Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 676

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي، فَلَمَّا سَكَتَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَالَ مِثْلَ هَذَا يَقِيْنًا دَخَلَ الْجنَّةَ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

وعن أبي هريرة قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام بلال ينادي، فلما سكت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قال مثل هذا يقينا دخل الجنة". رواه النسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ حضرت بلال اذان دینے کھڑے ہوئے جب خاموش ہوئے تو حضرت محمدمصطفی نے فرمایا جویقین سے اس طرح کہاکرے جو اس نے کہا جنت میں داخل ہوگا ۱؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہریہ ہے کہ اس سے اذان کا جواب مرادہے،یعنی ایمان لاکریہ کلمات دہرائے توجنتی ہے۔اگر کافرمذاق کے طورپراذان کی نقل کرے تو اس کے کفر میں اور اضافہ ہوگا۔اس میں اشارۃً بتایا گیا کہ جب اذان دہرانے کا یہ ثواب ہے تو اذان دینے پرکیا ثواب ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 676