Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5581

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَن أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ النَّاسَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ نَرَى رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَذَكرَ مَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، غَيْرَ كَشْفِ السَّاقِ وَقَالَ: "يُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَّجُوزُ مِنَ الرُّسُلِ بِأُمَّتِهِ، وَلَا يَتَكَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ، وَكَلَامُ الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ: اللهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ. وَفِي جَهَنَّمَ كَلَالِيْبُ مِثْلُ شَوْكِ السَّعْدَانِ لَا يَعْلَمُ قَدْرَ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ، تَخْطِفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُوبَقُ وَمِنْهُمْ مَنْ يُخَرْدَلُ، ثُمَّ يَنْجُو حَتَّى إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ عِبَادِهِ، وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ مِنَ النَّارِ مَنْ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَهُ مِمَّنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،أَمَرَ الْمَلَائِكَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ، فَيُخْرِجُونهمْ وَيَعْرِفُونَهُمْ بِآثَارِ السُّجُودِ، وَحَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ، فَكُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ النَّارُ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ، فَيُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ قَدِ امْتُحِشُوا، فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، وَيَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الجنَّةِ والنارِ وَهُوَ آخرُ أَهْلِ النَّارِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ قِبَلَ النَّارِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! اصْرِفْ وَجْهِي عَن النَّار قَد قَشَبَنِي رِيحُهَا، وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا فَيَقُولُ: هَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَفْعَلْ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَ ذَلِكَ؟ فَيَقُول: لَا وَعِزَّتِكَ، فيُعطِي اللَّهَ مَا شاءَ اللَّهُ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ، فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ، فإِذا أَقْبَلَ بِهِ عَلَى الْجَنَّةِ وَرَأى بَهْجَتَهَا سَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ! قَدِّمْنِي عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ تبَارَكَ وَتَعَالَى: أَلَيْسَ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنْتَ سَأَلْتَ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! لَا أَكُونُ أَشْقَى خَلْقِكَ. فَيَقُولُ: فَمَا