Main Icon

باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5605

فتنوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ رَجُلَيْنِ مِمَّنْ دَخَلَ النَّارَ اشْتَدَّ صِيَاحُهُمَا، فَقَالَ الرَّبُّ تَعَالَى: أَخْرِجُوهُمَا. فَقَالَ لَهُمَا: لِأَيِّ شَيْءٍ اشْتَدَّ صِيَاحُكُمَا؟ قَالَا: فَعَلْنَا ذَلِكَ لِتَرْحَمَنَا. قَالَ: فَإِنَّ رَحْمَتِي لَكُمَا أَنْ تَنْطَلِقَا فَتُلْقِيَا أَنْفُسَكُمَا حَيْثُ كُنْتُمَا مِنَ النَّارِ، فَيُلْقِي أَحَدُهُمَا نَفْسَهُ، فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، وَيَقُومُ الآخَرُ فَلَا يُلْقِي نَفْسَهُ، فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ تَعَالَى: مَا مَنَعَكَ أَنْ تُلْقِيَ نفسَكَ كَمَا أَلْقَى صَاحِبُكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ! إِنِّي لأَرْجُو أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا بَعْدَمَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا. فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ تَعَالَى: لَكَ رَجَاؤُكَ. فَيُدْخَلَانِ جَمِيعًا الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أبي هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "إن رجلين ممن دخل النار اشتد صياحهما، فقال الرب تعالى: أخرجوهما. فقال لهما: لأي شيء اشتد صياحكما؟ قالا: فعلنا ذلك لترحمنا. قال: فإن رحمتي لكما أن تنطلقا فتلقيا أنفسكما حيث كنتما من النار، فيلقي أحدهما نفسه، فيجعلها الله عليه بردا وسلاما، ويقوم الآخر فلا يلقي نفسه، فيقول له الرب تعالى: ما منعك أن تلقي نفسك كما ألقى صاحبك؟ فيقول: رب! إني لأرجو أن لا تعيدني فيها بعدما أخرجتني منها. فيقول له الرب تعالى: لك رجاؤك. فيدخلان جميعا الجنة برحمة الله". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو دوزخ میں جاچکے ہوں گے ان میں سے دو کا شوروپکار بہت زیادہ ہوگا تو رب تعالٰی فرمائے گا کہ ان دونوں کو نکالو پھر ان سے فرمائے گا کہ کس مقصد کے لیے تمہارا شور زیادہ ہے ۱∞؎وہ عرض کریں گے کہ ہم نے یہ اس لیے کیا کہ تو ہم پر رحم کرے۲؎فرمائے گا کہ تم پر میری رحمت یہ ہی ہے کہ چلو اپنے کو وہاں ہی ڈال دو جہاں تم دونوں تھے۳؎چنانچہ ان میں سے ایک تو اپنے کو ڈال دے گا تو الله اس پر آگ کو ٹھنڈی سلامتی والی کردے گا ۴؎اور دوسرا کھڑا رہے گا وہ اپنے کو نہ ڈالے گا اس سے رب فرمائے گا کہ تجھے اپنے کو گرانے سے کس چیز نے روکا جیساکہ تیرے ساتھی نے اپنے کو گرادیا ۵؎وہ کہے گا الٰہی میں امید کرتا ہوں کہ تو مجھے وہاں سے نکالنے کے بعد نہ لوٹائے گا ۶؎تو اس سے رب تعالٰی فرمائے گا کہ تیرے لیے تیری امید ہے پھر دونوں الله کی رحمت سے جنت میں داخل کیے جاویں گے ۷؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ دونوں شخص گنہگار مؤمن ہوں گے جو اپنی شامت نفس سے دوزخ میں گئے۔نکالنے کا حکم ان فرشتوں کو ہوگا جو دوزخ پر مقرر ہیں یہ دونوں شخص یا تو آہ و بکا کرتے ہوں گے یا ارحم الراحمین سے فریاد۔۲؎کیونکہ ہم نے سنا تھا کہ زاری پر رحمت باری ہوتی ہے دنیا میں ہم اس سے غافل رہے کہ آج کفارہ کر رہے ہیں۔۳؎میرے اس حکم کی اطاعت کرو یہ اطاعت رحمت کا ذریعہ ہوگی لہذا اس فرمان پر یہ اعتراض نہیں کہ اپنے کو دوزخ میں ڈالنا رحمت کیسے ہوا۔۴؎جیسے دنیا میں نار نمرودی کو حضرت خلیل کے لیے معتدل ٹھنڈا کردیا تھا،سبحان اللهاس کریم کے قہر میں بھی مہر ہے غضب میں بھی کرم ہے۔۵؎یعنی کیا تو نے آج بھی اطاعت سے سرتابی کی دنیا میں میرے فرمانے پر مسجد نہ گیا،آج میرے فرمانے پر دوزخ میں اپنے کو نہ گرایا۔۶؎سبحان الله!∞ کیا پیاری عرض و معروض ہے یعنی الٰہی سرتابی کی میری مجال نہیں امید رحمت نے مجھے یہاں کھڑا رکھا رحم و کرم کا انتظار کررہا ہوں۔غرضکہ عمل اس کے پاس ہے اور امید میرے پاس،کرم فرما تو کریم ہے بخش دے۔۷؎یعنی ایک اطاعت کی وجہ سے دوسرا امید کی وجہ سے رب کی رحمت کے مستحق ہوجائیں گے مگر دونوں جنت میں جائیں گے الله کی رحمت سے"اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیۡنَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5605