Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 656

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي سعيد الخدري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا يسمع مدى صوت المؤذن جن ولا إنس ولا شيء إلا شهد له يوم القيامة". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مؤذن کی انتہائی آوازکوکوئی جن و انس اور دوسری چیزیں نہیں سنتیں مگر قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گی ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عرض کریں گے کہ مولٰی یہ مسلمان ہے،نمازی ہے،ہم نے اسے اذان دیتے دیکھا،اورکلمۂ شہادت پڑھتے سنا۔حدیث بالکل ظاہری معنی پرہے کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں۔اللہ تعالٰی نے حیوانات،جمادات کو سمجھ گویائی سننے کی طاقتیں بخشیں ہیں،ان میں سے ہر ایک کا ثبوت قرآن کریم کی صریح آیات سے ہے۔مرقاۃ میں اس جگہ ایک حدیث منقول ہے کہ روزانہ شام کے وقت پہاڑ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ کیاتجھ پرکوئی اللہ کا ذکرکرنے والابھی گزرا،جب ان میں سے کوئی کہتاہے ہاں توسب خوش ہوتے ہیں۔ چاہیئے کہ اذان بلند آوازسے دی جائے تاکہ گواہ زیادہ میسر ہوں غالبًا جن میں فرشتے بھی داخل ہیں اور انسان سے عام انسان مرادہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 656