عَسَيْتَ إِنْ أُعْطِيتَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَ ذَلِكَ، فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَاءَ مِنْ عَهْدٍ وَمِيثَاقٍ، فَيُقَدِّمُهُ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا بَلَغَ بَابَهَا، فَرَأَى زَهْرَتَهَا وَمَا فِيهَا مِنَ النَّضْرَةِ وَالسُّرُورِ، فَسَكَتَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْكُتَ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ. فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَيْلَكَ يَا ابْنَ آدَمَ! مَا أَغْدَرَكَ، أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ الْعُهُودَ وَالْمِيثَاقَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ الَّذِي أُعْطِيتَ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! لَا تَجْعَلْنِي أَشْقَى خَلْقِكَ، فَلَا يَزَالُ يَدْعُو حَتَّى يَضْحَكَ اللَّهُ مِنْهُ، فَإِذَا ضَحِكَ أَذِنَ لَهُ فِي دُخُولِ الْجَنَّةِ. فَيَقُولُ: تَمَنَّ فَيَتَمَنَّى حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ أُمْنِيَّتُهُ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى (1) : تَمَنَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا، أَقْبَلَ يُذَكِّرُهُ رَبُّهُ حَتَّى إِذَا انْتَهَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ" وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: "قَالَ اللَّهُ: لَكَ ذَلِكَ وَعَشْرَةُ أَمْثَالِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة أن الناس قالوا: يا رسول الله! هل نرى ربنا يوم القيامة؟ فذكر معنى حديث أبي سعيد، غير كشف الساق وقال: "يضرب الصراط بين ظهراني جهنم، فأكون أول من يجوز من الرسل بأمته، ولا يتكلم يومئذ إلا الرسل، وكلام الرسل يومئذ: اللهم سلم سلم. وفي جهنم كلاليب مثل شوك السعدان لا يعلم قدر عظمها إلا الله، تخطف الناس بأعمالهم، فمنهم من يوبق ومنهم من يخردل، ثم ينجو حتى إذا فرغ الله من القضاء بين عباده، وأراد أن يخرج من النار من أراد أن يخرجه ممن كان يشهد أن لا إله إلا الله،أمر الملائكة أن يخرجوا من يعبد الله، فيخرجونهم ويعرفونهم بآثار السجود، وحرم الله تعالى على النار أن تأكل أثر السجود، فكل ابن آدم تأكله النار إلا أثر السجود، فيخرجون من النار قد امتحشوا، فيصب عليهم ماء الحياة، فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل، ويبقى رجل بين الجنة والنار وهو آخر أهل النار دخولا الجنة، مقبل بوجهه قبل النار فيقول: يا رب! اصرف وجهي عن النار قد قشبني ريحها، وأحرقني ذكاؤها فيقول: هل عسيت إن أفعل ذلك أن تسأل غير ذلك؟ فيقول: لا وعزتك، فيعطي الله ما شاء الله من عهد وميثاق، فيصرف الله وجهه عن النار، فإذا أقبل به على الجنة ورأى بهجتها سكت ما شاء الله أن يسكت، ثم قال: يا رب! قدمني عند باب الجنة، فيقول الله تبارك وتعالى: أليس أعطيت العهود والميثاق أن لا تسأل غير الذي كنت سألت. فيقول: يا رب! لا أكون أشقى خلقك. فيقول: فما عسيت إن أعطيت ذلك أن تسأل غيره فيقول: لا وعزتك لا أسألك غير ذلك، فيعطي ربه ما شاء من عهد وميثاق، فيقدمه إلى باب الجنة، فإذا بلغ بابها، فرأى زهرتها وما فيها من النضرة والسرور، فسكت ما شاء الله أن يسكت فيقول: يا رب! أدخلني الجنة. فيقول الله تبارك وتعالى: ويلك يا ابن آدم! ما أغدرك، أليس قد أعطيت العهود والميثاق أن لا تسأل غير الذي أعطيت، فيقول: يا رب! لا تجعلني أشقى خلقك، فلا يزال يدعو حتى يضحك الله منه، فإذا ضحك أذن له في دخول الجنة. فيقول: تمن فيتمنى حتى إذا انقطعت أمنيته قال الله تعالى (1) : تمن من كذا وكذا، أقبل يذكره ربه حتى إذا انتهت به الأماني قال الله: لك ذلك ومثله معه" وفي رواية أبي سعيد: "قال الله: لك ذلك وعشرة أمثاله". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے پھر حضرت ابو سعید کی حدیث کے معنی بیان کیے ۱∞؎سوا پنڈلی کھلنے کے اور فرمایا کہ دوزخ کے دونوں کناروں کے درمیان پلصراط قائم کیاجاوے گا ۲؎تو جو پیغمبر اپنی امت کو لےکرگزریں گے ان میں پہلا میں ہوں گا ۳؎اور اس دن سواء رسولوں کے اور کوئی کلام نہ کرے گا اور رسولوں کا کلام اس دن ہوگا الٰہی سلامت رکھ سلامت رکھ اور دوزخ میں خم دار کانٹے ہوں گے۴؎سعد ان کے کانٹوں کی طرح ۵؎جن کی بڑائی الله کے سواء کوئی نہیں جانتا وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے ۶؎ان میں سے بعض وہ ہوں گے جو اپنی بدعملی کی وجہ سے ہلاک کیے جائیں گے اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو زخمی ہو کر نجات پاجائیں گے ۷؎حتی کہ جب الله تعالٰی اپنے بندوں کے فیصلے سے فارغ ہوجاوے گا ۸؎اور جن کو آگ سے نکالنے کا ارادہ ہوچکا ہے انہیں نکالا جائے گا ان لوگوں میں سے جنہوں نےلا الہ الا اللهکی گواہی دی ہے تو فرشتوں کو حکم دے گا۹؎کہ انہیں نکال لو جو الله کی عبادت کرتے تھے وہ انہیں نکال لیں گے اور انہیں سجدہ کے نشانوں سے پہچانیں گے اور الله تعالٰی آگ پر یہ ناممکن کردے گا کہ سجدہ کے نشان کو جلائے۱۰؎چنانچہ انسان کے سارے جسم کو آگ کھاجائے گی سواءسجدہ کے اثر کے تو وہ آگ سے نکلیں گے کہ جل کر کوئلے ہوچکے ہوں گے ۱۱∞؎پھر ان پر زندگی کا پانی بہایا جاوے گا تو وہ ایسے اُگیں گے جیسے دانہ سیلاب کے اوپری کوڑے میں اُگتا ہے اور ایک شخص جنت و دوزخ کے درمیان باقی رہے گا۱۲؎اور وہ تمام دوزخیوں میں سب سے آخری جنت میں داخل ہونے والا ہوگا۱۳؎اپنا منہ آگ کی طرف کیے ہوگا۱۴؎عرض کرے گا یارب میرا منہ آگ سے پھیر دے مجھے اس کی لُو نے جھلس دیا اور اس کی تیزی نے مجھے جلادیا ۱۵؎تو رب فرمائے گا کیا ممکن ہے کہ اگر میں یہ کردوں تو اس کے علاوہ اور مانگے ۱۶؎وہ کہے گا نہیں قسم تیری عزت کی تو الله تعالٰی کو عہدوپیمان دے جو الله چاہے چنانچہ الله تعالٰی اس کا منہ آگ سے پھیر دے گا ۱۷؎پھر جب اس کو جنت کے سامنے کرے گا اور یہ اس کی ترو تازگی دیکھے گا ۱۸؎تو جب تک رب اس کی خاموشی چاہے یہ خاموش رہے گا ۱۹؎پھر کہے گا یارب مجھے جنت کے دروازے کے پاس پہنچادے۲۰؎رب تعالٰی فرمائے گا کہ کیا واقعہ یہ نہیں ہے کہ تو عہدوپیمان دے چکا ہے کہ پہلی مانگی چیز کے سوا اور کچھ نہ مانگے گا وہ عرض کرے گا یا رب میں تیری مخلوق میں بڑا بدنصیب نہ رہوں ۲۱∞؎تو رب فرمائے