاکم رہے،پھرعمرفاروق نے وہاں سے معزول کرکے عمان اوربحرین کا گورنر بنایا۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ امام قائم کرنے اورمعزول کرنے کا حق سلطان اسلام کوبھی ہے اور اس کا مقرر کردہ امام قوم کے معزول کرنے سے علیحدہ نہیں ہوسکتا،دیکھو کتب فقہ۔
۳
؎یعنی یہ سمجھ کرنمازپڑھاؤ کہ میرے مقتدی کمزور اوربیمار بھی ہیں،ہلکی نمازپڑھاؤ۔
۴
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مؤذن رکھنے اورمعزول کرنے کا حق امام کوہے۔دوسرے یہ کہ اذان پراجرت لینا جائزمگر نہ لینابہتر اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اجرت کو حرام نہیں کہا بلکہ فرمایا ڈھونڈ کرکوئی للہ اذان دینے والا رکھو۔خیال رہے کہ اُس زمانہ میں دینی خدمات پر اجرت لینا اگر ممنوع بھی تھی تو اس وقت کے لحاظ سے تھی اب ممنوع نہیں،ورنہ سارے دینی کام بندہوجائیں گے۔دیکھو سوا عثمان غنی کے باقی تمام خلفاءنے خلافت پر اجرت لی،حالانکہ خلافت امامت کبریٰ ہے،نیزعمرفاروق نے اپنے زمانہ میں غازیوں اورحکّام کی تنخواہیں مقررکیں،حالانکہ جہادبھی عبادت ہے اورحاکم اسلام بننابھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 668