Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5583

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: "فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟ " إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ:"وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ: سَلْ كَذَا وَكَذَا، حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ"، قَالَ: "ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَتَقُولَانِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ". قَالَ: "فَيَقُولُ: مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مثلَ مَا أُعْطِيْتُ".

وفي رواية له عن أبي سعيد نحوه إلا أنه لم يذكر: "فيقول: يا ابن آدم! ما يصريني منك؟ " إلى آخر الحديث وزاد فيه:"ويذكره الله: سل كذا وكذا، حتى إذا انقطعت به الأماني قال الله: هو لك وعشرة أمثاله"، قال: "ثم يدخل بيته فتدخل عليه زوجتاه من الحور العين فتقولان: الحمد لله الذي أحياك لنا وأحيانا لك". قال: "فيقول: ما أعطي أحد مثل ما أعطيت".

حدیث ترجمہ

اور اسی مسلم کی ایک روایت میں ہے جو حضرت ابو سعید سے ہے اسی طرح ہے مگر انہوں نے یہ ذکر نہ کیا کہ اے ابن آدم مجھے تجھ سے فراغت نہیں ہوتی۱؎آخر حدیث تک اس میں یہ زیادتی کی ہے کہ الله اسے یاد دلائے گا کہ فلاں فلاں چیز مانگ ۲؎حتی کہ جب اس کی خواہشیں ختم ہوجائیں گی تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ وہ سب کچھ تیرا ہے اور اس سے دس گنا اور ۳؎فرمایا پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو اس پر اس کی دو بیویاں آنکھ والی حوریں داخل ہوں گی۴؎کہیں گی شکر ہے اس الله کا جس نے تجھے ہمارے لیے اور ہمیں تیرے لیے زندہ رکھا ۵؎فرماتے ہیں وہ کہے گا کہ جیسا مجھے عطیہ کیا گیا وہ کسی کو نہ دیا گیا ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلم کی روایت میں اتنی عبارت نہیں اور دوسری دراز عبارت ہے جو دوسری روایت میں مذکور ہے۔۲؎سبحان الله!کیسا کریم رحیم ہے کہ خود ہی مانگنا سکھائے اور خود ہی عطائیں فرمائے جب حاکم فرمائے کہ تم فلاں مضمون کی درخواست ہم کو دے دو مطلب یہ ہوتا ہے کہ نوکر رکھ لیا ہے قانونی کارروائی کے لیے درخواست مانگی ہے یہ ہی وہاں بنے گا بلکہ دنیا میں بھی ایسا ہی ہے وہ ہی دعا سکھاتا ہے وہ ہی عطائیں فرماتا ہے۔۳؎اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ اولًا ایک مثل کی عطا ہوگی پھر دس گنا کی لہذا روایات میں کوئی تعارض نہیں۔۴؎اس کی یہ بیبیاں اس کی منتظر تھیں۔خیال رہے کہ اس جنتی کو دو بیویاں تو حورعین ملیں گی اور اس کی دنیا کی وہ بیوی جو اس کے نکاح میں فوت ہوئیں اگر اس کا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے وہ بھی ملے گی ان کے سواء اور وہ عورتیں جو کنواری فوت ہوئیں یا وہ جن کے خاوند کافر مرے وہ بھی اسے ملے گی ہر جنتی کا یہ ہی حال ہوگا۔چنانچہ حضرت مریم اور حضرت بی بی آسیہ حضور صلی الله علیہ و سلم کے نکاح میں ہوں گی،یہاں دو فرمانا صرف حوروں کے لیے ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"وَلَہُمْ فِیۡہَاۤ اَزْوٰجٌ مُّطَہَّرَۃٌ"وہاںازواججمع ارشاد ہوا ہے یہاں دو حوریں فرمایا گیا دونوں درست ہیں۔۵؎یعنی اس رب نے تم کو ہمارے لیے اور ہم کو تمہارے لیے دائمی زندگی بخشی کہ اب نہ مرنا ہے نہ یہاں سے نکلنا نہ ہماری تمہاری جدائی تجھے ہم تک پہنچایا۔۶؎یا تو اس شخص کو اعلٰی درجات والے جنتیوں کی عطاؤں کی خبر نہ ہوگی وہ سمجھے گا سب سے اعلٰی نعمتیں مجھے ہی دی گئی ہیں یا اسے ان حضرات کے عطیوں کی طرف دھیان نہ جاوے گا اپنی نعمتوں پر ہی دھیان رہے گا تاکہ اسے رنج نہ ہو کہ جنت میں رنج و غم نہیں، مرقات نے پہلی توجیہ اختیار کی غرضکہ اس کی خوشی کی انتہا نہ ہوگی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5583