گا کہ کیا ممکن ہے کہ تجھے یہ دیدیا جاوے تو تو اس کے سوا کچھ اور مانگے،کہے گا تیری عزت کی اس کے سواء میں اور کچھ نہ مانگوں گا۲۲؎چنانچہ وہ اپنے رب کو عہدوپیمان دے گا جو رب چاہے اسے الله تعالٰی جنت کے دروازے تک بڑھائے گا پھر جب وہ اس کے دروازے تک بڑھادے گا پھر جب وہ اس کے دروازے پر پہنچے گا وہاں کی تروتازگی اور جو کچھ وہاں بہار اور خوشی دیکھے گا۲۳؎تو جب تک اس کا خاموش رہنا الله چاہے وہ خاموش رہے گا پھر عرض کرے گا یا رب مجھے جنت میں داخل فرمادے۲۴؎تو الله تعالٰی فرمادے گا افسوس تجھ پر اے ابن آدم تو کتنا عہد شکن ہے ۲۵؎کیا تو نے عہدوپیمان نہیں دیا تھا کہ تو اس کے سوا نہ مانگے گا جو تجھے دے دیا گیا ۲۶؎تو عرض کرے گا یارب مجھے اپنی خلقت میں بدنصیب نہ بنا ۲۷؎تو وہ دعا کرتا رہے گا حتی کہ اس سے الله تعالٰی خوش ہوجاؤے گا۲۸؎تو جب خوش ہو جاوے گا تو اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا پھر فرمائے گا تمنا کر وہ تمنا کرے گا حتی کہ جب اس کی تمنائیں ختم ہوجائیں گی تو رب فرمائے گا فلاں فلاں تمنا کر خود رب تعالٰی اسے یاد دلانے لگے گا ۲۹؎حتی کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو الله تعالٰی فرمائے گا کہ تیرے لیے یہ ہے اور اس کی مثل۳۰؎اور حضرت ابو سعید کی روایت میں ہے کہ الله تعالٰی فرمائے گا تیرے لیے یہ ہے اور اس سے دس گناہ اور ۳۱∞؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی انہوں نے وہ ہی حدیث بیان فرمائی جو ابھی گزری مگر اس کے الفاظ مختلف ہیں مضمون یکساں ہے صرف پنڈلی کھلنے کا ذکر نہیں باقی سارا مضمون وہی ہے،اس حدیث میں یہ مضمون زیادہ ہے جو ابھی بیان ہورہا ہے۔۲؎معلوم ہوا کہ پل صراط آج نہیں ہے کیونکہ وہ تو گزرگاہ ہے جب گزرنے والے ہی ابھی نہیں ہیں تو اس پل کی کیا ضرورت ہے۔قیامت کے دن یہ پل قائم کیا جائے گا بدوں کے لیے تنگ ہوگا،نیکوں کے لیے وسیع ہوگا جیساکہ دوسری روایات میں ہے۔۳؎قیامت کے حساب سے فارغ ہوکر اپنی امت کو لےکر پہلے وہاں سے میں گزروں گا اس طرح کہ امت کو اپنے آگے رکھوں گا میں پیچھے انکی حفاظت فرماتا روانہ ہوں گا تاکہ ساری امت میرے سامنے رہے حضور اس موقعہ پر گرتوں کو سہارا دیتے ہوں گے،ہر نبی اپنی امت کے ساتھ اس طرح ہوں گے کہ آگے امت پیچھے نبی۔۴؎کلالیبجمع ہےکلوبکی،لوہے کی لمبی سیخ اوپر سے خم دارکلوبکہلاتی ہے۔اردو میں اوکھنڈی کہتے ہیں۔۵؎سعدان عرب میں ایک خاص قسم کی گھاس ہوتی ہے خاردار جس کے شاخوں پتوں میں بڑے بڑے کانٹے ہوتے ہیں ا سے اونٹ شوق سے کھاتا ہے اس کے کانٹوں کو خشک السعدان کہاجاتا ہے،اس کے پتے پستان کی گھنڈی کی طرح ہوتے ہیں۔(اشعہ،مرقات)۶؎اس طرح کہ لوگ گزرتے ہوں گے اور یہ کانٹے حرکت میں بارہا آتے ہوں گے کسی کو تو چھوئیں گے بھی نہیں، کسی کو چھوکر زخمی کرکے الگ ہوجائیں گے،کسی کو چھو کر نیچے گرادیں گے خدا کی پناہ! یہ فرق لوگوں کے ایمان و اعمال کے وجہ سے ہوگا۔۷؎کسی کو صرف خراش آوے گی کسی کو زخم کاری لگے گا مگر بچ جائے گا۔۸؎اس طرح کہ دوزخیوں کو دوزخ میں اور جنتیوں کو جنت میں داخل فرمادے گا۔یہ فیصلہ سے مراد عملی فیصلہ ہے کیونکہ قولی فیصلہ یعنی احکام کا صدور تو کب کا ہوچکا ہوگا۔