Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 666

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ثَلَاثَةٌ عَلٰى كُثْبَانِ الْمِسْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: عَبَدٌ أَدّٰى حَقَّ اللّٰهِ وَحَقَّ مَوْلَاهُ، وَرَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ بِهٖ رَاضُوْنَ، وَرَجُلٌ يُنَادِيْ بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ثلاثة على كثبان المسك يوم القيامة: عبد أدى حق الله وحق مولاه، ورجل أم قوما وهم به راضون، ورجل ينادي بالصلوات الخمس كل يوم وليلة". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے دن تین شخص مشک کے ٹیلوں پرہونگے ایک وہ غلام جواللہ کا حق اوراپنے مولا کا حق اداکرتا رہے اور ایک وہ شخص جوکسی قوم کی امامت کرے اور وہ اس سے راضی ہوں اورایک وہ شخص جو ہردن رات پانچ نمازوں کی اذان دے ۱؎(ترمذی)اورفرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎حدیث بالکل ظاہری معنی پرہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔قیامت میں اولًا سب لوگ کھڑے ہوں گے اسی لیے اسے قیامت کہتے ہیں،پھرمختلف مقامات میں ہوں گے۔کوئی عرش اعظم کے سایہ میں،کوئی کرسیوں پر،اوریہ تین جماعتیں مشک کے پہاڑوں پرکہ سب لوگ انہیں دیکھیں بھی اوران کی خوشبوؤں سے فائدہ بھی اٹھائیں،چونکہ دنیا میں بھی لوگوں نے ان سے فائدہ اٹھائے،اس لئے وہاں بھی لوگ ان سے فائدہ اٹھائیں گے۔خیال رہے کہ امام سے قوم کی رضا کا مطلب یہ ہے کہ امام کے تقویٰ اخلا ق سے مسلمان راضی ہوں،بے دینوں یافاسدوں کی ناراضی کا اعتبارنہیں۔نیزسرکاری نوکرجوڈیوٹی بھی دے اورنماز کی بھی پابندی کرے وہ بھی اس غلام میں داخل ہے جو مولٰی اور رب کے حق اداکرے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 666