Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 675

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهٗ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ مُؤَذِّنُهٗ، حَتّٰى إِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ، فَلَمَّا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ، وَقَالَ بَعْدَ ذٰلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ ذٰلِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن علقمة بن وقاص قال: إني لعند معاوية إذ أذن مؤذنه فقال معاوية كما قال مؤذنه، حتى إذا قال: حي على الصلاة قال: لا حول ولا قوة إلا بالله، فلما قال: حي على الفلاح قال: لا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، وقال بعد ذلك ما قال المؤذن، ثم قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال ذلك . رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علقمہ ابن وقاص سے ۱؎فرماتے ہیں میں حضرت معاویہ کے پاس تھا جب ان کے مؤذن نے اذان دی حضرت معاویہ نے بھی وہ ہی کہاجومؤذن نے کہا حتی کہ جب اس نےحَيَّ عَلَى الصَّلَاةِکہا تو آپ نے فرمایالَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِپھر جبحَيَّ عَلَى الْفَلَاحِکہا تو آپ نے فرمایالَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۲؎اس کے بعدوہی کہا جومؤذن نے کہاپھرفرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہی فرماتے سنا۔(احمد)

شرح حدیث

۱؎آپ لیثی ہیں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیدا ہوئے،شیخ نے فرمایا کہ تابعی ہیں مگرمرقاۃ میں ہے کہ صحابی ہیں،جنگِ خندق میں حاضرہوئے،عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں مدینہ پاک میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ"اورفلاحپرصرفلاحولشریف پڑھی یہ کلمات نہ دہرائے،بعض علماءکایہی عمل ہے مگرزیادہ قوی یہ ہے کہ یہ کلمات بھی دہرائے اورلاحولشریف بھی پڑھ لے،جیسا کہ پہلے عرض کیاجاچکا۔ظاہریہ ہے کہ آپ نے "حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ"پر بھی پوریلاحولہی پڑھی ہوگی مگر راوی نے اختصارکیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 675