۹؎یا تو یہ فرشتے وہ ہیں جو لوگوں کے نامہ اعمال لکھا کرتے تھے یا حاملین عرش اور ان کے اردگرد کے جو مسلمانوں کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔ہم کو بھی چاہیے کہ ان فرشتوں کے لیے دعا کیا کریں ہرختم و ایصال کے موقعہ پر ان کا نام لیا کریں۔۱۰؎یعنی دوزخ کی آگ ان لوگوں کے سارے اعضاء کو جلادے گی مگر اس کی پیشانی خصوصًا سجدہ گاہ کو نہ جلاسکے گی کہ یہ نور الٰہی کی جگہ ہے نور کو نار نہیں جلاسکتی،بعض شارحین نے فرمایا کہ سجدہ کے ساتوں عضو بھی محفوظ رہیں گے۔(اشعہ)بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد پورا چہرہ ہے،اس قول کی تائید بخاری شریف جلد دوم ص ۱۱۰۷باب ردعمل الجھیۃمیں کی اس حدیث سے ہوتی ہےویحرم الله صورھم علی الناسبہرحال اس کے متعلق کئی احتمال ہیں۔۱۱∞؎یہ لفظ بنا ہےامتحاشسے بمعنی جل کر کوئلہ سیا ہوجانا۔اس سے بھی معلوم ہوا کہ گنہگار مؤمن دوزخ میں جا کر مردہ بلکہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے وہاں جلنا اور نہ مرنا کفار کے لیے ہوگا۔۱۲؎اس ایک شخص سے مراد یا تو نوعًا ایک ہے یعنی ایک قسم کے لوگ جنہوں نے اس قسم کے جرم کیے تھے یا شخصًا ایک ہے یعنی ایک آدمی۔۱۳؎یعنی جو لوگ دوزخ سے نکال کر جنت میں بھیجے جائیں گے ان میں سب سے آخر میں یہ نکالا جائے اور سب سے آخر میں یہ جنت میں پہنچایا جائے گا اسے راستہ میں بہت دیر لگے گی۔۱۴؎یعنی اسے دوزخ سے نکال کر کنارہ پر بٹھال دیا جائے گا کہ جنت کی طرف اس کی پیٹھ ہوگی اور دوزخ کی طرف اس کا منہ ہوگا جہاں اس کی تپش پہنچ رہی ہوگی جیسا کہ اگلے مضمون سے واضح ہے جنت تو ابھی دور ہوگی۔۱۵؎قشبنیبنا ہےقشبسے بمعنی جسم میں زہر کا سرایت کرجانا یا آگ کا جسم میں اثر کرکے اسے بگاڑ دینا اس کا ترجمہ جھلسانا بہت موزوں ہے۔۱۶؎یعنی ہم تیری یہ عرض پوری کردیں گے مگر شرط یہ ہے کہ تو اس کے سواء اور کچھ نہ مانگے اسی منہ پھیر دینے پر قناعت کرے۔۱۷؎مگر رکھے گا منہ اسی طرح وہاں سے ہٹائے گا نہیں اب بجائے منہ کے اس کی پیٹھ کو تپش پہنچے جیساکہ مضمون سے ظاہر ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہاں سے اسے دور کردیا جائے مگر پہلا احتمال قوی ہے۔۱۸؎اس دن ہر شخص کی نظر بہت تیز ہوگی یہاں سے جنت بہت دور ہوگی مگر یہ دیکھ لے گا،قرآن کریم فرماتاہے:"فَکَشَفْنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیۡدٌہاں بعض کفار قیامت میں اٹھتے وقت اندھے اُٹھیں گے مگر بعد میں نہ کوئی اندھا رہے گا نہ کانا۔۱۹؎اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بندے کا خاموش رہنا پھر دعا کرنا رب تعالٰی کی طرف سے ہوگا۔آج بھی ہمارا عبادات کرنا دعائیں مانگنا اس کی ہی توفیق سے ہے،وہ ہی ذوق دیتا ہے،وہ الفاظ دعا القاءکرتا ہے،وہ ہی بھیک کے لیے ہم کو جھولی دیتا ہے وہ ہی بھردیتاہے۔۲۰؎اس سے معلوم ہورہا ہے کہ اب تک اس کا صرف منہ پھیرا گیا تھا جنت تک پہنچایا نہ گیا تھا اس نے دور سے یہاں کی تروتازگی دیکھی تھی۔۲۱∞؎یہاںخلقسے مراد جنتی لوگ ہیں یعنی اے مولٰی جو جنت میں آرام کررہے ہیں وہ بھی تیری مخلوق تیرے بندے ہیں اور میں بھی تیری مخلوق ہوں تیرا بندہ ہوں میں ان سب سے بدتر کیوں رہوں مجھ پر کرم فرمادے ان کے پاس پہنچادے۔