Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 678

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ: "مَنْ أَذَّنَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَكُتِبَ لَهٗ بِتَأْذِينِهٖ فِيْ كُلِّ يَوْمٍ سِتُّوْنَ حَسَنَةً،وَلِكُلِّ إِقَامَةٍ ثَلَاثُوْنَ حَسَنَةً". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.

وعن ابن عمر أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "من أذن ثنتي عشرة سنة وجبت له الجنة، وكتب له بتأذينه في كل يوم ستون حسنة،ولكل إقامة ثلاثون حسنة". رواه ابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جوبارہ سال اذان دے اس کے لئے جنت واجب ہوگی ۱؎اورہردن اس کی اذان کے عوض ساٹھ نیکیاں اورتکبیر کے عوض تیس نیکیان لکھی جائیں گی۲؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎پہلے سات سال اذان دینے پر آگ سے نجات کا وعدہ فرمایا گیاتھا،یہاں بارہ سال پر جنت کا وعدہ ہے کیونکہ جیسا اذان میں اخلاص ویسا ہی اس پر اجر،حضرت بلال کو ایک اذان پر وہ ثواب ملے گا جو دنیا بھر کے مؤذنوں کو عمربھرکی اذانوں پر نہ ملے۔اورہوسکتاہے کہ پہلے بارہ سال کی اذان پروعدۂ جنت فرمایا گیاہو،پھر رحمت کو وسیع فرماتے ہوئے سات سال کی اذان پروعدہ ہوگیا۔اس صورت میں یہ حدیث پہلی سے منسوخ ہے۔
۲
؎یعنی تکبیر کا ثواب اذان سے آدھا ہے کیونکہ تکبیر صرف مسجد والوں کے لیے ہے اور اذان سارے لوگوں کے لیے،نیزتکبیرمیں آسانی ہے،اذان میں مشقت اورثواب بقدرمشقت ملتا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ یہ ثواب بارہ سال کے مؤذن کے لئے خاص نہیں بلکہ جوبھی اخلاص سے اذان کہےان شاءاللهیہ ثواب پائے گا،بلکہ اذان واقامت کا جواب دینے والابھیان شاءاللهاس اجر کامستحق ہوگاجیسا کہ گزشتہ احادیث سے معلوم ہوا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 678