Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5582

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فَهُوَ يَمْشِي مَرَّةً، وَيَكْبُو مَرَّةً وَتَسْفَعُهُ النَّارُ مَرَّةً، فَإِذَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْكِ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَلأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ! لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ! وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيرَهَا، وَربُهُ يُعْذِرُهُ؛ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ لِأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا. فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنيتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟ فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يُعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ! أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ، فَلِأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا. فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ! هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يُعْذِرُهُ لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: أَي رَبِّ! أَدْخِلْنِيهَا فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! مَا يَصْرِيْنِي مِنْكَ؟ أَيُرْضِيكَ أَن أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا. قَالَ: أَيْ رَبِّ! أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ " فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أَلا تَسْأَلُونيّ مِمَّ أَضْحَكُ؟ فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ فَقَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-. فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "مِنْ ضِحْكِ رَبِّ الْعَالَمِينَ؟ حِيْنَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ، فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَدِيْرٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن ابن مسعود أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "آخر من يدخل الجنة رجل فهو يمشي مرة، ويكبو مرة وتسفعه النار مرة، فإذا جاوزها التفت إليها فقال: تبارك الذي نجاني منك، لقد أعطاني الله شيئا ما أعطاه أحدا من الأولين والآخرين، فترفع له شجرة فيقول: أي رب أدنني من هذه الشجرة، فلأستظل بظلها وأشرب من مائها، فيقول الله: يا ابن آدم! لعلي إن أعطيتكها سألتني غيرها؟ فيقول: لا يا رب! ويعاهده أن لا يسأله غيرها، وربه يعذره؛ لأنه يرى ما لا صبر له عليه، فيدنيه منها فيستظل بظلها، ويشرب من مائها، ثم ترفع له شجرة هي أحسن من الأولى، فيقول: أي رب أدنني من هذه الشجرة لأشرب من مائها وأستظل بظلها لا أسألك غيرها. فيقول: يا ابن آدم! ألم تعاهدني أن لا تسألني غيرها؟ فيقول: لعلي إن أدنيتك منها تسألني غيرها؟ فيعاهده أن لا يسأله غيرها، وربه يعذره لأنه يرى ما لا صبر له عليه، فيدنيه منها، فيستظل بظلها، ويشرب من مائها، ثم ترفع له شجرة عند باب الجنة هي أحسن من الأوليين، فيقول: أي رب! أدنني من هذه، فلأستظل بظلها، وأشرب من مائها، لا أسألك غيرها. فيقول: يا ابن آدم! ألم تعاهدني أن لا تسألني غيرها؟ قال: بلى يا رب! هذه لا أسألك غيرها، وربه يعذره لأنه يرى ما لا صبر له عليه، فيدنيه منها، فإذا أدناه منها سمع أصوات أهل الجنة فيقول: أي رب! أدخلنيها فيقول: يا ابن آدم! ما يصريني منك؟ أيرضيك أن أعطيك الدنيا ومثلها معها. قال: أي رب! أتستهزئ مني وأنت رب العالمين؟ " فضحك ابن مسعود فقال: ألا تسألوني مم أضحك؟ فقالوا: مم تضحك؟ فقال: هكذا ضحك رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. فقالوا: مم تضحك يا رسول الله؟ قال: "من ضحك رب العالمين؟ حين قال: أتستهزئ مني وأنت رب العالمين، فيقول: إني لا أستهزئ منك، ولكني على ما أشاء قدير". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخری وہ شخص جو جنت میں داخل ہوگا وہ شخص ہوگا جو کبھی چلے گا اور کبھی گرے گا ۱∞؎اور کبھی اسے آگ جھلسائے گی۲؎پھر جب اس سے نکل جاوے گا تو اس کی طرف دیکھے گا کہے گا مبارک ہے وہ جس نے مجھے تجھ سے نجات دی۳؎الله نے مجھے وہ شے دی ہے جو اگلے پچھلوں میں سے کسی کو نہیں دی۴؎پھر اس کے سامنے ایک درخت پیش کیا جاوے گا ۵؎وہ کہے گا اے میرے رب مجھے اس درخت سے قریب کردے میں اس کا سایہ لوں گا اور اس کا پانی پیوں ۶؎تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ اے ابن آدم ممکن ہے کہ اگر میں تجھے یہ دیدوں تو تو مجھ سے اس کے سواءبھی مانگے ۷؎وہ عرض کرے گا نہیں اے رب اور اس سے وعدہ کرے گا کہ اس کے سواء اور نہ مانگے ۸؎اس کا رب اسے معذور جانے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھ رہا ہوگا جس پر صبر نہیں ہوسکتا تو اسے اس درخت سے قریب کردے گا وہ اس کا سایہ لے گا اور اس کا پانی پئے گا ۹؎پھر دوسرا درخت اس کے سامنے کیا جاوے جو پہلے سے اچھا ہوگا تو کہے گا اے میرے رب مجھے اسی درخت سے قریب کر دے ۱۰؎تاکہ میں اس کا پانی پیوں اور اس کا سایہ لوں میں تجھ سے اس کے سواء نہ مانگوں گا ۱۱∞؎تو رب فرمائے گا اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے معاہدہ نہ کیا تھا کہ تو اس کے سواء اور مجھ سے نہ مانگے گا پھر فرمائے گا ممکن ہے کہ اگر میں تجھے اس سے قریب کردوں تو تو مجھ سے اس کے سواء مانگے۱۲؎وہ رب سے وعدہ کرے گا کہ اس کے سواء نہ مانگے گا اور اس کا رب اسے معذور جانے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھے گا جس پر صبر ناممکن ہے رب اسے اس درخت سے قریب کر دے گا ۱۳؎وہ اس کا سایہ لے گا اس کا پانی پئے گا پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت ظاہر ہوگا جو پہلے دو سے اچھا ہوگا۱۴؎تو کہے گا اے میرے رب اب مجھے اس سے قریب کردے تاکہ میں اس کا سایہ لوں اور اس کا پانی پیوں۱۵؎اس کے سواء تجھ سے کچھ نہ مانگوں گا تو فرمائے گا اے ابن آدم کیا تو نے مجھ سے یہ عہد نہ کیا تھا کہ تو مجھ سے اس کا سواء کچھ نہ مانگے گا عرض کرے گا ہاں یارب یہ ہی آخری سوال ہے ۱۶؎اس کے سوا تجھ سے اور نہ مانگوں گا اور اس کا رب اسے معذور رکھے گا کیونکہ وہ ایسی چیز دیکھے گا جس پر اس سے صبر نہ ہوگا۱۷؎تو اس کو اس سے قریب کردے گا تو جب اس سے قریب کردے گا وہ جنت والوں کی آواز سنے گا ۱۸؎تو کہے گا اے رب مجھے اس میں داخل فرمارب فرمائے گا ابن آدم مجھے تجھ سے فراغت نہیں ہوتی ۱۹؎کیا تجھے یہ بات راضی کرے گی کہ میں تجھے دنیا اور دنیا کی مثل اس کے ساتھ دوں۲۰؎عرض کرے گا اے رب مجھ سے تو مذاق کرتا ہے تو رب العالمین ہے ۲۱∞؎حضرت ابن مسعود ہنس پڑے پھر فرمایا تم مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں کہ میں کس چیز سے ہنستا ہوں لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا ایسے ہی رسول الله صلی الله علیہ و سلم ہنسے تھے صحابہ نے عرض کیا تھا کہ یارسول الله حضور سرکار کس چیز سے ہنستے ہیں فرمایا رب العالمین کے ہنسنے سے جب وہ بندہ کہے گا ۲۲؎کہ کیا تو مجھ سے مزاق فرماتا ہے حالانکہ تو رب العالمین ہے تو فرمائے گا میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا لیکن میں اپنے ہر چاہے پر قادر ہوں۲۳؎