۲۲؎اس حدیث میں بڑی حوصلہ افزائی ہے اس بندے کا قسمیں کھا کھا کر توڑتے رہنا بھی رب تعالٰی کو پسند ہوگا کہ یہ قسم توڑنا سرکشی کے لیے نہ ہوگا بلکہ الله کی رحمت کی لالچ میں۔حضرت جندع ابن ضمیرہ نے مدینہ منورہ حاضر ہونے کے لیے کفار کے مجبور کرنے پر کفریہ باتیں منہ سے نکال دی تھیں جن کے متعلق یہ آیت کریمہ آئی"اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالۡاِیۡمٰنِ"ایسے گناہوں پر ریا کاری کی نیکیاں قربان ہوجائیں،ان گناہوں کی بنا عشق و محبت یا ناز پر ہے۔۲۳؎یہ شخص دروازہ جنت پر پہنچ کر اندر جھانک جھانک کر دیکھنے لگے گا وہاں کی نعمتیں دیکھ کر دنگ رہ جاوے گا رب تعالٰی ہی صبر دے گا تو کچھ روز خاموش رہے گا ورنہ وہ فورًا ہی چیخ پڑتا یہ صبروخاموشی بھی رب کی طرف سے ہوگی۔۲۴؎یہ اس کی آخری عرض ہوگی اور یہ شخص بہت عرصہ میں یہاں تک پہنچ سکے گا اور یہ عرض کرسکے گا رب جانے کتنا عرصہ لگے گا۔۲۵؎ویلدوزخ کے ایک طبقہ کا نام ہے مگر کبھی ہلاک و خرابی کے معنی میں آتا ہے یہاں بمعنی افسوس ہے یہ فرمان عالی انتہائی کرم کا ہوگا جیساکہ اگلے فرمان سے معلوم ہورہا ہے۔ما اغدركفعل تعجب ہے یعنی تو کیسا عہد شکن ہے وعدہ توڑنے والا ہے،الله تعالٰی افسوس اور تعجب سے پاک ہے،یہ دونوں فرمان تعجب دلانے افسوس دلانے کے لیے ہیں نہ کہ تعجب یا افسوس کرنے کے لیے۔۲۶؎یعنی تو مجھ سے کتنے عہد کرچکا ہے ہر دفعہ عہد توڑدیتا ہے یہ تیری آخری بار ہے۔خیال رہے کہ اگر گناہ کرکے یار کو منالیا جاوے تو وہ گناہ نہیں ہوتا ہزار نیکیوں سے افضل ہوتا ہے۔۲۷؎اس عرض کا مقصد یہ ہے کہ میں بارہا توڑ کر دیکھ چکا کہ میری ہر عہد شکنی پر تیرا کرم ہے پھر میں کیوں نہ عہد توڑوں۔شعر
چوں طمع خواہد زمن سلطان دین خاک برفرق قناعت بعد ازیں
اس عہد شکنی پر ہزار ہا وفاء عہد قربان ہوجائیں،میں سمجھ گیا کہ میں بدنصیب خلق یعنی دائمی دوزخی نہیں ہوں،میں نصب ور ہوں یعنی مؤمن ہوں ورنہ دوزخ سے نکالا نہ جاتا۔
(مرقات)۲۸؎یعنی اس کی اس عرض پر دریائے کرم جوش میں آجائے گا۔یہاںضحكکے معنی ہنسنا نہیں الله تعالٰی ہنسنے رونے سے پاک ہے۔۲۹؎اس کرم کی ترتیب یہ ہوگی کہ پہلے اسے جنت میں داخلہ کی اجازت دی جاوے گی پھر جب وہ داخل ہوجائے گا تب اسے آرزوئیں کرنے کا حکم ہوگا،جب اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تب رب تعالٰی اس سے خود فرمائے گاکہ بندے یہ بھی مانگ لے۔خیال رہے کہ مانگنے میں ہماری اپنی بندگی کا اظہار ہے رب چاہتا ہے کہ بندہ مجھ سے مانگتا رہے میں دیتا رہوں اور مانگنا سکھاتا ہے پھر دیتا ہے،ہمارا مانگنا بھی اس کی رحمت سے ہے۔شعر
مری طلب بھی تمہارے کرم کا صدقہ ہے قدم یہ اُٹھتے نہیں ہیں اٹھائے جاتے ہیں
۳۰
؎وہ تیری طلب پر تھیں مثل میری عطا و فضل سے اپنی منہ مانگی مرادیں بھی لے اور میرا فضل و کرم بھی لے۔سبحان اﷲ!۳۱∞؎یعنی یہ زیادتی مقدار میں تو اس سے ایک گنا ہوگا مگر کیفیت میں دس گنا لہذا احادیث میں کوئی تعارض نہیں،مقدار اور کیفیت میں بڑا فرق ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5581