Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5574

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ أَوْ نَفْسِهِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن أبي هريرة عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: "أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال: لا إله إلا الله خالصا من قلبه أو نفسه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے جناب ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا لوگوں میں زیادہ کامیاب میری شفاعت سے قیامت کے دن ۱∞؎وہ ہوگا جس نے اپنے خالص دل یا خالص نفس سے کہالا الہ الا الله۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میری شفاعت سے ہر انسان کو حصہ ملے گا کافر ہو یا مؤمن،مخلص ہو یا منافق مگر پورا بہرہ ور میری شفاعت سے مؤمن ہی ہوں گے کہ وہ اس کی برکت سے دوزخ سے نجات پاجائیں گے۔عام کفار شفاعت کی وجہ سے محشر کی تکلیف سے نجات پائیں گے اور بعض کفار کے عذاب ہلکے ہوجائیں گے اس لیے یہاںاسعدفرمایا گیا۔(مرقات)اس کی اور بہت شرحیں کی گئیں ہیں۔۲؎لا الہ الا اللهکہنے سے مراد ہے سارے عقائد اسلامیہ کا اقرار کرنا جیسے کہا جاتا ہے نماز میںالحمدپڑھنا واجب ہے یعنی پوری سورۂ فاتحہ پڑھنا۔خالصًافرماکر منافقین کو علیحدہ فرمادیا گیا کہ وہ صرف زبان سے اسلام مانتے ہیں دل میں کافر ہوتے ہیں۔اخلاص کے ساتھ قلب کا ذکر صرف تاکید کے لیے ہے ورنہ اخلاص تو دل سے ہی ہوتا ہے جیسے رب فرماتاہے:"اٰثِمٌ قَلْبُہٗ(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5574