Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 663

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "الإِمَامُ ضَامِنٌ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللّٰهُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِيْنَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالشَّافِعِيُّ، وَفِي أُخْرٰى لَهٗ بِلَفْظِ "الْمَصَابِيْحِ".

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم : "الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن، اللهم أرشد الأئمة، واغفر للمؤذنين". رواه أحمد وأبو داود والترمذي والشافعي، وفي أخرى له بلفظ "المصابيح".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام ضامن ۱؎اور مؤذن امانت دارہے ۲؎ياالله اماموں کو ہدایت دے اورمؤذنوں کوبخش دے ۳؎(احمد،ابو داؤد،ترمذی،شافعی)۴؎دوسری روایت میں مصابیح کے الفاظ ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی امام مقتدیوں کی نماز کا ذمہ دارہے،اوراپنی نماز کے ضمن میں ان کی نمازوں کو لیے ہوئے،اسی لئے امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے،امام کے سہو سے مقتدی پرسجدہ سہو ہے۔مقیم امام کے پیچھے مسافرمقتدی پوری نماز پڑھے گا۔امام صرف اپنے لئے دعا نہ مانگے بلکہ جمع کے صیغے سے مانگے۔اس سے معلوم ہوا کہ نفل والے کے پیچھے فرض والے کی نمازجائزنہیں کیونکہ فرض نفل سے اعلٰی ہے اور اعلٰی کے ضمن میں ادنٰی آسکتا ہے نہ کہ ادنٰی کے ضمن میں اعلٰی۔یونہی اگرمقتدی کی نماز امام کی نماز سے مختلف ہوتوجائزنہیں کیونکہ کوئی نماز اپنے غیرکو اپنےضمن میں نہیں لے سکتی،لہذا عصر پڑھنے والے کے پیچھے ظہرکی قضاءنہیں پڑھی جاسکتی۔یہ بھی معلوم ہوا کہ امام کی نماز فاسدہ ہونے پرمقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہوگی۔غرضکہ یہ حدیث بہت سے مسائل میں امام اعظم کی دلیل ہے۔
۲
؎کہ لوگوں کی نمازیں اور روزے اس کے پاس گویا امانتیں ہیں۔اس سے معلوم ہواکہ اذان سے امامت افضل ہے کیوں نہ ہو کہ اما م جناب مصطفی کا خلیفہ ہے اورمؤذن حضرت بلال کا نائب،یہی ہمارا مذہب ہے۔
۳
؎اس سے بھی امامت کی اذان پرفضیلت معلوم ہورہی ہے کیونکہ مغفرت سے ہدایت اعلٰی ہے،یعنی یا اللہ اماموں کونمازکے مسائل سیکھنے اورصحیح اداکرنے کی ہدایت دے کہ ان کی نماز سے بہت سی نمازیں وابستہ ہیں اورمؤذن کبھی وقت میں دھوکابھی کھاسکتاہے اسے بخش دے۔
۴
؎اگر چہ امام شافعی امام ہیں اورترمذی وغیرہ ان کے مقلد مگر چونکہ انکی کتب احادیث امام شافعی کی کتاب سے زیادہ مشہور ہیں،اس لئے ان کا ذکر پہلے کیا۔دیکھو امام بخاری و امام مسلم امام مالک کے شاگرد ہیں مگر ان کی زیادہ کتابیں مستند ہیں۔(مرقاۃ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 663