- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- فتنوں کا بیان
- حدیث نمبر 5575
باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5575
فتنوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِلَحْمٍ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ، فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ثُمَّ قَالَ: "أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ وَتَدْنُوْ الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسُ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ، فَيَقُولُ النَّاسُ: أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَّشْفعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُم؟ فَيَأْتُونَ آدَمَ". وَذَكرَ حَدِيثَ الشَّفَاعَةِ وَقَالَ: "فَأَنْطَلِقُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ! ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ: أُمَّتِي يَا رَبِّ! أُمَّتِي يَا رَبِّ! أُمَّتِي يَا رَبِّ! فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ!أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَابِ الأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَبْوَابِ" ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعنه قال: أتي النبي -صلى الله عليه وسلم- بلحم، فرفع إليه الذراع، وكانت تعجبه، فنهس منها نهسة ثم قال: "أنا سيد الناس يوم القيامة، يوم يقوم الناس لرب العالمين وتدنو الشمس فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون، فيقول الناس: ألا تنظرون من يشفع لكم إلى ربكم؟ فيأتون آدم". وذكر حديث الشفاعة وقال: "فأنطلق فآتي تحت العرش فأقع ساجدا لربي، ثم يفتح الله علي من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه على أحد قبلي ثم قال: يا محمد! ارفع رأسك، وسل تعطه، واشفع تشفع، فأرفع رأسي فأقول: أمتي يا رب! أمتي يا رب! أمتي يا رب! فيقال: يا محمد!أدخل من أمتك من لا حساب عليهم من الباب الأيمن من أبواب الجنة، وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب" ثم قال: "والذي نفسي بيده إن ما بين المصراعين من مصاريع الجنة كما بين مكة وهجر". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم کے پاس گوشت لایا گیا تو آپ کی خدمت میں دستی پیش کی گئی حضور کو دستی پسندتھی ۱∞؎تو آپ نے اس میں سے نوچ کر کھایا ۲؎پھر فرمایا میں قیامت کے دن لوگوں کا سردار ہوں۳؎جس دن لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۴؎اور سورج قریب ہوگا لوگوں کو اس قدر غم و تکلیف پہنچے گی جس کی وہ طاقت نہ رکھیں گے ۵؎پھر لوگ کہیں گے تم کسی ایسے شخص کو کیوں نہیں دیکھتے جو تمہارے رب کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کرے ۶؎چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کےپاس آئیں گے اور شفاعت کی حدیث ذکر فرمائی اور فرمایا کہ پھر میں چلوں گا تو عرش کے نیچے پہنچوں گا پھر اپنے رب کے حضور سجدہ میں گروں گا ۷؎پھر الله مجھ پر اپنی وہ حمد وہ اچھی ثنائیں کھولے گا جو مجھ سے پہلےکسی پر نہ کھولی تھیں ۸؎پھر فرمائے گا اے محمد اپنا سر اٹھاؤ مانگو دیئے جاؤ گے،شفاعت کرو قبول کی جاوے گی ۹؎تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا عرض کروں گا یارب میری امت میری امت تو کہا جاوے گا ۱۰؎اے محمد اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جن پر حساب نہیں ۱۱∞؎جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے داخل کرو یہ لوگ دروازوں میں لوگوں کے ساتھ برابر کے حق دار ہیں۱۲؎پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جنت کے دروازوں میں سے ایک کی دو چوکھٹوں کے درمیان۱۳؎اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ معظمہ اور ہجر کے درمیان ہے۱۴؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎دستی کا گوشت بے ریشہ ہوتا ہے اور نرم بھی مزے دار بھی،جلد گل جاتا ہے،سارے جانور میں یہ ہی گوشت بہت اچھا ہوتا ہے۔