شرح حدیث

۱∞؎فہو یمشیمیںفتفصیلیہ ہے جس سے اس شخص کے جنت میں داخلہ کی تفصیل بیان فرمائی گئی،تعقیبیہ نہیں ہے۔جنت میں داخل ہوجانے کے بعد چلنا اور گرنا کیسا یعنی جب جنت میں آتا ہوگا تو راستہ اس طرح طے کرے گا۔۲؎تسفعکے لفظی معنی ہیں جلاکر نشان لگادینا،بالکل جلا دینے کوخرقکہتے ہیں اور معمولی جلا کر چہرہ وغیرہ سیاہ کردینے کوسفع۔(مرقات)لہذا اس کے معنی جھلسانا بہت موزوں ہیں مؤمن کو دوزخ کی آگ بالکل جلا ڈالنے پر قادر نہ ہوگی ہاں جھلسادے گی۔۳؎اس کا آگ سے یہ کلام نہایت ہی فرحت و خوشی کی حالت میں ہوگا اس وقت اسے ایسی خوشی ہوگی کہ اگر موت ہوتی تو آج اسے شادی مرگ ہوجاتی۔۴؎اس کا یہ کلام بھی انتہائی خوشی کا ہوگا۔خیال رہے کہ ادنیٰ جنتی کو بھی یہ خیال نہ آوے گا کہ میں ادنی ہوں اگر یہ خیال ہوجائے تو اسے رنج ہو اور جنت میں رنج کیسا۔۵؎یہ درخت جنت سے باہر ہوگا اس کے پاس پانی کا چشمہ ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے اس درخت کی سرسبزی شادابی حسن و خوبصورتی بیان سے باہر ہے۔۶؎یعنی میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میں اس درخت تک پہنچ جاؤں ابھی اسے جنت کی خبر نہ ہوگی کہ وہاں کیا کیا ہے۔۷؎رب تعالٰی کالعلیفرمانا اپنے شک کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ یا تو سامنے والے کے شک کی وجہ سے ہوتا ہے یا یقین کے لیے۔مطلب یہ ہے کہ تو یقینًا آگے اور بھی سوال کرے گا یا تو سوال نہ کرنے پر یقین نہ کر،تیری حالت اس مقام کی فرحت ایسی ہے کہ تو اپنے اس یقین پر قائم نہ رہے گا۔۸؎اس وقت بندے کو اپنے پر پورا اعتماد ہوگا کہ مجھے وہاں پہنچ جانا ہی کافی ہے میں اس کے سواء اور کچھ نہ مانگوں گا،نعوذ باللهجھوٹا وعدہ کرنے کی نیت نہ کرے گا لہذا اس فرمان پر کوئی اعتراض نہیں وہ جگہ جھوٹ بولنے کی ہوگی ہی نہیں۔۹؎یہ شخص یہاں وہ عیش و بہار دیکھے گا جو اس کے خیال و گمان وہم سے ورا ہوں گے وہ چیزیں بیان میں نہیں آسکتیں۔۱۰؎پہلا درخت بھی جنت کے راستہ ہی میں تھا اور یہ بھی وہاں ہی ہوگا مگر یہ درخت پہلے نظر نہ آوے گا اس درخت پر پہنچ کر نظر آوے گا،یہ سب کچھ رب تعالٰی کی طرف سے ہوگا،وہ ہی دکھائے گا،وہ ہی دل میں سوال پیدا کرے گا،وہ ہی عطا فرمائے گا۔۱۱∞؎وہ شخص یہ دعا فورًا نہ کرے گا اولًا عرصہ تک خاموش رہے گا،صبر کرنے کی کوشش کرے گا،پھر جب صبر کا جام چھلک جائے گا تب یہ عرض کرے گا جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔۱۲؎سبحان الله!یہ ارشاد عالی اسے مانگنے پر ابھارنے کے لیے ہے کہ تو مجھ سے اور مانگ یہ سارے کلام محبت وکرم پر ہیں۔۱۳؎بعض علماء کو میں نے فرماتے سنا کہ یہ وہ شخص ہوگا جو تھا تو مؤمن مگر اپنے والدین کی خدمت میں کوتاہی کرتا تھا، وہ جوان تھا کماؤ تھا،اس کے ماں باپ بوڑھے اور معذور تھے یہ انہیں خرچہ دیتا تو تھا مگر ترسا ترسا کر بہت انتظار دکھا کر، اس کی سزا کا ظہور اس طرح ہوگا کہ اسے جنت ملے گی تو مگر دکھا دکھا کر ترسا ترسا کر۔والله اعلم!غرضکہ ہوگا اسی طرح کا مجرم کہ اسے بہت انتظار کے بعد جنت دی جاوے ورنہ اور لوگ تو جنت میں بغیر انتظار داخل کیے جائیں گے۔۱۴؎وہ دونوں درخت تو راستہ جنت میں تھے اب یہ درخت دروازہ جنت سے متصل ہوگا جو ان دونوں سے بہتر ہوگا اور یہاں سے جنت کا اندرونی حصہ دیکھنے میں آوے گا یہاں بہار ہی کچھ اور ہوگی جو بیان نہیں کی جاسکتی۔