Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5602

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَشْفَعُ لِلْفِئَامِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْعُصْبَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفعُ لِلرَّجُلِ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي سعيد أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن من أمتي من يشفع للفئام، ومنهم من يشفع للقبيلة، ومنهم من يشفع للعصبة، ومنهم من يشفع للرجل حتى يدخلوا الجنة". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابی سعید سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے بعض وہ ہیں جو ایک جماعت کی شفاعت کریں گے،بعض وہ جو ایک خاندان کی شفاعت کریں گے، بعض وہ ہیں جو ایک کنبہ کی شفاعت کریں گے ۱∞؎بعض وہ ہیں جو صرف ایک آدمی کی شفاعت کریں گے حتی کہ یہ لوگ جنت میں داخل ہوجائیں گے۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎فئامجمع ہے اس کا واحد کوئی نہیں۔اس کے معنی ہیں جماعت،بعض نے فرمایا یہ جمع ہےفئۃکی۔قبیلہ وہ جماعت جو ایک دادا کی اولاد ہو۔عصبۃبھی جمع ہے جس کا واحد کوئی نہیں،یہ دس سے چالیس تک پر بولی جاتی ہے۔اس حدیث کی تفصیل دوسری احادیث میں وارد ہے کہ حافظ پانچ پشت کی،عالم چودہ پشت کی،شہید اتنی جماعت کی شفاعت کریں گے وغیرہ۔ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ قیامت میں اولًا عدل الٰہی کا ظہور ہوگا،اس وقت حضور کے سوا کوئی شفاعت نہ کرے گا،بعد میں فضل الٰہی کا ظہور ہوگا اس وقت اور حضرات بھی شفاعت کریں گے۔یہاں دوسرے وقت کا ذکر ہے اس وقت مؤمنین بھی شفاعت کریں گے۔من امتیفرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شفاعتیں امت محمدیہ کے لیے ہیں کہ ان کے علماء صالحین شفاعت کریں دوسری امتوں کے علماء وصلحاء کو یہ درجے نہ ملیں گے۔والله اعلم و رسولہ اعلم!۲؎اس سے معلوم ہوا کہ حضور انور کی ساری امت جنتی ہے کوئی پہلے ہی سے جنت میں پہنچ جاوے گا کوئی کچھ سزا بھگت کر،یہ ہی مطلب ہے اس حدیث کا کہ "من قال لا الہ الا الله دخل الجنۃ"حتی شفاعت کی انتہا کے لیے ہے یعنی یہ شفاعت ہوتی رہے گی یہاں تک کہ سارے مسلمان جنت میں پہنچ جاویں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5602