Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 662

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ" ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: "لِمَنْ شَاءَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله بن مغفل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "بين كل أذانين صلاة، بين كل أذانين صلاة" ثم قال في الثالثة: "لمن شاء". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ بن مغفل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہردو اذانوں کے درمیان ۱؎نماز ہے۔ہردو اذانوں کے درمیان نمازہے ۲؎پھرتیسری بارمیں فرمایا اس کے لئے جو چاہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎دو اذانوں سے مراد اذان واقامت ہے،جیسے چاندوسورج کو قمر ین،حضرت صدیق وفاروق کوعمر ین،حضرت حسن وحسین کوحسنین کہہ دیتے ہیں یا اذان سے مراد اطلاع ہے،اذان تووقت نماز کی اطلاع کے لیے ہوتی ہے اور اقامت تیاریٔ جماعت کی اطلاع کے لیے،بہرحال حدیث پراعتراض نہیں۔
۲
؎یا توصلوۃبمعنی دعاہے،یعنی اذان وتکبیر کے درمیان دعا مانگا کرو کہ یہ وقت قبولیت ہے یابمعنی نماز،یعنی اذان و اقامت کے درمیان نفل پڑھا کرو،کہ یہ وقت افضل ہے تواس میں نماز بھی افضل،نیز اس سے نماز میں سستی نہ ہوگی،انسان جماعت سے اتنے پہلے مسجد میں پہنچے گا کہ وضو کرکے نفل پڑھ کرتکبیراولٰی پاسکے۔خیال رہے کہ احناف کے نزدیک اس حکم سے مغرب علیحدہ ہے کہ اذان مغرب کے بعدنفل مکروہ ہیں،فرض کے بعد پڑھ سکتے ہیں۔جیسا حضرت بریدہ اسلمی کی روایت میں ہے کہ ہردو اذانوں کے درمیان نمازہے "خلاصلٰوۃ المغرب" سواء نمازمغرب کے۔(مرقاۃ وغیرہ)
۳
؎یعنی یہ نماز مؤذن کے ساتھ خاص نہیں جو مسلمان چاہے پڑھے،یا یہ نمازفرض نہیں جس کا چھوڑنا سخت جرم ہے۔خیال رہے کہ فجراورظہر کی پہلی سنتیں مؤکدہ ہیں جس کے چھوڑنے کی عادت نہایت بری ہے،عصراورعشاءکی غیرمؤکدہ،مغرب کی منع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 662