Main Icon

باب: اذان اورمؤذن کا جواب دینے کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 674

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتّٰى يَكُوْنَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ". قَالَ الرَّاوِيُّ: وَالرَّوْحَاءُ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلٰى سِتَّةٍ وَثَلَاثِيْنَ مِيْلًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن جابر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الشيطان إذا سمع النداء بالصلاة ذهب حتى يكون مكان الروحاء". قال الراوي: والروحاء من المدينة على ستة وثلاثين ميلا. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابرسے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ شیطان جب نمازکی اذان سنتاہے توبھاگ جاتاہے ۱؎حتی کہ مقام روحاءتک پہنچ جاتاہے ۲؎راوی نے فرمایا کہ روحاء مکہ مدینہ سے چھتیس میل ہے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ظاہر یہ ہے کہ شیطان سے مراد ابلیس ہے جو جنات کا مورث اعلٰی ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد قرین شیطان ہو جو ہر انسان کے ساتھ رہتا ہے یا سارے شیٰطین۔
۲
؎یعنی نمازی سے اتنی دوربھاگ جاتا ہے جتنا مدینہ سے روحاء۔
۳
؎راوی سے مراد ابوسفیان طلحہ ابن نافع مکی ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ روحاءمدینہ منورہ سے مکہ کی جانب ۳۶ میل یعنی ۱۲کوس ہے، اس سے شیطان کی قوت رفتار معلوم ہوئی کہ وہ پل بھرمیں ۳۶ میل جا آسکتا ہے کیوں نہ ہوکہ وہ آتشی ہے۔آگ کی رفتار اگر دیکھنا ہوتو آج بجلی کی رفتار دیکھ لو،جب نارکی یہ رفتارہے تواولياءاللهاورانبیاءکرام نوری لوگوں کی رفتارکا کیا پوچھنا،قرآن کریم فرمارہا ہے کہ بنی اسرائیل کے ولی آصف برخیا پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے بلقیس کا تخت شام میں لے آئے،معراج کی رات سارے نبیوں نے بیت المقدس میں حضور کے پیچھے نماز پڑھی،حضور برق رفتار براق پرسوارہوکر پل بھرمیں آسمانوں پر پہنچے، تو یہ انبیاء پہلے پہنچ کر وہاں استقبال کے لیے حاضرتھے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق" حصہ اول میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 674