۲؎نھسخالی سین سے اگلے دانتوں سے نوچنا اورنہشنقطہ والے شین سے داڑھوں سے گوشت نوچنا یعنی ہڈی سے بوٹی چھوڑانا دونوں لفظ روایات میں وارد ہیں۔۳؎اسناسمیں سارے انسان داخل ہیں حضرات انبیاء کرام اور ان کی ساری امتیں،اگرچہ حضور ہمیشہ سے ہی ساری مخلوق کے سردار ہیں مگر اس سرداری کا ظہور قیامت کے دن ہوگا کہ سارے لوگ آپ سے شفاعت کی درخواست کریں گے اور سب حضور کا منہ تکیں گے کوئی آپ کی سرداری کے انکار کرنے کی ہمت نہ کرسکے گا کفار بھی اس کا اقرار کریں گے اور نادم ہوں گے اس لیےیوم القیامۃکا ذکر فرمایا۔۴؎یہیوم القیامۃکا بیان ہے،چونکہ یہ حاضری بارگاہ قیامت کا مقصود ہے اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا ورنہ قیامت میں اور بھی کام ہوں گے جیسے کہ آگے سے معلوم ہورہا ہے۔۵؎گرمی کی شدت کا یہ حال ہوگاکہ انسان کا پسینہ ستر گز زمین میں جذب ہوکر اس کے منہ کی لگام بن جائے گا یعنی منہ تک پسینہ میں آدمی ڈوبا ہوگا۔۶؎معلوم ہوا کہ قیامت کے کاروبار کی ابتداء توسل یعنی وسیلہ کی تلاش سے ہوگی۔آج جو حضور کے وسیلہ کے منکر ہیں وہ بھی یہ ہی کام پہلے کریں گے۔اعلٰی حضرت نے کیا خوب فرمایا شعر
ہم بھی محشر میں سیر دیکھیں گے نجدی آج ان سے التجا نہ کرے
۷؎یہاں جہاں مجھے لوگ پائیں گے اور ساری مخلوق مجھے گھیرے گی وہاں سے روانہ ہوکر اپنے مقام شفاعت میں پہنچوں گا جو میرے لیے خالص تیار کیا گیا ہے۔غالب یہ ہے کہ حضور انور ان سب کو لے کر وہاں پہنچیں گے۔والله و رسولہ اعلم!وہنظارہ عجیب ہوگا۔۸؎یعنی اس دن جیسی حمد اپنے رب کی میں کروں گا ایسی حمد مخلوق الٰہی میں کسی نے نہیں کی ہوگی یہ حمد مجھے میرا رب بطور الہام سکھائے گا۔۹؎اسے کہتے ہیں عرض سے پہلے قبولیت ابھی حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے مدعا کے لیے لب نہیں ہلائے کہ قبولیت کا رب نے وعدہ فرمالیا۔۱۰؎ہم پہلے عرض کرچکے ہیں یہاں عبارت میں اجمال ہے۔ابتداء ہوئی شفاعت عامہ کے ذکر سے اور انتہاہوئی شفاعت خاصہ کے ذکر پر،یہ شفاعت اپنی امت کو جنت میں پہنچانے کی ہے عام لوگوں کے لیے شفاعت محشر سے نجات دلانے کی ہوگی۔۱۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ قیامت میں سب کا حساب نہ ہوگا،بعض بے حساب جنت میں بھیجے جائیں گے۔جو دنیا میں اپنا حساب خود لیتا رہے گا اس کا حساب یا تو ہوگا نہیں یاہوگا تو ہلکا ہوگا۔۱۲؎یعنی ان بے حساب جنتیوں کے لیے ایک دروازہ خاص ہے جس سے دوسرے جنتی داخل نہیں ہوسکتے مگر یہ حضرات ان دروازوں سے جاسکتے ہیں جیسے ریل کا فسٹ کلاس کا مسافر ہر درجہ میں سفرکرسکتا ہے مگر تھرڈ والے فسٹ میں سفر نہیں کرسکتے۔۱۳؎ایک دروازے کے حصے ہوں تو ہر حصہ مصرع کہلاتا ہے اس سے مقصود ہے دروازہ جنت کی چوڑائی بیان کرنا۔۱۴؎ہجر مدینہ منورہ کے علاقہ میں ایک گاؤں کا نام بھی ہے اور بحرین کے ایک شہر کا نام بھی یہاں یہ ہی شہر مراد ہے جو بحرین میں ہے،اس تشبیہ سے مقصود ہے اس دروازے کی فراخی بیان فرمانا حد بندی فرمانا مقصود نہیں۔(اشعہ، مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5575