۱۵؎وہ سمجھے گا کہ ان دونوں درختوں کی طرح وہاں بھی صرف سایہ اور پانی ہے اسے کیا خبر کہ وہاں جنت کے نظارے بھی ہیں اس لیے صرف سایہ لینے پانی پینے ہی کا ذکر کرے گا۔۱۶؎یہاںھذہیا تو مبتداء ہے جس کی خبر پوشیدہ ہے یا مفعول ہے جس کافعلپوشیدہ ہے یعنی آخری سوال میرا یہ ہی ہے اس کے بعد اور سوال نہ کروں گا یا تجھ سے آخری یہ ہی چیز مانگتا ہوں اب نہ مانگوں گا،وہ سمجھتا ہوگا کہ اس سے اعلٰی تو کوئی چیز ہوسکتی ہی نہیں پھر سوال کیا۔۱۷؎لہذا یہ وعدہ خلافیاں بے صبری کی وجہ سے ہوں گی۔۱۸؎یا تو جنتی لوگوں کی آپس کی بات چیت سنے گا یا ان کی تسبیح تہلیل،تلاوت قرآن مجید کی آواز جنت میں ذکر اللہ اور تلاوت وغیرہ ہوں گے۔خیال رہے کہ قیامت میں کوئی اندھا بہرا نہ ہوگا سب کی یہ قوتیں بہت ہی تیز ہوں گی اس لیے یہ شخص جنت کے اندر کی آوازیں دروازے سے سن لے گا،رب فرماتاہے:"فَکَشَفْنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیۡدٌ۱۹؎یصرینیبابضربکا مضارع ہے،یہ بنا ہےصریسے بمعنی ختم ہونا،منقطع ہونا،چھٹکارا ملنا یعنی تیرا مجھ سے مانگنا ختم نہیں ہوتا تیری دادو حش سے فارغ نہیں ہوتا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاںمااستفہامیہ ہے۔معنی یہ ہیں کہ کون چیز مجھے تجھ سے فارغ کرے گی بتا کس چیز پر تیری مانگ ختم ہوتی ہوگی۔مرقات نے فرمایا کہ یہاں عبارت الٹی ہے اصل میں یہ تھاما یصرینی منكمیری کون سی عطا پر تیری طلب ختم ہوگی تو کس عطا پر مانگنے سے فارغ ہوگا یہ فرمان عالی نہایت ہی کرم و رحم کا ہے۔۲۰؎یعنی اگر تجھے جنت کا اتنا رقبہ دے دوں جو ساری دنیا کے رقبہ سے دوگنا ہے تو کیا تو سوالات اور مانگ ختم کردے گا لے تو اتنا لے لے اور اپنی مانگ ختم کر۔۲۱∞؎یہ شخص انتہائی خوشی میں دربار عالیہ کے آداب بھی اور عرض کرنے کا طریقہ بھی بھول جاوے گا وہ سمجھے گا کہ جنت میں اتنی جگہ کہاں سے آئی مجھ سے یوں ہی میرے دل لگانے کے لیے فرمایا جارہا ہے۔استہزاءکے لغوی معنی ہیں دل لگی جو مخاطب کے دل کو لگ جاوے،الله تعالٰی دل اور دل لگنے سے پاک ہے اور دل لگی کے ظاہر معنی سے بھی پاک ہے کہ کچھ دینا تو نہ ہو صرف اس کا دل لبھانے کے لیے یہ فرمادے۔(اشعہ)مرقات نے فرمایا کہ اس کی یہ عرض و معروض ایسی بے خودی میں ہوگی جیسی اس گم شدہ اونٹ والے نے اونٹ مل جانے پر کہاالٰہی انت عبدی واناربكخدایا تو میرا بندہ ہے میں تیرا رب اسے خبر ہی نہ رہی کہ میرے منہ سے نکل کیا رہا ہے ایسی جوش کی حالت کی بے ادبی معاف ہوتی ہے،یہ بے ادبی نہیں بلکہ بے خودی کی بدحواسی ہے۔۲۲؎رب تعالٰی کے ہنسنے سے مراد ہے اس کا خوش ہوجانا،حضور صلی الله علیہ و سلم کا ہنسنا ہے آپ کا تبسم فرمانا یہ،تبسم بھی اظہار خوشی کے لیے ہے،حضرت ابن مسعود کا ہنسنا حضور صلی الله علیہ و سلم کی نقل فرماتے ہوئے ہے۔حضرات صحابہ کرام حضور کے افعال کریمہ کی روایت بالعمل بھی کرتے تھے جب غضب ہو تو بندہ کی عبادت پر ناراض ہوجائے اور جب کرم ہو تو اس کے گناہ پر خوش ہوجائے۔بلاتشبیہ شیخ سعدی کا وہ مقولہ دیکھو
گہے برسلامے بربخندو گہے بہ دشنامے خلعت وہندہ
اس کی تحقیق یہاں مرقات میں دیکھو۔
اعلٰی حضرت نے فرمایا
اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے
رب ہم سے زیادہ ہم پر مہربان ہے۔
۲۳؎یعنی تو نے میری قدرت جانی نہیں تیری طلب سے میری رحمتیں زیادہ ہیں میری عطائیں تیرے وہم و گمان سے ورا ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5582